Voice of Asia News

نفرت آمیز مواد:حسنین جمیل

ہمارے دوست لاہور پریس کلب کے سابق صدر محمد شہباز میاں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ہے۔ بے شک نصابی کتب میں جب روز اول سے ہی ہندوؤں اور بت پرستوں سے نفرت کرنا سکھایا جائے گا پھر فیاض الحسن چوہان ہی پیدا ہونا ہیں مولانا ابوالکلام آزاد نہیں ۔ یہ ایک شاندار پیراگراف ہے۔ چند الفاظ کے اندر شہباز میاں نے کوزے میں دریا بند کر دیا ہے اور ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے آخر ہم 70سال سے اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور فیاض الحسن چوہان دونوں ہی سیاست کار تھے بلکہ آزاد سیاست دان تھے جبکہ چوہان سیاست کار۔ آزاد نے ساری زندگی کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست کی وہ کانگریس کے صدر بھی رہے اور 1947ء کی آزادی کے بعد ان کو وزیراعظم پنڈت جوہر لعل نہرو نے بھارت کا وزیرتعلیم بنایا۔ ایک ہندو اکثریت والے ملک میں مسلمان کو وزیر تعلیم بنانا بلاشبہ پنڈت جواہر لعل نہرو کا ہی خاصا تھا۔ آزاد نہ صرف سیاست دان تھے بلکہ ادیب اور شاعر بھی تھے۔ ان کی کتاب ’’بھارت آزادی کی راہ پر‘‘ اور ’’غبارِ خاطر‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔
وہ موسیقی کے بھی رسیا تھے۔ فیاض الحسن نے اپنا سیاسی کیریئر جمعیت سے شروع کیا۔ مسلم لیگ قاف سے ہوتے ہوتے تحریک انصاف میں آ گئے۔ 2018ء میں جب الیکشن ہوئے تحریک انصاف نے پنجاب کے سیاسی پانی پت کی لڑائی میں مسلم لیگ نون کو ہرایا جو ایک بہت بڑا کارنامہ تھا کیونکہ نون لیگ 10 سال سے پنجاب میں برسراقتدار تھی۔ فیاض الحسن چوہان راولپنڈی سے الیکشن جیت کر پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ ان کو وزیراطلاعات و ثقافت لگایا گیا۔ بظاہر وہ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں اور پنجاب یونیورسٹی کے ماسٹر ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں ثقافت جسے شعبے کے لیے بالکل موزوں نہیں جہاں تک بات اطلاعات ونشریات کی تھی تو آپ ان کے اردگرد مسلم لیگ نون ، پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کے سیکرٹری اطلاعات دیکھیے وہ بھی چوہان جیسے ہی نظر آتے ہیں۔ پچھلے دس سال مسلم لیگ نون کی پنجاب حکومت کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ صاحب کیا سقراط تھے۔ بس چوہان بھی ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب ترین تھے۔ یہ ہمارا سماجی زوال ہے جب ہمیں ایسے سیاست کار ملتے ہیں کیونکہ ہم خود ایسے ہیں۔ جب سماج ایسا رہے گا اس کو لیڈر بھی رانا ثنا اللہ اور چوہان جیسے ملیں گے۔
میں نے ہمیشہ تحریک انصاف کی حمایت اس لیے کی ہے اس نے دو سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری توڑی۔ میں ہمیشہ تیسری قوت کے ہونے کا حمایتی رہا ہوں، میں یہ کبھی نہیں چاہوں گا کہ تحریک انصاف کو بھی کھلا میدان ملے ،اس طرح سیاسی جماعت متوازن نہیں رہتی، ان پر تنقید ہونا بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تاریخ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں ملتا۔ میرے خیال میں یہ بھی ایک غیرموزوں تقریر تھی کپتان نے الفاظ کا درست چناؤ نہیں کیا تھا۔تاریخ کی تقسیم ہی یسوع مسیح کے نام پر ہوتی ہے جیسے قبل از مسیح اور بعداز مسیح۔ کپتان کو دوران تقریر درست الفاظ کا چناؤ کرنا چاہیے مگر چوہان نے تو حد کر دی ہندوؤں کے بارے میں نہایت گھٹیا قسم کی زبان استعمال کی۔ ہندومت کو تمام مذاہب کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے قدیم ترین اور پرانا مذہب ہے۔ ہندومت کے بعد جین مت، بدھ مت آئے پھر یہودیت، عیسائیت ،اسلام آئے اور آخر میں سکھ مت آیا۔ تمام مذاہب کی تکریم ہم پر فرض ہے۔ جناب حسن نثار نے کیا خوب لکھا ہے اگر پاکستان میں ایک بھی ہندو نہ ہوتا میں پھر بھی ہندومت کی عزت کرتا۔
ہمارے تعلیمی نصاب میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم عمران خان جو یکساں نصاب تعلیم کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آئے ہیں ان کے وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مرادراس نے یکساں نصاب تعلیم بنانے پر کام بھی شروع کر رکھاہے۔ پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر مرادراس نے ایوان کو بتایا بھی ہے کہ وہ ایک سال میں یکساں نصاب تعلیم لاگو کر رہے ہیں۔ میری وزیر تعلیم سے یہی گزارش ہے کہ خدارا نصاب تعلیم میں دوسرے مذاہب کے بارے میں جو نفرت انگیز مواد موجود ہے اس کو فوری طور پر نصاب سے نکالا جائے کیونکہ ہمارے ہاں مطالعے کا رواج نہیں ہے، لائبریری جانے کا کلچر نہیں ہے۔ ہماری نسل غیر جانبدار تاریخ، ادب اور عمرانیات کا مطالعہ نہیں کرتی صرف اور صرف نصاب پڑھ کر ڈگریاں حاصل کرتی ہے۔ نوکریاں کرتی ہے اگر سیاست میں آ جائے تو چوہان اور رانا ثنا اللہ اور شرجیل میمن پیدا کرتی ہے۔ وزیرتعلیم صاحب آپ یکساں نصاب تعلیم لاگو کرنے کے حوالے سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں مگر خدا کے واسطے نصاب میں نفرت انگیز مواد ختم کرنے کے حوالے سے بھی کام کریں۔ سرکاری سطح پر کمیٹی بنائیں جو اس نکتے پر کام کرے۔ اگر کسی قسم کی مدد چاہیے تو کچھ این جی اوز نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے۔پیٹرجیکب صاحب نے اس کام میں خاصی تحقیق کی ہے اور باقاعدہ ایک ریسرچ پیپر تیار کیا ہے جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کن مضامین کی کتابوں میں دوسرے مذاہب کے خلاف توہین آمیز اور نفرت آمیز مواد موجود ہے۔ یہ مواد صرف پنجاب کے نصاب میں نہیں بلکہ سندھ، خیبرپختونخواہ ، بلوچستان ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں ہر جگہ موجود ہے اگر ان نکات پر کام نہ کیا گیا تو سماج میں سے نفرت ختم نہیں ہو گی۔ اپنے کو سب سے افضل دوسروں کو حقیر سمجھنے کی روش برقرار رہے گی۔ مذہبی رواداری کا فروغ نہیں دیا جائے گا تو ہم سماج سے مذہبی جنونیت کو کیسے ختم کریں گے۔ میں تحریک انصاف کی حکومت سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس کام کا آغاز کرے کیونکہ آپ چوہان کی صورت میں ایک بُرا تجربہ دیکھ چکے ہیں۔ آیئے کوشش کریں کہ ہم بھی آنے والی نسلوں کو مولاناابوالکلام آزاد دے سکیں۔
hassnainjamil@yahoo.com

image_pdfimage_print