Voice of Asia News

نوازشریف اصولوں پر ڈٹ گئے ،مجھے نہیں لگتا حکومت سے کوئی ڈیل ہوئی ہو،بلاول

لاہور (وائس آف ایشیا) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف اپنے اصولو ں پر ڈٹے ہو ئے ہیں ،مجھے نہیں لگتا نوازشریف کی حکومت کیساتھ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا وہ اپنے اصولوں پرسمجھوتہ کرنے کیلئے تیار ہوں ، میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کے خلاف بھی لوگ سازش کر رہے ہیں لیکن اب وہ نظریاتی بن گئے ہیں، نو از شریف بیما ر لگ رہے تھے ،دل کے مریض میں تنا و نہیں ہو تایہ تشدد ہے ، نو از شریف کی خو اہش کے مطابق علا ج ہو نا چا ہیے،، مریم نو از سے ملا قات کیلئے تیا ر ہو ں ، ملک میں قا نو ن کی حکمر انی ہو نی چاہیے،اسد عمر پڑھا لکھا جا ہل ہے اسے میری تقریر سمجھ نہیں آئی ، مجھ سے زیا دہ شاہ محمو د قریشی نے انگریزی بولی پتہ نہیں اسد عمر مجھ پر تنقید کر رہے تھے یا شاہ محمو د پر؟ اسد عمر سیا ست میں منا فقت نہ کر یں، عمران خان کی تھر پا رکر کی تقریر سے دنیا بھر میں برا تاثر گیا ۔ گزشتہ روز کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات اور ان کی عیادت کرنے کے بعد واپسی پر جیل سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ گزشتہ روز کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی عیادت کے لئے آئے ہیں آج کا دن میرے لئے تاریخی دن ہے اسی جیل میں میرے شہید نانا ذوالفقار علی بھٹو نے وقت گزارا یہ وہی جیل ہے جس میں میرے والد آصف علی زرداری نے قید و بند کی ثوبتیں برداشت کیں اور ان کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکنان نے بھی بحالی جمہوریت کی جدوجہد میں اسکی جیل میں وقت گزارا انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہو رہا تھا کہ جو شخص اس ملک کا تین بار وزیر اعظم رہا ہو وہ بھی اسی جیل میں سزا بھوگت رہا ہے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے آپس میں سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لیکن یہ ہماری دن اسلام کا حکم ہے کسی بیمار کی عیادت کی جائے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو بھی پہلے انسان اور بعد میں حکمران ہونا چاہئے کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونی چاہئے کسی انسانی کی بے عزتی نہیں ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ نواز شریف کو بہتر سے بہتر طبی سہولتیں فراہم کریں کسی بھی دل کے مریض کو پریشان کر کے اس کا علاج نہیں کیا جا سکتا نواز شریف کو ذہنی عزیت دینا ایک قسم کا تشدد ہے بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چونکہ نواز شریف اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں ہماری اور مسلم لیگ (ن) کی ایک طویل سیاسی تاریخ ہے لہٰذا نواز شریف کا وہاں سے بہترین علاج کروایا جائے جہاں سے وہ اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سابق وزیر اعظم کو جیل رکھ کر انہیں عزتیں دے کر پاکستان کا دنیا میں کوئی اچھا پیغام نہیں جا رہا جو حکمران انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں انہیں اپنے کہے پر پورا اترنا چاہئے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری والدہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2006 ء میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کئے تھے لیکن بد قسمتی سے ہم چارٹر آف ڈیمو کریسی پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کر سکے ہمیں اس معاہدے پر عملدارآمد کرنا چاہیے تھا جو ہماری نادانی ہے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو کوڈ آف کنڈیکٹ بنانا چاہیے کہ تمام سیاست دانوں آپس میں کیسے چلے گے انہوں نے کہا کہ آج کے پاکستان کی سیاسی مشکلات پر ہمیں بات کرنی چاہیے اور اس کا حل نکالنا چاہیے انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں صرف اور صرف میاں صاحب کی طبعیت پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں انہوں نے کہا کہ جب آصف علی زرداری جیل میں تھے تو 11 سال تک کوئی دن ایسا نہیں تھا کہ جب آصف علی زرداری اور صدر پرویز مشرف سے ڈیل کی باتیں نہ سنتے تھے لیکن اب نواز شریف نے خود کہا ہے کہ وہ ایک نظریاتی سیاست دان بن چکے ہیں اور انہیں بنیادوں پر سیاسی جدوجہد جاری رکھے گئے۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تنقید ایک غلط فیصلہ تھا جو کسی لیڈر کا فیصلہ نہیں تھا ملک سے دنیا میں اکٹھا تاثر جا رہا ہے کہ پاکستان کے ایشو پر سب اکٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کی