Voice of Asia News

امریکی فضائیہ نے آواز سے بھی تیز رفتاروالانیا جنگی ڈرون متعارف کرادیا

واشنگٹن(وائس آف ایشیا) امریکی فضائیہ نے جو اپنی قوت ضرب و حرب کو بڑھانے کیلئے آئے دن نت نئے تجربے کرتی رہتی ہے اور مختلف چیزیں بناتی رہتی ہے اب اپنا نیا جنگی ڈرون متعارف کرادیا ہے۔ ایکس کیو 58اے نامی ڈرون کو لائل ونگمین اور واکیری کا بھی نام دیا گیا ہے، اسکی رفتار آواز سے بھی زیادہ تیز ہے، تاہم اس پر کوئی انسان موجود نہیں ہوگا۔امریکی ٹی وی کے مطابق اس نے اپنی افتتاحی پرواز ایریزونا کے یوما پرونگ گراؤنڈ پر مکمل کرلی۔ یہ ڈرون کچھ اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا کہ یہ ایسے جنگی طیارے کے ساتھ ساتھ پرواز کرے گا جس میں پائلٹ بھی موجود ہوگا تاکہ بووقت ضرورت وہ اسکی مدد کرسکے۔ یہ پہلا تجربہ تھا اور ابھی اسے 2مرحلوں میں مزید 4تجرباتی پروازوں سے گزرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ امریکی فضائیہ جلد ہی اپنے نئے اسٹیلتھ فائٹر ڈرون کو بھی اپنے مصرف میں لانا چاہتی ہے۔ اسکی تیاری پر ڈھائی سال کا عرصہ لگا ہے او راسکے لئے نجی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ فضائیہ نے ابتدائی پرواز کی تصویر بھی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ پہلی ابتدائی پرواز انتہائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ امریکی فضائیہ ہمیشہ جتنے بھی نئے طیارے تیار کرتی ہے۔اسکے ساتھ ہی ساتھ وہ ان طیارو ں کی حفاظت کیلئے بھی بعض چیزیں تیار کرلیتی ہے۔ فضائیہ نے نئے جنگی ڈرون کی وڈیو بھی جاری کی ہے جو 15سیکنڈ دورانیہ کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلی تجرباتی پرواز میں یہ ڈرون 76 منٹ تک پرواز کرتا رہا۔ اس ڈرون کو امریکی فضائیہ کی ریسرچ لیباریٹری میں آخری شکل دی گئی ہے۔ واضح ہو کہ ایل سی اے اے ٹی نامی اسٹیشن پر نسبتاً سستے جنگی طیارے تیار کرنے کا کام بھی ہورہا ہے۔

image_pdfimage_print