Voice of Asia News

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ مستقل ٹالنے کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا،صدر آزاد کشمیر

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہاہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ مستقل ٹالنے کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا،کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے، بھارتی بربریت جاری رہی تو لاکھوں عادل ڈار پیدا ہوں گے، بھارت پاکستانی شہروں میں دہشتگردی کرواسکتا ہے، بھارت بہالپور اور مریدکے پر بھی حملہ چاہتا تھا،خطرات ابھی بھی ٹلے نہیں۔ پیر کو جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے زیر اہتمام کل جماعتی کشمیر کانفرنس میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان ،سابق صدر سردار انور ،سپیکر آزاد کشمیر شاہ غلام قادر ، پیپلز پارٹی کے ر ہنما چوہدری لطیف اکبر اور امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود نے شرکت کی ۔ صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کل جماعتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے ظلم و ستم پر کم گفتگو ہورہی ہے ،انسانی حقوق کی بنیادوں پر مقبوضہ کشمیر پر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عادل ڈار نے جنگ میں مصروف فوج پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت جو مرضی رنگ دے دفاع کشمیریوں کا حق ہے ، انہوں نے کہاکہ کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے، صدرنے کہا کہ یہ حق اقوام متحدہ کشمیریوں کو دیتا ہے ،بھارتی پالیسی رہی کہ پہلے غیر مسلح کرو پھر مارو ۔ انہوں نے کہاکہ عادل ڈار سے لکیریں نکلوائی گئیں ،عادل ڈار کو جیش محمد نہیں جیش مودی بھارتی فوج نے پیدا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی بربریت جاری رہی تو لاکھوں عادل ڈار پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاک فضائیہ نے بھارت کو ایسا جواب دیا کہ بھارت کو سمجھ آگئی،انہوں نے کہاکہ بھارت کو بتاگیا ہے کہ اگر دوبارہ حرکت کی تو ایسا ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے یاد رکھا جائیگا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا سرجیکل سٹرائیک آزاد کشمیر کے گاؤں پر قبضہ اور میزائل حملہ ناکام ہوگیا،انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستانی شہروں میں دہشتگردی کرواسکتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہاکہ عالمی برادری سے صاف کہا مسئلہ کشمیر کو صرف ایٹمی جنگ ٹالنے کے تناظر میں نہ دیکھا جائے ۔ انہوں نے کہ کہ ایٹمی جنگ مستقل ٹالنے کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستان کو جو بھی سزا دے رہا وجہ صرف کشمیر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت بہالپور اور مریدکے پر بھی حملہ چاہتا تھا،خطرات ابھی بھی ٹلے نہیں۔سابق صدر آزاد کشمیر جنرل ر محمد انور خان نے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے پیچھے نماز ادا کررہے ہیں ،جب لڑائی ایل او سی پر ہے تو میدان جنگ بھی وہی ہوگا ۔ انہوں ن ے کہا کہ پلوامہ کشمیر میں ہے تو جنگ بھی کشمیر میں ہی ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ بہاولپور میں بھارت حملہ کرتا تو میدان جنگ وہاں بنتا ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کی قیادت نوجوانوں میں منتقل ہورہی ہے ،بھارتی جنرل کشمیری ماؤں سے نوجوانوں کو روکنے کی دھمکی دینے پر مجبور ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بطور جنرل ایسے شرم ناک بیان پر شرمندگی ہے ،انہوں نے کہاکہ کشمیری اور پاکستانی مودی کا شکریہ ادا کریں جس کی غلطیوں سے مسئلہ کشمیر اجاگر ہوگیا ۔ انہورں نے کہاکہ بھارتی پائلٹ کو چھوڑ کر پاکستان نے دنیا کو ایٹمی جنگ ٹالنے کا بہترین پیغام دیا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی وزیر خارجہ اور افواج کا کردار بہترین رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جن تنظیموں پر حالیہ پابندی لگائی گئی ہے ان سے بات ہونی چاہیے ،زلزلے کے دوران ان تنظیموں کا کردار بہترین رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ایل او سی کے آر پار والوں کے لئے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ پلوامہ حملے کے بعد مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے رہنما چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ اس بات میں شک نہیں جب تک کوئی بڑا واقعہ نہ ہو تو ہم مسئلہ کشمیر سے متعلق ڈیھلے ہوتے ہیں ،مسئلہ کشمیر کو ہر وقت اور ہر موڑ پر اجاگر رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے،مسئلہ کشمیر اجاگر ضرور ہونا چاہیے لیکن اس مقصدیہ ہرگیز نہیں کہ پاک بھارت جنگ ہو۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی سطح پر قومی کشمیر کانفرنس بلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج کے آئے روز کی فایرنگ سے بچنے کیلئے ایل او سی پر بسنے والوں کیلئے انڈر گراؤنڈ بینکرز بنائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء کو ہراساں کرنا بند کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ال پارٹیز حریت الائنس کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ پلوامہ واقعہ کے بعدمسئلہ کشمیر اجاگر ہوا ،دنیا اب بھارت پر مسئلہ کشمیر کو ایٹمی فلش پوائنٹ مان رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پلوامہ واقعہ کے بعد شکست ہوئی ،بھارت نے بوکھلا کر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی لگا دی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی پابندیوں سے اب آزادی روک نہیں سکتا۔ انہوں نے کہاکہ پلوامے کے بعد بھارت نے مظفرآباد کے راستے پاکستان پر حملے کی ناکام جسارت کی،انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں،پلوامے حملے کے بعد شبیر احمد شاہ کو زخمی کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فوجیوں نے حریت کانفرنس کے سینئر قائدین کو گرفتار کر لیا۔