بات آتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہوتی ہے اور اب حکومت کو بھی سمجھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ پارلیمان میں ان کی تقریر پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر قدر بہتر تھی لیکن وزیر خزانہ اسد عمر کی تقریر سے انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اسد عمر میری تقریر پر تنقید کر رہے تھے یا شاہ محمود کی تقریر پر اپنا ردعمل دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پڑے لکھے جاہل وزیر خزانہ اسد عمر کو دکھ تھا میں انگریزی میں بات کر رہا تھا اس جاہل وزیر کو سمجھائے کہ میں اپنے نام کے ساتھ بھٹو زرداری کے الفاظ استعمال کرتا ہوں اسد عمر کو منافقت نہیں کرنی چاہیے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گئی کہ ہم جمہوریت پسند جماعتوں سے بات چیت کریں اور پی ٹی آئی میں سنجیدہ جمہوریت پسند لوگ اگر ہماری بات جیت میں شامل ہونا چاہے گے تو ہم دیکھے گئے ویسے میرے پارلیمان میں شہباز شریف اور دیگر (ن) لیگی راہنماؤں سے رابطے رہتے ہیں انہون نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مریم نواز سیاسی امور پر خاموش ہو گئیں ہیں مریم نواز اپنی پارٹی کے معاملات میں مصروف ہیں اور اپنے والد کا خیال رکھتی نظر آتیں ہیں میں نہیں چاہو گا کہ کوئی اور پاکستان میں اس دکھ سے گزرے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قانونی کی حکمرانی ہونی چاہیے اور اگر قانون کی حکمرانی ہو گی تو کسی وزیر اعظم سے زیادتی نہیں ہو گی میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ملک میں نظریاتی سیاست کر کے اپنا جمہوری کردار ادا کرے گی۔انہو ں نے مزید کہا کہ میرے والد آصف علی زرداری نے بغیر کسی جرم کے 11 سال جیل میں گزارے، بعد میں انہیں کیسز میں باعزت بری کیا گیا لیکن اس عرصے میں یہی کہا جاتا رہا کہ پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل ہوگئی اور ہم بھاگ رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کے خلاف بھی لوگ سازش کر رہے ہیں لیکن اب وہ نظریاتی بن گئے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے یا نواز شریف سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں،وہ اپنے اصولو ں پر ڈٹے ہو ئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) بھی اپنے اصولوں پر قائم رہے گی۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لئے جب کوٹ لکھپت جیل پہنچے تو وہاں پر پہلے سے موجود پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے سینکڑوں کارکنوں نے پارٹی چیئرمین کا استقبال کیا ان پر پھولوں کی پتیاں نجھاور کیں اور اسقبال کے موقع پر گھوڑے بھی موجود تھے پارٹی کارکنوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کوٹ لکھپت جیل آمد کے موقع پر روڈ کے تمام راستے سٹیمرز آویزاں کر رکھے تھے جن پر بلاول بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہنے کے نعرے درج تھے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا سکیورٹی سٹاف بھی ان کی آمد سے قبل کوٹ لکھپت جیل پہنچ چکا تھا یہ بتایا گیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل حکام نے بلاول بھٹو زرداری کی نواز شریف سے ملاقات جیل کی سیکورٹی وارڈ میں کروائی تقریباً ایک گھنٹہ پندرہ منٹ جاری رہنے والی اس ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے قاسم گیلانی پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر الزمان کائزہ پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ سینیٹر مصطفیٰ نواز اور پارٹی راہنما جیل سمرو بھی موجود تھے تقریباً سوا گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری جب جیل سے باہر آئے تو وہ پہلے سے موجود پارٹی کارکنوں میں گھل مل گئے واضح رہے کہ جمعہ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لئے محکمہ داخلہ پنجاب سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کر رکھا تھا جبکہ صبح کے وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی کے بانی رہنما رانا شوکت محمود کی رہائش گاہ واقعہ گلبرگ بھی گئے جہاں انہوں نے رانا شوکت محمود کی وفات ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اس موقع پر پارٹی کے مختلف راہنما بھی رانا شوکت محمود کی رہائش گاہ میں موجود تھے بلاول بھٹو زرداری گلبرگ سے نواز شریف سے ملاقات کے لئے کوٹ لکھپت جیل روانہ ہو گئے جہاں پارٹی پرچم اٹھائے پارٹی کارکنوں نے ان کا خیر مقدم کیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے