Voice of Asia News

تبدیلی سرکارکے وعدے اور عوام کی چیخیں ،محمد قیصر چوہان

پاک سر زمین پر بہار کا موسم شروع ہوتے ہی کرکٹ کی بہار آئی تو عوام کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے ، اور اب مہنگائی کی بہار بھی ہے آنے کو تیار ،کیونکہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا نعرہ لگانے والی تبدیلی سرکار کے وزیر خزانہ اسد عمر نے مژدہ سنایا ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی اور عوام چیخیں گے۔ یہ مژدہ انہوں نے معیشت بحالی کا عجیب و غریب نسخہ کہ جب بھی معیشت بحال ہوتی ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے ، بیان کرتے ہوئے گوش گزار کیا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا ہے کہ معیشت مستحکم دکھائی دے رہی ہے تاہم مہنگائی بڑھے گی کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
مہنگائی بڑھنے کی خبر سن کر عوامی معاملات میں شدید غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ارکان پنجاب اسمبلی نے نہایت پھرتی کے ساتھ پانچ منٹ میں اپنی تنخواہوں میں زبردست اضافے کا بل منظور کرلیا۔ یہ چونکہ سرکاری خزانے سے لوٹ مار کا فیصلہ تھا، اس لیے آناً فاناًًً ہوگیا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے اور وہ بہتی گنگا میں صرف ہاتھ دھونے کے بجائے اشنان کرنے سے محروم نہ رہ جائیں۔ بات بات پر دنگا فساد کرنے، اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، احتجاج، واک آؤٹ اور اسپیکر کے ڈائس کے سامنے پہنچ کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ پھینکنے والے اپوزیشن کے ارکان نے بھی اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی منظوری میں حکومتی ارکان کی بڑھ چڑھ کر تائید کی۔ سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں سرکاری ایجنڈا مکمل ہونے پر معمول کی کارروائی معطل کر کے تنخواہوں اور مراعات بڑھانے کا بل پیش کرنے کا حکم دیا۔اس سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہوگئی کہ قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے طبقے مکمل طور پر متفق اور متحد ہیں۔ انہوں نے قومی یا کسی صوبائی اسمبلی میں ملک کے بائیس کروڑ لوگوں کو مشکلات و مصائب سے نجات دلانے کیلئے ایک مرتبہ بھی ایسے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ نہیں کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہیں، لیکن بل میں مفت ہاتھ آتا ہوا مال انہیں بھی برا نہیں لگا، کیوں کہ بل میں ان کی تنخواہ 59ہزار میں ایک لاکھ چھبیس ہزار روپے بڑھا کر کل ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے کی تجویز شامل تھی۔ چنانچہ انہوں نے معمول کی کارروائی معطل کر کے اس بل کو فوری طور پر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ حکم دیا اور پانچ منٹ کی مختصر مدت میں بل متفقہ طور پر منظور ہوگیا۔ بل کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی تنخواہ انسٹھ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے تین لاکھ ہونی تھی، جبکہ وزیروں کی تنخواہیں پنتالیس ہزار ماہانہ سے بڑھا کر ایک لاکھ پچاسی ہزار اور ہر رکن اسمبلی کی تراسی ہزار کے بجائے ایک لاکھ پچاس ہزار کرنا تجویز کیا گیا تھا۔ اس میں اضافی ڈیلی الاؤنس اور دیگر مراعات کو شامل کرلیا جائے تو سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزیر اعلیٰ، پنتیس وزیروں، اڑتیس پارلیمانی سیکریٹریوں، پانچ معاونین خصوصی، تین مشیروں، چالیس مجالس قائمہ کے سربراہوں اور ارکان اسمبلی پر مشتمل فوج ظفر موج کی ماہانہ آمدنی میں بے حساب اضافہ ہو جاتا ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں مجوزہ اضافے کو غیر منطقی قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس کے چند پہلو یقیناً قابل غور ہیں۔ اول ملک میں روز افزوں گرانی کے ذمے دار یہی لوگ ہیں، جو عوام کو کچھ نہ دے کر اپنے اختیارات کے ذریعے قومی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ دوم، ان کے پاس پہلے ہی مال و دولت کے انبار ہیں، تنخواہ اور مراعات ان کیلئے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں، لیکن وہ پھر بھی اضافہ کر کے قومی خزانے کو خالی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔سوم، اقتدار اور پارلیمان کے ایوانوں میں پہنچنے والے کسی شخص نے آج تک ملک کے غریب عوام کو بنیادی انسانی اور شہری سہولتیں پہنچانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا تو انہیں اپنی تنخواہوں اور مراعات میں بے تحاشا اضافہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔عمران خان کی ناراضگی کے بعد گورنر پنجاب اس بل پر دستخط یقیناً نہیں کریں گے اور فی الحال یہ ردی کی ٹوکری میں چلا جائے گا۔ لیکن اپنے ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کی خاطر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے اور اس کی خواہش رکھنے والے آئندہ کسی اور وقت یہ قانون سازی کرنے کی کوشش کریں گے۔
ادھر وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے مژدہ سنایا ہے کہ ملک میں مہنگائی مزید بڑھے گی، جس کا بوجھ عوام پر پڑے گا اور وہ چیخیں گے۔ اس کی دلیل انہوں نے یہ دی کہ معیشت بحال ہو تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں اس وقت ملکی معیشت مستحکم ہے، لیکن مہنگائی بڑھنے کی وجہ امریکی ڈالر اور بجلی، گیس جیسی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ساری دنیا یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہے کہ پاکستانی عوام کی زندگی میں فوری تبدیلی لانے کی دعویدار تحریک انصاف کی حکومت معیشت بحالی کے نام پر مہنگائی میں مزید اضافے کی دھمکیاں دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں عوام چیخنے پر پہلے سے زیادہ مجبور ہو جائیں گے۔
تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد سے معیشت کی بحالی کے نام پر جو بھی اقدامات کیے گئے ہیں وہ نرم سے نرم الفاظ میں عوام دشمن ہی کہے جاسکتے ہیں۔ معیشت بحالی کے نام پر غربت کی چکی میں پستے عوام سے روز ایک نئے ٹیکس کی وصولی اور آئے دن بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کو کیا کہا جاسکتا ہے۔ عمران خان کی حکومت کے ان اقدامات سے روز مہنگائی کا ایک نیا سونامی آتا ہے اورتباہی و بربادی میں کئی گنا اضافہ کرجاتا ہے۔ حکومت نے آج تک ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جسے عوام دوست کہا جاسکے یا جس کے بارے میں یہ گمان کیا جاسکے کہ یہ معیشت کی بہتری کیلئے کیا گیا اقدام ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کی معاشی پالیسی بنانے کا کام معاشی ماہرین کے بجائے بینکاروں کے سپرد کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ہر شعبہ ہر سطح پر افراتفری کا شکار ہے۔ یہ ایک سیدھا سا اصول ہے کہ جب عوام کے پاس قوت خرید ہی نہیں ہوگی تو وہ کس طرح معاشی سرگرمی میں حصہ لے سکیں گے۔ بالکل اسی طرح جب پٹرول ، گیس اور بجلی کے نرخ بے انتہا بڑھا دیے جائیں گے تو صنعتی پیداوار کی لاگت کو کس طرح سے قابو میں کیا جاسکے گا۔ جب کھاد ،بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں روز اضافہ ہورہا ہوگا تو کس طرح سے کسان فصل سے اپنی لاگت وصول کرسکے گا۔ عمران خان اپنے تمام تر دعووں کے باوجود ابھی تک بدعنوانی کا ایک سوراخ بھی نہیں بند کرپائے ہیں چہ جائیکہ ماضی میں کی گئی بدعنوانیوں کی گرفت کی جاسکے اور لوٹا گیا مال دوبارہ سے ملکی خزانے میں جمع کروایا جاسکے۔ اشرافیہ کی لوٹ مار کا اندازہ پنجاب اسمبلی میں بدھ کو وزیر اعلیٰ ، سپیکر ، ڈپٹی سپیکر ، ارکان صوبائی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اراکین کے لیے مراعات و تنخواہوں میں کئی گنا اضافے کے بل کی منٹوں میں منظوری سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس بل کو اس وقت جائز قرار دیا جاسکتا تھا جب اتنا ہی اضافہ تمام ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کیا جاتا۔ پنجاب اسمبلی میں مذکورہ بل کے ذریعے جو اضافہ کیا گیا ہے ، اسے اختیارات کا ناجائز استعمال ہی کہا جاسکتا ہے۔ جس طرح سے دیگر سرکاری افسران پر اختیارات کے ناجائز استعمال پر مقدمہ چلایا جاتا ہے بالکل اسی طرح پوری پنجاب اسمبلی پر بھی اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ چلا کرارکان کو ہمیشہ کیلئے نااہل قرار دے دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پابندی لگادینی چاہیے کہ ارکان پارلیمان اپنی مراعات اور تنخواہ میں ازخود اضافہ نہیں کرسکیں گے بلکہ اس میں خود کار طریقے سے اتنا ہی اضافہ ہوگا جس تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی جائیں گی۔اس سے قبل سندھ کی گزشتہ اسمبلی اپنے ارکان کیلئے تاحیات مراعات کا بل منظور کرچکی ہے۔ اس سے پہلے بھی ہم اس امر کا تذکرہ کرتے رہے ہیں کہ سب سے پہلے بدعنوانی کی روک تھام کی جائے اور اس مقصد کیلئے احتساب کے تمام اداروں جن میں عدلیہ ، نیب اور ایف آئی اے شامل ہیں ، کی باقاعدہ تطہیر کی جائے۔ یہ احتساب ہی کے ادارے ہیں جن کی بنا پر ملک میں بدعنوانی کا سیلاب سب کچھ بہا کر لے گیا ہے۔ اگر یہ تین ادارے میرٹ پر کام کرنے لگیں اور کیسوں کے فیصلے مناسب وقت پر ہونے لگیں تو سب کچھ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ بجلی اور گیس کمپنیوں کی بدمعاشی ہے کہ وہ اپنے عملے کے تعاون سے ہونے والی چوری پر قابو پانے کے بجائے اسے لائن لاسز کے کھاتے میں ڈال کر قانون پسند عوام سے وصول کرتی ہیں۔ بجلی اور گیس کی کمپنیاں ہی عوام سے سرکاری ٹیکس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بجائے خود کھا جاتی ہیں جس کی وجہ سے سرکار کو مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال تیل پیدا کرنے اور درآمد کرنے والی کمپنیوں کی ہے۔ یہ سب کچھ کرنے سے پہلے ملک میں ایک قابل وزیر خزانہ کی تلاش ضروری ہے جو ایک احمق بینکار کی طرح عوام کا خون نچوڑنے کے بجائے معاشی پالیسیوں کے ذریعے ملک کے اقتصادی نظام کر بہتر کرنے کی تدبیر کرے تاکہ ملک کی زرعی اور صنعتی پیداوار میں نہ صرف اضافہ ہوسکے بلکہ ان کی پیداواری لاگت میں بھی قابل ذکر کمی لائی جاسکے۔
اگر عمران خان ملک و قوم سے واقعی مخلص ہیں تو اپنے وعدوں اور دعوؤں کی تکمیل پر فوری توجہ دے کر عام لوگوں کو کم از کم اپنے دور میں پہنچنے والے شدید مہنگائی کے عذاب سے نجات دلائیں اور اپنی پارٹی کے ان تمام رہنماؤں، کارکنوں بشمول حکومتی ارکان کو لگام دیں، جو ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر عوام کی مزید چیخیں سننے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ بصورت دیگر عوام کا سونامی خود انہیں چیخنے چلانے کے قابل بھی نہ چھوڑے گا۔

image_pdfimage_print