مولانا امتیاز عباسی رہنما جے یو آئی آزاد کشمیر نے کہاکہ صدر آزاد کشمیر سفارتخانوں کے سفرا کو کشمیری قیادت سے ملاقاتوں کا اہتمام کریں ،وزارت خارجہ بیرون ملک سفرا کو متحرک کرے ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے خلاف سازشوں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے زیر اہتمام کل جماعتی کشمیر کانفرنس سے صدر پی پی پی ازاد کشمیر فضل کریم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہلوامہ واقعہ کے بعد کشمیر فلش پوائینت چکا ہے، اسے ایسے ہی رکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر سے متعلق سب اہم بات اتفاق میں رہنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے لئے ہر فورم پر جدجہد جاری رکھنا پڑی گی ۔مسلم کانفرنس کے سردار صغیر چغتائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق جو بھی آواز اٹھائے ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو صرف اس وقت نہیں اٹھانا چاہیے جب کوئی برہان وانی شہید ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی جانب سے بھارت کو سبق اموز جواب دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر جس انداز میں اٹھا ہوا ہے اسے ہائی ہی رکھنا پڑیگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر علی گیلانی اتنے بڑھاپے میں بھی بھارتی افواج کے سامنے کھڑے ہو کر آزادی اور پاکستان کی بات کرتا ہے تو ہمیں یہاں پر فرض ہے کہ اس حوالے 24 گھنٹے تیار رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان جماعت اسلامی مقبوضہ پر پابندی کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائے ،انہوں نے کہاکہ ایل او سی پر بسنے والے بہن بھائیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما غلام محمد صفی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پلوامہ واقعہ کے بعد دنیا کو بھارتی ہٹ دھرمی اور دہشت گردی سامنے آ چکی ہے،بھارت اپنی دہشتگردی کیلئے کبھی سکھوں کو مارے گا اور کبھی کشمیریوں کو شہید کریگا ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر ابہام کا شکار بنائے۔میر واعظ گروپ کے رہنما اعجاز رحمانی نے کہاکہ آل پاڑیز پریس گروپ تشکیل دیا جائے جو میڈیا کو ماہوار صورتحال میڈیا کو پیش کرے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے مل کر لایا جائے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت متحد ہو کر تحریک کشمیر کو کچلنا چاہتا ہے،کشمیر تحریک کو مضبوط بنانے کے لئے ہمیں اتحاد میں رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیریوں کو فرقوں، مزاہب اور چھوٹے چھوٹے علاقوں میں تقسیم کرانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب کو اس بات پر متفق ہونا پڑے گا کہ کشمیر پاک بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ کشمیریوں کے وحدت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھی بارہا اس بات کا ذکر کر چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کے بغیر حل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ میں تجویز کرتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت دونوں کشمیریوں کی حق خود ارادیت کو بین الاقوامی سطح پر قبول کریں، انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت قبول کرنے کے بعد خطے سے فوجی انخلا ء ہو۔ رہنما اے پی سی محمود ساغر نے کہاکہ سمجھ نہیں آتی (ن )لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف مسئلہ کشمیر سے متعلق کل جماعتی کانفرسز پر سنجیدہ کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے بغیر کوئی مذاکرات قبول نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کی رہائی میں جلد بازی سے کام لیا۔ انہوں نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں فائرنگ ایل او سی پر ہی کیوں ہوتی ہے۔ کنونئیر اے پی اے سی عبداللہ گیلانی نے کہا کہ بھارتی قبضے کو مظبوط کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے لیڈرز کی تشہیر بند کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے کشمیر پر بھارتی قبضے کو مظبوط بنا لیا ہے آج اسے اپنے ٹی وی کی زینت بنا رہے ہو، انہوں نے کہاکہ وزیر خارجہ محبوبہ مفتی کی تعریفیں کرنا بند لر دیں۔اے پی سی میں حریت رہنماء سید علی گیلانی کا پیغام پڑھا گیا جس میں انہوں نے کہاکہ کشمیر کا الحاق جغرافیائی لحاظ سے بھی پاکستان کے ساتھ بنتی ہے،مظبوط پاکستان ہی مقبوضہ کشمیر کے لئے بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔ بعد ازاں جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کی جانب سے بالاکوٹ پر ناکام حملے کی شدید الفاظ میں شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کے ساتھ اعلان جنگ کے مترادف قراردیا گیا۔کانفرنس نے پاک فضائیہ اور افواج پاکستان کی طر ف سے بھارت کو دندان شکن جواب دینے پر خراج تحسین پیش کیا جبکہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔مظفرآباد اور اسلام آبادمیں بھارتی مظالم کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا گیا ۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ اقوام متحدہ بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی تشدد کی نئی لہر معصوم کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل عام اور وادی میں فوج کی تعداد میں اضافے اورکشمیر ی قیادت کی گرفتاریوں اور نظربدیوں کی شدید مذمت کی گئی ۔کشمیر کانفرنس نے مشترکہ اعلامیہ میں وزیراعظم پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیش کش اور گرفتار کئے گئے بھارتی پائلٹ کی رہائی اور امن کے بیانات کو قابل تحسین قراردیا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •