Voice of Asia News

عمران خان کے خلاف نااہلی کی سماعت کرنے والابنچ تحلیل

لاہور (وائس آف ایشیا) لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کے خلاف نااہلی کی سماعت ہوئی۔جسٹس مامون الرشید شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔عمران خان کے خلاف نااہلی کی سماعت کرنے والا بنچ تحلیل ہو گیا ہے۔بنچ کے رکن جسٹس شاہد وحید نے کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی اور کہا کہ اسی نوعیت کے کیس کی سماعت کر چکا ہوں اس لیے سماعت نہیں کر سکتا۔جسٹس مامون الرشید شیخ نے نئے بنچ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے۔د رخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انگلینڈ کی عدالت ٹیر وائٹ کو عمران خان کی بیٹی قرار دے چکی ہے مگر عمران خان نیازی نے ٹیرن وائٹ کو اپنی بیٹی ماننے سے انکار کیا، عمران خان نیازی نے کاغذات نامزدگی میں اپنی ٹیرن وائٹ ذکر نہیں کیا، عمران خان نیازی آئین کے آرٹیکل 62،63 پر پورا نہیں اترتے ہیں۔معزز عدالت سے استدعا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو نا اہل قرار دیا جائے۔اس سے قبل بھی عمران خان کے خلاف حافظ احتشام نے نااہلی کی درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف کے دور حکومت میں عمران خان نے سول نافرمانی کے لیے لوگوں کو اکسایا. درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے لوگوں کو اکسایا تھا کہ وہ ٹیکس ادا نہ کریں اور بیرون ممالک سے رقوم بھی نہ بھیجیں جبکہ عمران خان نے حامیوں سمیت پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولا اور اور گیٹ توڑے. عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان نے ملکی سالمیت کے خلاف اقدامات کیے ہیں، انہوں نے ملکی سیاسی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کی. درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ وزیراعظم عمران خان کو آرٹیکل 62 ون جی کے تحت نا اہل قرار دے اور اس کے ساتھ یہ استدعا بھی کی گئی کہ عدالت عمران خان کے خلاف 124 اے کے تحت کارروائی کا حکم بھی جاری کرے تاہم 21 جنوری 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی نا اہلی سے متعلق ایک درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ آئندہ ایسی درخواست کی گئی تو جرمانہ کریں گے. مذکورہ درخواست حافظ احتشام کی جانب سے عمران خان کی نااہلی کے لیے جولائی 2018 کے انتخابات سے پہلیاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے