Voice of Asia News

جوڑ دو یا پھر چھوڑ دو، خونی لیکر کو توڑ دو ، کرناہ کے لوگوں کا مظاہرہ

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کے سرحدی قصبے کرناہ کے لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کرتارپور راہدری کی طرز پر ٹیٹوال مظفرآباد کے راستے کو کھول دیا جائے تاکہ منقسم کشمیریوں کے رابطے بحال ہو سکیں۔کرناہ کے لوگ موسم سرما کے دوران لوگ علاج ومعالجہ اور دیگر اشیا ء کے حصول کے لیے مظفر آباد سے ربطہ کر سکیں۔ اس مطالبے کے حق میں سری نگر میں مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ نستہ چھن گلی پر ٹنل کی تعمیر کی جائے۔کرناہ کپوارہ شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں درماندہ کرناہ کے لوگوں نے تیسرے روز بھی پریس کالونی لالچوک میں جمع ہوکر مظاہرے کئے اور جوڑ دو یا پھر چھوڑ دو ، خونی لیکر کو توڑ دو ۔مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ٹنل کی تعمیر کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کرناہ کپوارہ شاہراہ مقامی لوگوں کیلئے خونین ثابت ہو رہی ہے اور پچھلے کئی برسوں کے دوران شاہراہ پر 1ہزار سے زیادہ لوگ نہ صرف سڑک حادثات بلکہ برفانی تودوں کی زد میں آکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔مظاہرین نے کہاکہ ان کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ شاہراہ پر 6کلو میٹر ٹنل تعمیر کی جائے ۔احتجاج میں شامل ٹنل کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری محمد آصف میر نے کہا کہ لوگ پچھلے دو برسوں سے ٹنل کی تعمیر کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں کرناہ کے لوگوں کیلئے ٹیٹوال مظفرآباد شاہراہ کو کھول دیا جائے تاکہ لوگ اپنے لئے اشیائے ضروریہ وہاں سے لا سکیں ۔انہوں نے کہا کرتار پور کی طرز پر ماضی کی تجارتی منڈی ٹیٹوال کے راستے کو کھولنے کیلئے پاکستان سے بات کی جائے۔ کرناہ کے سابق زونل ایجوکیشن افسر محمد مقبول نے کہا کہ ہم برسوں سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ان کا رابطہ سال بھر وادی کے ساتھ بحال رکھنے کیلئے کوئی موثر اقدامات کئے جائیں لیکن سرکاریں صرف یقین دہانیاں ہی کراتی ہیں عملی طور پر کوئی کارگراقدامات نہیں کئے جاتے اور ٹیٹوال کا راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا ۔احتجاج میں شامل کرناہ کے سوشل ورکر اور سابق استاد عبدالرشید لون نے کہاکہ لوگ سالہا سال اس شاہراہ پر انسانی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔

image_pdfimage_print