Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں1989سے اب تک ہزاروں خواتین کو قتل اور انکی بے حرمتی کی گئی

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) دنیا بھر میں جمعہ کو خواتین کا عالمی دن منایاگیا تاہم مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیر ی خواتین پر ظلم و جبر کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اوروہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95,316شہریوں کو شہید کیا۔8جولائی 2016کو معروف نوجوان رہنماء برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد سے جاری عوامی انتفادہ میں سینکڑوں کشمیری نوجوان ، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں اورپیلٹ گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں۔ان زخمیوں میں سے انشا مشتاق اور عفرہ شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہو ئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حریت رہنماؤں آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت متعدد خواتین غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ انہیں صرف کشمیریوں کی خواہشات کی نمائندگی کرنے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ جنوری 1989ء سے اب تک جاری ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 22,899 خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,113خواتین کی بے حرمتیاں کیں جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی بے حرمتی اور شوپیاں میں دوہرے بے حرمتی اور قتل سے متاثرہ خواتین بھی شامل ہیں جبکہ بھارتی پولیس اہلکاروں نے گزشتہ سال کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوں کو حراست کے دوران لاپتہ اورقتل کر دیا ہے۔دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ30برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیاگیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ کشمیری مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی گھر واپسی کی منتظر ہیں جبکہ ہزاروں خواتین اپنے لاپتہ شوہروں کی راہ تک رہی ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •