Voice of Asia News

انڈیا ، اسرائیل اور امریکا کاگٹھ جوڑ:محمد قیصر چوہان

مقبوضہ کشمیر اور فلسطین سمیت دُنیا بھرکے نہتے مسلمانوں کے خلاف انسانیت کْش اور اسلام و مسلم دُشمن طاقتیں اسرائیل ،ہندوستان اور امریکا جو درندگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس پر انہیں دہشت گردی کے عالمی چمپئن کہا جا سکتا ہے۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیرسمیت دُنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کو خون میں نہلا کر یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب، مسلمان اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں، باعمل ہوں یا بے عمل،دُنیا کے ہرخطے میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جنگ تیز کردی گئی ہے۔ مسلمانوں کو کھل کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ تو اْس وقت سے موجود ہے جب اقوام متحدہ کے نام سے ایک عالمی ادارہ قائم کیا گیا تھا، اور اس دعوے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ دُنیا میں امن کا دور آگیا ہے، جنگوں کا دور ختم ہوگیا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ یہ ادارہ پانچ عالمی طاقتوں کی مصلحت کا پابند ہے۔ مسئلہ کشمیر اوّل دن سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے، اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرارداد کے مطابق رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ انہی عالمی طاقتوں نے فلسطین کی سرزمین پر یورپ سے صہیونی یہودیوں کو لاکر آباد کیا ہے اور ایک ناجائز ریاست قائم کی ہے۔ امریکی اور یورپی طاقتوں کی سرپرستی کی وجہ سے اسرائیل کی فوج اور حکومت نے اپنے بے بس شہریوں کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے۔ وہ عالمی طاقتیں اور ادارے جنہوں نے دہشت گردی کو سب سے بڑا عالمی مسئلہ بنایا ہوا ہے انہوں نے ظالم اور غاصب حکومتوں کو اپنے ہی شہریوں کا قتلِ عام کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے، صرف اجازت ہی نہیں دی ہے بلکہ مکمل سر پرستی کی جا رہی ہے۔ کسی بھی ملک میں مسلمانوں کو سکون سے جینے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام مسلمان حکومتیں اپنے اقتدار کیلئے عالمی طاقتوں کی محتاج ہیں۔ جس طرح شام، لیبیا اور یمن میں آمریتوں کے خلاف عوامی سیاسی تحریک کو خانہ جنگی میں تبدیل کیا گیا ہے، اس میں مدد مسلم حکمرانوں نے کی ہے۔ اب تو امریکا اور ہندوستان میں ٹرمپ اور مودی جیسے حکمران سامنے آگئے ہیں جو کھل کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی کا اعلان کررہے ہیں، لیکن کسی بھی مسلمان حکومت کی جانب سے کسی قسم کی بھی عملی مزاحمت نظر نہیں آرہی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا معمولی سی بھی مزاحمت کرنے والے حکمرانوں کو نشانِ عبرت بنادیتا ہے۔ لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ صرف مزاحمت میں ہی زندگی ہے، اس لیے کہ اصل قوت و طاقت رب العالمین کے پاس ہے۔ کسی فرعون اور نمرود کو مستقل اقتدار اور حکومت نہیں دی گئی۔ مسلم حکمران امریکا اور یورپ کی طاقتوں سے براہِ راست رابطہ رکھنے کی وجہ سے اْن کے مسلم دشمن اور اسلام دشمن ایجنڈے سے واقف ہیں لیکن وہ اپنا کردار ادا نہیں کررہے، اس لیے خونِ مسلم کی ارزانی کے اصل ذمے دار بھی وہی ہیں۔
امریکا کے تبدیل ہوتے ہوئے ورلڈ آرڈر میں بھارت بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔حالانکہ امریکا کے وہ فوجی حکام جنہیں بھارت کے ساتھ فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کا فرض سونپا گیا ہے، وہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے دو ہندوستانی طیارے تباہ کرنے اور ایک پائلٹ کی گرفتاری کے بعد ہندوستانی افواج کی صورتِ حال پر سخت پریشانی کا اظہار کرچکے ہیں۔ چونکہ عالمی سرمایہ داری کا مرکز یورپ اور امریکا سے ایشیا منتقل ہوچکا ہے اور دُنیا بھر کی حکومتوں اور فوجوں کا فرض ہے کہ وہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت کریں، لیکن بدلتی عالمی صورتِ حال نے امریکی یونی ورلڈ کو تبدیل کردیا ہے اور چین امریکا تجارتی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ اس لیے چین کی بالادستی روکنے کیلئے بھارت کو خصوصی کردار دیا گیا ہے۔بھارت کی کمزوریوں کے باوجود اس کی اہمیت برقرار ہے۔بہت جلد بھارت دنیا بھر میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا، ممکنہ طور پر اس کی آبادی 2024ء تک چین سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔ چین کے مغربی اور جنوبی حصے میں بھارت، چین سرحد بہت طویل ہے، یہی نہیں بلکہ علاقے کے سمندری پانی کے بڑے حصے پر بھی بھارت کا کنٹرول ہے، یہ سمندر کے وہ علاقے ہیں جو بحری تجارت کیلئے چین کی ضرورت ہیں۔بھارت کا محلِ وقوع، اس کی آبادی اور مستقبل میں بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت وہ عوامل ہیں جن کی بنا پر امریکا مستقبل کے حوالے سے بھارت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ وقت کے ساتھ چین ابھرتا جارہا ہے، چین کے اثر رسوخ کو محدود کرنے کیلئے امریکا کو خطے میں ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جس کی مدد سے علاقے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جاسکے، ایسا ملک بھارت کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ امریکا اس بات کو پوری طرح سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض شواہد کے مطابق امریکہ بھارت کی فوج کی ناقابلِ اطمینان صورتِ حال کے باوجود یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس پر صبر و تحمل کا مظاہرہ جاری رکھا جائے، کیونکہ بھارتی فوج کی مالی ضروریات کو پورا کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔امریکاکے وہ فوجی حکام جنہیں بھارت کے ساتھ فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کا فرض سونپا گیا ہے، بھارتی فوج کی صورتِ حال پر سخت پریشانی کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود امریکا یہ پختہ ارادہ کرچکا ہے کہ وہ آئندہ بھی اس خطے میں بھارت کو اپنا کلیدی اتحادی سمجھتا رہے گا، امریکا اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہے کہ وہ خطے میں چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو روکنے اور بقول اْس کے چین کے ’’توسیع پسندانہ عزائم‘‘ کی روک تھام کیلئے آئندہ بھی بھارت پر انحصار کرتا رہے گا۔
ہندوستان کی کمزوریوں کے باوجود امریکا اس کو اپنا اتحادی رکھے گا۔ بھارت نے ایک ایسے وقت میں ’’ناکام‘‘ جنگی مہم جوئی کی ہے جب پاکستان کے تعاون سے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوچکے ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ امریکا ’’مذاکرات‘‘ سے بھی اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے اْس نے پاکستان پر الزام تراشی فی الحال روک دی ہے۔ اس لیے اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی عالمی سازش ہو۔ اس وجہ سے امریکا کی نظر میں ہندوستان کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ بھارت کے جنگی جنون میں اسرائیل کی شمولیت کی تصدیق پاکستان کے حکومتی ذرائع نے بھی کردی ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ’’امریکی وار آن ٹیرر‘‘ کا تعلق دہشت گردی کے خاتمے سے نہیں، بلکہ عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے وسائل پر قبضے سے ہے، جس کیلئے اسرائیل کو خطے کا پولیس مین بنایا جاچکا ہے اور وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ہندوستان کو پولیس مین بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہندوستان نے 1950 میں اسرائیل کو تسلیم کیا ۔اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ دونوں ممالک کی دوستی کی بنیاد مسلمان دُشمنی پر مبنی ہے۔ 1962 میں چین اور 1965 میں پاکستان کے ساتھ جنگ میں ہندوستان کو اسرائیل نے بھر پور کیا تھا، ہندوستان اسرائیل دفاعی تعاون 1960 کی دہائی میں ہونے والی جنگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پابندیاں عائد ہوئیں تب بھی اسرائیل ہندوستان کو دفاعی سامان مہیا کرتا رہا۔ کارگل جنگ میں بھی اسرائیل نے پاک فوج کی پوزیشنز کی سیٹلائٹ تصاویر ہندوستان کو مہیا کیں، گزشتہ برسوں ہندوستان نے اسرائیل سے ایسے حساس رڈار حاصل کیے جو گھنے جنگل میں بھی انسانوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلا سکتے ہیں، یہ رڈار لائن آف کنٹرول پر نصب کیے گئے۔اس کے علاوہ ہندوستان اسرائیل سے میزائل دفائی نظام، اواکس طیارے خرید چکا ہے، دونوں ملکوں نے کئی مشترکہ دفاعی منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور ہندوستانی میزائل پروگرام میں اسرائیل کی ایرواسپیس انڈسٹریز تعاون کر رہی ہے۔ہندوستان کے اسرائیل سے تعلقات اس قدر گہرے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارتی حجم دس ارب ڈالر کے قریب ہے۔تجارت سے ہٹ کر دونوں ملکوں کے تعلقات بنیادی طور پر دفاعی شعبے میں ہیں، سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد ہندوستان نے محسوس کیا کہ اس کے پاس موجود روسی اسلحہ اب جدید جنگی تقاضوں کے مطابق نہیں، دوسری طرف اسرائیل کی دفاعی صنعت بھی جدید لڑاکا طیاروں، ٹینکوں اور بحری جہازوں کی تیاری میں قدم بڑھا رہی تھی۔ یہی موقعہ تھا جب دونوں ملکوں نے پس پردہ وسیع فوجی تعاون کو فروغ دیا۔ہندوستان کے اسرائیل کے ساتھ گہرے دفاعی تعلقات ہیں۔ ہندوستان اسرائیل دفاعی تعاون کا تخمینہ اربوں ڈالرز میں ہے۔ اسرائیل کا شمار ہندوستان کو اسلحہ فراہم کرنے والے تین بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ہندوستان کا ایک طویل عرصے تک روسی ہتھیاروں کے حوالے سے جنوبی ایشیا میں اجارہ تھا ۔ہندوستانی فوج، جس کا بڑا انحصار روسی ساختہ اسلحہ پر تھا۔پاکستان اور روس کے درمیان دفاعی تعاون کے آغاز پونے پر ہند وستان پریشان ہے ۔ اسی لئے اب ہندوستان کیلئے ہتھیاروں کی بڑی مارکیٹ امریکااور سرائیل بن چکی ہے،حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد اب ہندوستان کے امن اور مسلم دُشمن حکمران اسلحہ کے مزید ڈھیرلگائیں گے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print