Voice of Asia News

پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ مدثر احمد خان ہے جسے ترال میں ایک آپریشن کے دوران مارا گیا،بھارت میڈیا کا دعوی

نئی دہلی(وائس آف ایشیا )بھارت نے پلوامہ حملے پر ایک اور یوٹرن لے لیا ہے۔پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگانے کے لیے بھارت نے ایک بار کہانی بدل لی۔بھارتی حکومت نے پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ غازی رشید کو قرار دیا تھا تاہم اب ایک بار پھر نیا نام سامنے لے ائی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ مدثر احمد خان ہے۔بھارتی میڈیا کا دعوی ہے مدثر احمد کا پیشہ الیکڑیشن ہے۔بھارتی میڈیا کا دعوی ہے کہ ترال میں ایک آپریشن کے دوران پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا ہے۔مدثر احمد کی ترال میں موجودگی کی اطللاع خفیہ ایجنسی نے دی۔بھارت اس سے قبل 2007 میں لال مسجد آپریشن میں جاں بحق ہونے والے غازی عبدالرشید کو مقبوضہ کشمیر میں مارنے کا دعوی کر چکا ہے۔گذشتہ ماہ پلوامہ میں بھارتی فوج پر بڑا حملہ ہوا۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا کہ واقعہ سرینگر سے تقریبا 20کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع پلوامہ کے قصبے اوانتی پورہ میں ایک شاہر اہ پر اس وقت پیش آیا جب سی آر پی ایف کا جموں سے سرینگر آنیوالا ایک قافلہ گزرہا تھا کہ اس دوران مجاہدین کی طرف سے گھات لگا کر قافلے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا اور تقریبا 350کلوگرام دھماکہ خیزمودا سے لدی کارکو قافلے میں شامل سی آر پی ایف کی54 بٹالین کی 50سیٹر بس سے ٹکرا دیا ، دھما کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 42سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ درجنوں اہلکار زخمی بھی ہیں ۔ہلے پہل اس کی ذمہ داری مجاہدین کے ایک نوجوان عادل پر ڈالی جب یہ بھانڈا پھوٹا کہ عادل پہلے سے بھارتی فوج کی حراست میں ہے تو انہوں نے ساری ذمہ داری لال مسجد آپریشن میں جاں بحق ہونے والے غازی عبدالرشید پر ڈال دی۔ بھارتی میڈیا نے نہ صرف غازی کو ان حملوں کا مرکزی کردار قرار دیا ہے بلکہ ان کو ٹریس کرنے کا بھی دعوی کیا گیا۔بھارت کی جانب سے اس قسم کی مضحکہ خیز صحافت پر دنیا بھی بھارتی میڈیا کا مذاق اڑا رہی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے