Voice of Asia News

بھارت : 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ

نئی دہلی ( وائس آف ایشیا )بھارت میں 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے کا فیصلہ بھارت کی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کر لیا گیا ہے، جسے 14 مارچ کو سنایا جائے گا۔11سال کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ پنچ کْلہ میں محفوظ کیا گیا جہاں 4 ملزمان کے خلاف زیرسماعت مقدمے میں متعدد گواہ اپنے بیان سے مکرچکے ہیں۔لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں 2007 میں ہریانہ کے پانی پت کے مقام پر دھماکا ہوا تھا جس میں 43 پاکستانی اور 10بھارتی شہریوں سمیت دھماکے میں مجموعی طور پر 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 15افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، مرنے والوں میں 64 مسافر تھے جبکہ 4 کا تعلق ریلوے سے تھا۔بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق دہشت گرد حملے میں 10 پاکستانیوں سمیت 10 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں ٹرین کی کئی کوچز جل گئی تھیں۔بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اسے بھارت کی سالمیت، سیکیورٹی، خود مختاری اور اتحاد کو نشانہ بنانے کی منظم سازش قرار دیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر ہریانہ پولیس نے مقدمے کی ایف آئی درج کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے 2010 میں اس حملے کا مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی منتقل کردیا تھا۔دھماکے کا الزام 8 افراد پر عائد کیا گیا تھا جن میں سے صرف 4 نے مقدمات کا سامنا کیا، مقدمے میں مرکزی ملزم سوامی آسیمآنند عرف نابا کمار سرکار تھا جسے 2015 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔دیگر تین ملزمان کمال چوہان، راجیندر چوہدری اور لوکیش شرما سینٹرل جیل امبالا میں جوڈیشل حراست میں ہیں جبکہ تین ملزمان امیت چوہان، رام چندرا کال سنگرا اور سندیپ دانگے کو مقدمے میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا۔تاہم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ایک اور ملزم سنیل جوشی دسمبر 2007 میں مدھیا پردیش میں مار دیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے