Voice of Asia News

عالمی یوم خواتین، 20 سالوں میں ،667 کشمیری خواتین شہید

سری نگر(وائس آف ایشیا) عالمی یوم خواتین کے موقع پر ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں جنوری 2001 سے اب تک667 کشمیری خواتین شہید ہو گئی ہیں۔ جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجی کارروائیوں کے دوران22,899 خواتین بیوہ ہو گئیں ہیں اس دوران بھارتی فوج نے 11,113 کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی۔ ریاستی اخبار کے مطابق جموں وکشمیر میں بنت حوا کا لہو مسلسل سرزمین کشمیر کو سرخ کر رہا ہے۔ ۔مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ سال در سال خواتین کی ہلاکتوں کے گراف میں اضافہ بھی ہو رہا ہے،اور خون میں غلطان وادی میں صنف نازک کا لہو بھی خاک میں مل رہا ہے۔ وادی میں گزشتہ ایک برس کے دوران109 شہریوں کی جانیں،مختلف تشدد آمیز واقعات میں تلف ہوئیں،جن میں7خواتین بھی شامل ہیں،جبکہ بیسوں زخمی بھی ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام خواتین جنوبی کشمیر میں جان بحق ہوئیں ۔24جنوری کوشوپیاں کے چھی گنڈ علاقے میں فائرنگ کے دوران زخمی ہونے والی سائمہ وانی 10فروری کو 15روز بعدزخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ ۔جنوبی ضلع کولگام کے ہاؤرہ مشی پورہ میں7جولائی کو فو رسزکی فائرنگ سے کمسن طالبہ عندلیب جان جان بحق ہوئی۔19اکتوبر شام کو پلوامہ کے شادی مرگ میں دردزہ میں مبتلا ایک خاتون فردوسی زوجہ خورشید احمد شیخ کراس فائرنگ کے دوران جان بحق ہوئی۔ 17اگست کو دربگام پلوامہ میں 38سالہ خاتون شمیمہ زوجہ علی محمد ساکن کوئیل کو نزدیک سے گولیاں مار کر ابدی نیند سلادیا ۔۔معروف سیول سوسائٹی کارکن اور کشمیر سوشیل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈئز کی سربراہ پروفیسر حمیدہ نعیم کا کہنا ہے کہ صنف نازک کو دانستہ طور پر ایندھن بنایا جاتا ہے۔حمیدہ نعیم کا کہنا ہے کہ وادی میں خواتین کو جنگی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے قوم کی عزت کے ساتھ وہ کیا کر سکتے ہیں۔حمیدہ نعیم نے بتایا نوآبادیاتی نظام میں اس طرح کے حربے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ بیرون ریاست خواتین کے چھوٹے چھوٹے معاملات پر آسمان بلند کرنے والی اور حقوق خواتین پر بات کرنی والی خواتین کارکنوں نے کشمیری صنف نازک پر زیادتیوں پر خاموشی اختیار کر رہی ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے