Voice of Asia News

میتیں پاکستان لانے کیلئے لواحقین سے تعاون کریں گے،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ میں شہداء کے پاکستانی لواحقین کومیتیں لانے میں تعاون کی پیشکش کی ہے، انہوں نے کہا کہ میتیں یہاں لانے یا نہ لانے سے متعلق فیصلہ لواحقین کریں گے، مزید 3 پاکستانیوں کی شناخت کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کرائسٹ چرچ سانحیمیں 6 پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔شہید پاکستانیوں کا ڈی این اے کیا جا رہا ہے۔ مزید تین پاکستانیوں کی بھی ڈی این اے سے شناخت کی جائے گی۔ انہوں نے لواحیقن کو آفر کی ہے کہ میتیں پاکستان لانے کیلئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ تاہم یہ فیصلہ لواحقین کو کرنا ہے کہ میتیں یہاں لانی ہیں یا نہیں۔ مزید برآں ترجمان دفترخارجہ نے نیوزی لینڈ میں دہشتگردی میں 6 پاکستانیوں کے شہید ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نام جاری کیے ہیں۔ان شہداء4 میں سہیل شاہد، سید جہانداد علی، سید اریب احمد، محبوب ہارون ، نعیم راشد اور ان کے بیٹے طلحہ نعیم بھی شامل ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ شہید پاکستانیوں کا اعلان نیوزی لینڈ حکام نے کیا۔ تاہم تین لاپتا پاکستانیوں کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش جا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ میں بدقسمتی سے اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے، اس واقعہ کو دہشت گردی تسلیم کیا گیا ہے، تفتیش سے بات سامنے ا?جائے گی کہ ملزمان کا مشن کیا تھا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ نیوزی لینڈ حکومت نے جاں بحق افراد کی شناخت کرلی ہے، ایک پاکستانی کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے تاہم کرائسٹ چرچ میں 300 پاکستانی رہائش پذیرہیں اور اس وقت 9 کے قریب پاکستانی لاپتہ ہیں جن کے موبائل بھی بند ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری ترجیح لاپتہ پاکستانیوں کی تلاش ہونی چاہیے، وقت گزرنے کے ساتھ فکر میں اضافہ ہورہا ہے اور پوری قوم اس واقعے میں لاپتہ پاکستانیوں سے متعلق فکر مند ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کچھ پاکستانی لاپتہ ہیں تاہم متاثرہ فیملی سے رجوع کریں گے، ان کی ہرممکن مدد کریں گے۔

image_pdfimage_print