Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں متحدہ مجلس علما کی اپیل پربھارت مخالف احتجاجی مظاہرے،

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں خلاف جمعہ کے روز بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے گئے گئے ۔میرواعظ عمر فاروق کی جعلی مقدمے میں دہلی طلبی اور جماعت اسلامی پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل مذہبی جماعتوں اور علمائے کرام کے مشترکہ پلیٹ فار م متحدہ مجلس علما نے کی تھی۔ اس دوران جموں وکشمیر کی تمام مساجد ،خانقاہوں ، آستانوں اور امام باڑوں میں علما ،خطبا اور ائمہ حضرات نے بھارتی ظلم وجبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا، کئی مقامات پر مساجد سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے جعلی مقدمے میں حریت کانفرنس ( میرواعظ) کے چیرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو دوبارہ نئی دہلی طلب کر لیا ہے ۔ انہیں این آئی اے ہیڈ کوارٹر واقع نئی دہلی میں پیشی کے لیے18 مارچ کو طلب کیا گیا ہے ،اس سے قبل میرواعظ کو 11مارچ کے لیے سمن جاری کیا گیا تھا۔میرواعظ مولوی عمر فاروق 11مارچ کو پیش نہیں ہوئے بلکہ اپنے وکیل کے زریعے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی کو اطلاع دی تھی کہ وہ سیکورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پرنئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر حاضر نہیں ہوسکتے۔جماعت اسلامی کے مزید4 رہنماوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کٹھوعہ جیل ،ہیرا نگر جیل منتقل کر دیا گیا ہے ۔ امیر حلقہ سنگم محمد شعبان ڈار 64 ساکنہ مرہامہ سنگم، سابق قیم ضلع اننت ناگ مشتاق احمد وانی67 ساکنہ ککرناگ اور امیر حلقہ صوف شالی ککر ناگ نوشاد احمد65 شامل ہیں۔ تینوں جماعت عہدیداروں کو کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 19سالہ عاقب گلزار ولد گلزار احمد امیر تحصیل اننت ناگ بھی گرفتار شدگان میں شامل ہیں اسے بھی سیفٹی ایکٹ کے تحت ہیرا نگر جیل منتقل کیا گیا ہے۔عاقب کا والد اننت ناگ کے ارنہال گاؤں کا رہنے والا ہے۔ ادھر جمعیت اہلحدیث کے نائب صدر مولانا مشتاق احمد بٹ عرف ویری ولدعلی محمد بٹ ساکنہ ویری بجہباڑہ پر سیفٹی ایکٹ کے تحت کورٹ بلوال جیل جموں منتقل کئے گئے ہیں

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے