Voice of Asia News

بھارتی ایجنسی نے میرواعظ مولوی عمر فاروق کو دوبارہ 18 مارچ کو نئی دہلی طلب کر لیا

سری نگر(وائس آف ایشیا) بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے جعلی مقدمے میں حریت کانفرنس ( میرواعظ) کے چیرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو دوبارہ نئی دہلی طلب کر لیا ہے ۔ انہیں این آئی اے ہیڈ کوارٹر واقع نئی دہلی میں پیشی کے لیے18 مارچ کو طلب کیا گیا ہے ،اس سے قبل میرواعظ کو 11مارچ کے لیے سمن جاری کیا گیا تھا۔میرواعظ مولوی عمر فاروق 11مارچ کو پیش نہیں ہوئے بلکہ اپنے وکیل کے زریعے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کو اطلاع دی تھی کہ وہ سیکورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پرنئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر حاضر نہیں ہوسکتے۔این آئی اے کی طرف سے جاری سمن کے جواب میں میرواعظ کے وکیل ایڈوکیٹ اعجاز احمد نے کہا تھا کہ حریت چیئرمین کو بے بنیاد اور جھوٹے فنڈنگ کیسوں میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ کشیدہ حالات میں میرواعظ کے لئے دہلی کا سفر کرنا پر خطر ہے اگر این آئی اے میر واعظ سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے تو ایسا سری نگر میں بھی کیا جاسکتا ہے اور میر واعظ ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں ۔وکیل نے سمن کے جواب میں مزید لکھا تھا کہ میرواعظ ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کے حق میں رہے ہیں اور انہوں نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل اور جنوبی ایشا کی امن وترقی کی ہمیشہ پر زور وکالت کی ہے۔ یاد رہے این آئی اے نے 26فروری میرواعظ عمر فاروق، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک ، تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ، حریت کانفرنس چیئرمین سید علی گیلانی کے فرزند سید نسیم گیلانی، مسرت عالم بٹ اور سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کے گھروں پر چھاپے مارے تھے۔ یہ چھاپہ مار کاروائیاں این آئی اے کے مطابق پہلے سے درج ٹیرر فنڈنگ کیس کے سلسلے میں انجام دی گئی تھیں۔ مذکورہ کیس میں اب تک قریب ایک درجن کشمیری رہنماوں اور معروف تاجروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جنہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے