Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر‘ لاپتہ افراد کے لواحقین کا سرینگر میں احتجاجی دھرنا

سرینگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کے والدین کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنزنے سرینگر میں احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے اپنی اولاد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ایسو ایشن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ گزشتہ کٹھ پتلی حکومتوں نے جبری گمشدگیوں کو تسلیم ہی نہیں کیا اور اس حوالے سے کشمیر اور جموں میں موجوداجتماعی قبروں سمیت کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ایسوسی ایشن نے 1990ء سے لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں معلوم فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم جبری گمشدگیوں کے حوالے سے عالمی کنونشن کی توثیق چاہتے ہیں تاکہ ایسے حالات اور خصوصی نوعیت کا تعین کرنے میں مدد مل سکے جن میں یہ جرائم انجام دیے جارہے ہیں اورجبری گمشدگی کے نتیجے میں پامال ہونے والے حقوق کو مزید واضح کیاجاسکے۔بھارتی فوجیوں نے 1990ء سے دس ہزار کے قریب کشمیریوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا ہے جن کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی کہ آیا وہ زندہ ہیں یا انہیں شہید کردیاگیا ہے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کو خدشہ ہے کہ ان کے پیاروں کو شہید کرکے منظر عام پر آنے نہ آنے والی اجتماعی قبردں میں دفنا دیا گیا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •