Voice of Asia News

جدید دور۔جاہلانہ رسومات اور خواتین:محمد قیصر چوہان

جب خالق کائنات نے حضرت آدم کو جنت ارضی پر اپنا نائب بنا کر بھیجا تو دُنیا کی رونق میں کچھ کمی سی تھی۔ ہر منظر کچھ پھیکا پھیکا سا تھا، سنسان جزیروں اور ویران جنگلوں میں بہار پیدا کرنے کیلئے وجودِ زن کی ضرورت محسوس کی گئی اور پھر وجودِ زن کو کائنات کا حسن بنا کر اِس کے ذرّے ذرّے کو رشک فردوس بنا دیا۔ عورت اپنے ہر روپ میں کائنات کا حسن ہے۔ ایک پیکر وفا اور کائنات کی لطیف ترین ہستی ہے۔ حجاب آلود تبسم،پُر خلوص، ہمدرد اور غمگسار ساتھی ہے۔ عورت کے ہاتھوں میں اُمید ہوتی ہے۔ ایک بیل ہے جو خشک درخت سے لپٹ کر اسے تازگی اور زیست بخشتی ہے۔عورت ہی وہ گل ہے جس سے زندگی صد رشک گلستان ہے۔ وہ پاکیزہ ہستی ہے جو اپنی ذات، اپنی بے لوث حقیقی لگن اور سچی محبت سے گھر کو بہشت بناتی ہے۔ عورت کی تعریف صرف انہی الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عورت تو وہ پاکیزہ ہستی ہے جو ہر رشتے کو مکمل اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔ لیکن کیا عورت کی کہانی اس تمام تعریف کے بعد ختم ہوجاتی ہے ؟نہیں! بلکہ عورت جیسی معتبر ذات تو ہمارے معاشرے کیلئے معمہ بن گئی ہے۔ کہیں پہ عورت مظلومیت کی تصویر بنی ہوئی ہے تو کہیں ستم و زیادتی میں ظالم کا کردار نبھاتی ہے۔ کہیں پہ عورت سلیقہ شعار اور وفا کا پیکر ہے تو کہیں پہ بے وفائی کی مثال بنی ہوئی ہے۔ کہیں پہ عورت محبت اور ہمدردی کے جذبات کا مجسمہ بنی ہے تو کہیں حسد،نفرت وغصّے کی آگ میں جھلس رہی ہے۔ کہیں عورت ذات رشتوں کی پاسداری اور نباہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتی تو کہیں پہ یہی عورت بسے بسائے گھروں اور رشتوں میں دراڑ ڈالتی ہے۔ کہیں پہ عورت کا سراپا نزول رحمت کا موجب ہے تو کہیں پہ یہی وجودِ زن زحمت ہے۔ عورت کی ذات کے یہی دو مختلف پہلو نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اگرعورت کی تصویر میں مظلومیت کا رْخ دیکھا جائے تو خواتین کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک میں مرد و عورت دونوں کا ہاتھ ہے۔ اگرعورت ایک ماں ہے تواس کی کمزوری (اُولاد)کا ناجائز فائدہ اٹھا کر معاشرہ اس کے ساتھ ایسا جاہلانہ رویہ اپناتا ہے جیسے زمانہ عرب میں ظہور اسلام سے پہلے عورتوں کے ساتھ برتاؤکیا جاتا تھا۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر اس پر دھونس جماکر ہر جائز و نا جائز مطالبہ منواتا ہے جیسے وہ اسکی وراثتی ملکیت ہو۔ اگر بیٹی ہے تو جائیدادو برادری کے مسائل اور انا کی خاطر بیٹیوں کی قربانی کا رواج قائم ہو چکا ہے۔ بعض قبائلی اور دیہاتی علاقوں میں مردوں کے کردہ گناہوں کی سزا گھر کی عورتوں کو ونی ہونے کی صورت میں بھگتنی پڑتی ہے جس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔ اگر عورت بہن ہے تو بھائی کی غیرت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ الغرض ہر حال میں عورت کو ہی قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔
اگر معاشرے میں عورت کی اور بھی بھیانک تصویر دیکھی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اگر مرد عورت پر اپنے ظلم و ستم کی انتہا کرتا ہے تو دوسری طرف عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ جس کی عام مثالیں ہمارے معاشرے میں ملتی ہیں۔ کسی لڑکی کا رشتہ دیکھنے کی بات ہو تو لڑکی کے نین نقش، شکل و صورت،رنگت،قد و جسامت،حسن و آ رائش، لباس اور بول چال سے لے کراس کی تعلیم و تربیت اور نوکری کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے اور انہی چند لمحات میں لڑکی کے کردار اور اس کے پورے خاندان کے بارے میں بغیر کچھ جانے مستقل رائے قائم کرلی جاتی ہے گویا رشتہ نہیں فرشتہ دیکھنے آئے ہوں۔ لڑکی میں تمام تر خوبیاں ہونے کے باوجود اس میں عیب نکالنا اور بار بار ماڈل پیس کے طور پر پیش کرنا ایسی روایت بن چکا ہے کہ جیسے اس لڑکی کے سینے میں دل نام کی کوئی شے ہی نہ ہو۔لڑکی کارشتہ ابھی تک کیوں نہیں ہوا؟ اتنی عمر ہوگئی ہے۔ داماد کی آمدن بہت کم ہے۔ دلہن کی عمر دولہے سے زیادہ لگتی ہے۔ ارے ! بیوی تو اس کے آگے امّاں لگتی ہے۔ جہیزمیں کیالائی؟ کچھ خاص شکل و صورت نہیں ہے لڑکی کی۔ شادی میں کھانا عمدہ نہیں تھا۔ ارے ! لڑکی والوں نے تو لڑکی کے سسرال کا بھی لحاظ نہیں کیا اور مینو میں ڈشز اتنی کم رکھی ہیں۔ دلہن کی بہنوں کے چال چلن ٹھیک معلوم نہیں ہوتے یعنی اچھے کردار کی نہیں لگتیں یہ ایسی ہیں تو دلہن کیسی ہوگی۔ لڑکی کی نوکری سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟ کتنی تنخواہ لیتی ہے؟ یہاں شادی کو ایک سال مکمل ہوتا ہے کہ بہو کو طعنے دیے جانے لگتے ہیں۔ ارے ! کہیں بانجھ تو نہیں۔ اتنا عرصہ ہوگیا شادی کو ابھی تک اولاد کی خوشخبری نہیں ملی۔ بیٹی پیدا ہوجائے تو بہو سے ناراضگی، سخت رویہ اور اگر بیٹیاں ہی ہوں تو ماں کو ہی منحوس کہا جاتا ہے۔ گویا بیٹیاں رحمت نہیں زحمت ہیں اور بیچاری لڑکی ساری زندگی سسرال شوہر اور دنیا والوں سے بیٹیاں جننے کے طعنے سنتی ہے۔ اس قسم کے جملے اورچبھتے الفاظ ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔ ہر فرد کی زبان سے یہ کلمات ایسے نکلتے ہیں جیسے یہ کوئی مذہبی فریضہ ہو اور اس میں ثواب کمانے میں سب پیش پیش رہتے ہیں۔ عورت کا ذرا سا بناؤ سنگھار اور خود مختار ہونا فوراً اسے معاشرے کی نظر میں مشکوک کردار ثابت کر دیتا ہے۔
عورت کی ذات کا دوسرا پہلو اس کے بالکل بر عکس ہے۔ جس میں عورت بچپن سے لے کر جوانی تک شرم و حیا کا پیکر بنی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کیلئے جیتی ہے۔ گھر کی زینت اور رونق کا سر و سامان اسی کے دم سے ہوتا ہے لیکن اپنے والدین ہی کی خاطر اپنے پیار ے بچپن کے ساتھی، گھر،اپنے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت سے دور اپنا ایک الگ گھر بسا لیتی ہے۔ جہاں اسے ساری زندگی بسر کرنا ہوتی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے آخری سانس تک محبت اور وفا نبھاتی ہے۔ سسرال کی خدمت کرتی ہے رشتوں کی بقا ء کیلئے ہر طرح کی قربانی دیتی ہے، اولاد کے سکھ کیلئے ہر طرح کی تکلیف سہتی ہے۔ جوانی سے بڑ ھاپے تک اپنے شوہر اور اولاد کے لیے جینے والی اگر یہ عورت اپنے آپ پر ایک نظر دوڑائے تو اسے معلوم ہو کہ اس کا وجود اس کائنات کیلئے کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہر رشتہ ادھورا اور بے معنی ہے۔
بے علمی، خوف، مصلحت، منافقت، مفادات، خوشامد انسانی غلامی کی زنجیر کی مضبوط کڑیاں ہیں جس میں انسان بری طرح جکڑا ہوا ہے ۔جدید دور کا انسان پستی اور تباہی کی اس انتہا کو پہنچ چکا ہے کہ سچ سننے کا حوصلہ بھی کھو چکا ہے بلکہ اس کی بلاوجہ مخالفت کو فرض عین سمجھ بیٹھا ہے۔ کڑوے سچ کی جگہ میٹھا جھوٹ اس کی مرغوب غذا بن چکی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر سماج میں جہاں خاندانی نظام، سماجی اقدار، رسم و روایات، مذہب کی غلط تشریح و ترویج، بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی، پولیس، تھانے اور نظام انصاف، سب مل کر دباؤکی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ عورتوں کے پاس متبادل راستے نہیں۔ پاکستان میں عورتوں کے خودکشی کے رجحانات میں تیزی آرہی ہے جس کے اہم اسباب میں نفسیاتی، جنسی و جسمانی تشدد، غربت، تحقیر و تذلیل، عصمت دری کے ہونے یا اس کا خوف سرفہرست ہیں۔اسی طرح معاشی اور اقتصادی استحصال بھی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ملنا، اپنی کمائی یا آمدنی پر اپنا اختیار نہ ہونا، زمین و جائیداد سے محرومی، معاشی و اقتصادی استحصال کہلاتا ہے۔ طبقاتی نظام زندگی نے یوں تو انسانی آبادی کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا مگر عورتوں کی زبوں حالی زیادہ ہے۔ کم و بیش ہر اس طبقے میں عورت کا معاشی استحصال ہوتا ہے جہاں عورتیں مکمل طور پر مردوں پر انحصار کرتی ہیں۔پاکستان میں خواتین کو کاروکاری ،سورایا ونی ،سام، قرآن سے شادی ،پیر کی اُونٹنی سمیت دیگر فضول رسومات کے نام پر زلیل ورسوا کیا جاتا ہے۔
دین اسلام فطرت انسانی کا مظہر ہے ، جس کی تعلیمات کے مظابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں۔ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے سب انسان اُولاد آدمؑ ہیں۔اس لحاظ سے اسلام میں جنس کی بنیاد پر عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں۔اللہ کے نزدیک دونوں ہی اس کی مخلوق ہیں،اسلام میں عمل اور اجر میں مرد و عورت مساوی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں واضح کر دیا گیا ’’ مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ اور (دونوں ) اللہ سے اس کا فضل مانگو ‘‘قر آن و حدیث میں کثیر تعداد میں ایسے احکام و فرامین موجود ہیں جنسے اسلام میں عورت کے مقام ،مرتبہ ،اہمیت اور اس کے حقوق کا تعین ہوتا ہے یہ واحدمذہب ہے جس نے عورت کو زلت و پستی سے نکال کر شرف انسانیت بخشا جبکہ دیگر مذاہب میں عورت کو زلت ،رسوائی وتحقیر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اہل ہنود میں تو خاوند کی موت کے ساتھ عورت کو بھی ستی کردیا جاتا تھایعنی اسے بھی زندہ جلا دیا جاتا تھا۔جبکہ دور جاہلیت میں لڑکی پیدا ہونے پر اسے زندہ در گو ر کر دیا جاتا تھا۔اسلام نے اس زلت و رسوائی سے عورت کو نجات دلائی اور اسے زندہ رہنے کا حق دیا۔اسلام نے معاشرے میں عورت کے حقوق ،فرائض ودیگر مسائل کیلئے قرآن پاک کی سورۃ النسا میں تفصیلی احکام دئیے ہیں جس میں نکاح ،طلاق ،خلع،وراثت ودیگر صنفی مسائل میں رہنمائی کی گئی ہے۔عورت کی عزت وعصمت کی حفاظت کیلئے حجاب (پردہ) کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں پاکیزگی و اخلاقی اقدار بر قرار رہیں۔مغربی معاشرے میں آزادی نسواں و مساوات مردوزن کے نعرے کے تحت عورتوں کا استحصال جاری ہے جبکہ دین اسلام نے عورت کو ماں ،بہن ، بیٹی ،بیوی اور بہو کے انتہائی قابل عزت واحترام درجے اور بلند مقام ومرتبہ عطاء کیا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی انتہائی سطح کو چھو رہی ہے۔ عورتوں کا بدترین استحصال جاری ہے۔ اسے جبری شادی کرنے پر مجبور اور اپنی جائیداد سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ مردوں کے اس سماج میں عورت کی تذلیل اسے بازاروں میں برہنہ گھما کر کی جاتی ہے۔ وہ تیزاب گردی کا شکار ہے۔ انہیں جبری زیادتی کے بعد بازاروں میں بے لباس گھما کر بھنگڑے ڈالنا غیرت بن گیا ہے۔ عورتوں کو ان کی مرضی کے خلاف وٹہ سٹہ یعنی ادلے بدلے کی شادی کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ معاشی حالات کی ابتری کی وجہ سے وہ امیر بوڑھوں کے شادی کرنے پر جبرا مجبور کیا جاتی ہے۔ بچپن کی شادیاں بھی اس کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں۔ دوسری جانب ہمارے ہاں نفسیاتی تشدد کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دینا چاہیے۔ ذہنی یا نفسیاتی تشدد میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ ہر وہ عمل جس سے ذہنی اذیت، کوفت، خوف یا انتشار پیدا ہو، عورتوں سے بدکلامی، انھیں بے عزت کرنا، دھتکارنا، بیٹے اور بیٹیوں میں امتیاز جس سے لڑکیوں کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہو، گالم گلوچ، قریبی رشتوں کی طرف سے جسمانی، جنسی تشدد یا اس کا خوف، کام کی جگہوں پر ہراساں کرنا، شادی شدہ عورتوں کو جائیداد کے حقوق اور ملکیت سے محروم کرنا، دھمکانا، شوہر کی طرف سے گھر سے نکال دیے جانے، طلاق دینے، بچے چھین لینے کی دھمکی یا خوف، مسلسل ذہنی اذیت دینا، سماجی تعلقات منقطع کرنا یا عورتوں کو گھروں میں مقید کرنا یا عام میل جول پر پابندی، نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔مذکورہ بالا صورتوں کا سامنا خواتین کو کسی نہ کسی صورت رہتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print