Voice of Asia News

مساجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ وزیراعظم کی اہم پریس کانفرنس

نیوزی لینڈ (وائس آف ایشیا) نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسیکا آرڈن نے ملک میں ہونے والی خوفناک فائرنگ کے واقعے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس کی ہے۔جس میں انہوں نے دہشت گردوں کو پیغام دیا ہے کہ تم نے ہمیں چنا لیکن ہم تہماری مذمت کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مساجد پر حملے کو دہشت گرد قرار دے دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔پولیس پوری طرح سے متحرک ہے۔واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔بہت سی معلومات ابھی سامنے نہیں لا سکتے۔ذمہ داروں کو قانون کے دائرے میں لائیں گے۔اس حملے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے،30نمازی ایک مسجد میں جب کہ دس دوسری مسجد میں شہید ہوئے۔تاہم ابھی تک ہلاکتوں سے متعق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔حملے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔وزیراعظم جیسیکا آرڈن نے اسے ملک کا سیاہ ترین دن قرار دے دیا۔مساجد پر حملہ باقاعدہ منصبوہ بندی سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کسی قسم کے مذہبی تشدد کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا ایک مشتبہ شخص کو گرفترا کیا گیا گیا،زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔مشکوک شخص کسی بھی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔واضح رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجدپرسفید فام انہتاپسندوں کے حملے سے 30سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں. حملہ آوروں نے خودکار میشن گنوں سے اس وقت اندھادھند فائرنگ کردی جب مساجد میں جمعہ کی نماز اداکی جارہی تھی. مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آورفوجی وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال بتائی جارہی جبکہ ایک عورت سمیت اس کے4ساتھی شہر کے دوسرے علاقوں سے گرفتار ہوئے ہیں.

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے