Voice of Asia News

یوم نسواں ،انتہا پسندی اور استحصالِ نسواں : محمد نوازطاہر

خواتین کا عالمی دن بڑے جوش و جذبے سے منایا گیا۔ یہ جوش اور جذبے قابلِ قدر ہے لیکن جوش اور جذبے پر جو انتہا پسندی سوشل میڈیا پر نظر آئی اس سے یوں لگتا تھا کہ جسے دو قومی نظریے ، دو مذہبی فرقے، یا مسلم غیر مسلم میں جنگ و جہاد ہورہا ہے ۔ مسلمانوں کی تلوار تیز تھی یا غیر مسلم کی تیغ ، یہ تمیز کرنا مشکل ہے ۔آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے احترام میں خود میں نے بھی سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی تھی ، یہ تصویر میری جنت اور بھاگ وان کی تھی ، اس میں’’ کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ کا کوئی مکالمہ اشاروں کنایوں میں بھی نہیں تھا لیکن اس میں بھی انتہا پسندی اور ناانصافی تھی جسے میں خود تسلیم کررہا ہوں لیکن میری اُ س تصویر پر کسی نے کمنٹ کیا نہ ہی اس حوالے سے نشاندہی کی لہٰذا دیانتداری کا تقاضا ہے کہ کیں اپنی بد دیانتی ، انتہا پسندی، منافقت اور عورت سے کے استحصال کی خود نشاندہی کروں اور مجھے میں غیرت یا اخلاقی جرات نام کا کوئی مادہ ہے تو اس پر معذرت بھی کروں ۔ معذرت ، بہت معذرت ، دلی معذرت ، میری بہن ، میری بیٹی، میری محبوبہ اور میری تصوراتی وممکنہ یکطرفہ محبوباؤ میں آپ سب سے معذت خواہ ہوں ۔اُمید ہے کہ آپ میری معذرت قبول فرمائیں گی ، آپ میری اس منافقت ، فلرٹ اور دہرے چہرے کو ایک طرف کردیں گی اور میری اگلی منافقت تل مجھے گمان ہے کہ آپ سب مجھے اچھا قراردیں گے اور میری باتوں میں آتی رہیں گی ۔
جی ہاں ! میں سوشل میڈیا پر خواتین کے عالمی دن پر صرف اپنی ماں اور بیوی کی تصویر نہ لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ میں اپنی ماں کا تعبدار ہوں ، اس کے قدموں میں جنت تسلیم کرتا ہوں اور بے لوث محبت کرتا ہوں ، میں اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور میرے لئے میری بیوی اور ماں بہت عظیم ہیں ( بلا شبہ ایسا ہی ہے ) آج خواتین کے عالمی دن پر میں ان کی تحسین کرتا ہوں ۔۔ لیکن منافقت نہیں تو کیا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کی تصویر اپ لوڈ نہیں کی ؟ اپنی بہن کی تصویر اپ لوڈ نہیں کی ۔۔۔؟ کیا وہ عورت نہیں ہیں ؟ آج ان کا دن نہیں تھا ؟ میں نے بہن اور بیٹی کا خواتین کے عالمی دن پر بھی استحصال کیا ، نا انصافی کی ، منافقت کی ۔۔ کیوں ؟ صرف اس لئے کہ میری بہن اور بیٹی کی تصویر دیکھ کر انہیں کوئی پہچان نہ لے ، ان پر کوئی دوسرا منفی رائے یا تبصرہ نہ کردے ؟ حالانکہ جس نے کرنا ہے اس نے بیوی کی تصویر پر بھی کردینا ہے تو کیا بیوی نمائش کیلئے ہے ؟ اگر ایسا ہے تو بھی میں نے بیوی کا استحصال کیا ۔منافقت میں نے خود اپنے آپ کے ساتھ ، اپنے خاندان کے ساتھ ، اپنے مقدس رشتوں کے ساتھ اور پورے معاشرے کے ساتھ نہ کی ہوتی تو کسی کو انتہا پسند قراردینے کا حق رکھتا تھا ، اس وقت تو بس دوسروں میں خواہ مخواہ کیڑے نکالنے والی بات ہے ۔
خواتین کے عالمی دن کی تقریبات کے حوالے سوشل میڈیا پر جو رحجان اور منفی تبصرے دیکھے شرم سے سر جھک گیا ۔۔اپنے آپ سے گھِن آنے لگی کہ ہم جو آزادی اظہارِ رائے کے حق میں نعرے لگاتے ہیں یا ماضی میں قربانیاں دی گئیں ، اب بھی دی جارہی ہیں ، وہ اس لئے تھیں ؟ میں خواتین سے معذرت چاہتا ہوں کی آٹھ مارچ کو ان کا استحصال کیا گیا ،ان کی تضحیک اور تحقیر کا ایجنڈا آگے بڑھایا گیا ۔ روشن خیالی اور قدامت پسندی ایک سوچ ہے ، ہر کسی کو اپنی سوچ کے مطابق بات کرنے ، نظریات کا پرچار کرنے کی آزادی ہے لیکن کیا یہ غور طلب نہیں کہ اس کا اظہار جس بھونڈے اور مجرمانہ انداز میں کیا گیا ؟،بھلا ہو کچھ دوستوں کا جنہوں نے پوسٹروں کو اصل حالت میں پیش کیا اور وہ تصاویر بھی ساتھ لگائیں کمپیوٹرائز مہارت یعنی فوٹو شاپ سے ننگی اور گندی کی گئی تھیں ، گو بہت سے پوسٹر اور ان پر بامعنی اور ذومعنی تحریریں ایسی تھیں جو اِ س معاشرے ، کی تہذیب،ہمارے سماجی رویوں اور اخلاقیات سے متصادم بھی تھیں لیکن ان کے ساتھ جو انتہاپسندی کی گئی اس پر آواز اٹھانا بھی عورت کا اکیلی کا فرض نہیں ، اگر غیرت کے نام پر قتل کو درست مانا جاتا ہے تو ان تمام’’ فوٹو شاپرز‘‘ کا قتل واجب ہے ، کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ سائبر کرائم کے تحت ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے ؟ ریاست کو تو ہم اکثر ’ریاضت‘ اور استراحت ، نقاہت ، اور عبادت میں ہی مصروف دیکھتے ہیں ، تو ہم جو سب جاگ رہے ہیں ، سماج سدھار کے دعویدار ہیں ، ہم کیوں خاموش ہیں ، میں خود نہیں بول رہا تو دوسرے سے بولنے کی توقع کیسے کرسکتا ہوں کہ وہ چیخ چیخ کر بولے ، آسامان سر پر اٹھا لے کہ آٹھ مارچ کو خواتین کے والمی دن پر خواتین کے استحصال کے ایجنڈے پر کام ہو رہا تھا ، خواتین کی بے حرمتی کی گئی ، خواتین سے یکجہتی نہیں کی گئی ۔ اس عورت کی تضحیک کی گئی جسے معاشرے میں بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے ، اگر اعلیٰ مقام حاصل نہیں اور اس کے متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں سب سے پہلے اپنی بیٹی اور بہن کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر فخر سے پوسٹ کرتا ، اور اس بات پر بھی پوری دنیا میں فخر کرتا کہ میں نے اپنی بہن اور بیٹی کی تصویر بھی پوسٹ کی ہے جیسے دوسروں کی ہے اور انہیں سب ان کے جملہ حقوق دینے کے عزم کا نہ صرف اعادہ کرتے ہیں بلکہ اس کی گارنٹی بھی دیتے ہیں ، محافظ بھی ہیں اور وکیل بھی ۔ اور ہر اس کوشش اور ایجنڈے کو ناکام بنائیں گے جو عورت کی ہر رنگ ، رشتے میں تکریم ، وقار ، حرمت کے منافی ہوگا۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print