Voice of Asia News

بھارتی ایجنسیوں کا استعمال انتقام کی بدترین مثال ہے ، مشترکہ مزاحمتی قیادت

سرینگر(وائس آف ایشیا)مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور لبریشن فرنٹ نے میرواعظ ، سید نسیم گیلانی اور کئی دوسرے لوگوں کے خلاف این آئی اے اور ای ڈی ایجنسیوں کو استعمال کرنے کی کارروائیوں کو آپریشن آل اوٹ کا حصہ اور جمہوری اصولوں کی بیخ کنی سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ فورسز اور ایجنسیوں کو استعمال کرکے من گھڑت کیس تیار کرنا اور پھر اسی آڑ میں قائدین، ان کے بچوں، اہل خانہ اور دوسروں کو تنگ طلب کرنا ثابت کررہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی بے مثال مزاحمت کو کچلنے میں ناکام ہوا ہے اور اب انتقام گیری کے جذبے کے تحت غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدامات اٹھاکر کشمیریوں کو مذید پشت بہ دیوار لگانے پر اتارو ہوچکا ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین اور مشترکہ مزاحمتی قیادت کے ایک ستون محمد یاسین ملک، جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی، جمعیت اہل حدیث نائب صدرمولوی مشتاق احمد ویری سمیت دوسرے ہزاروں کشمیریوں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ یا گرفتاریوں ، شبانہ چھاپوں ،لبریشن فرنٹ چیئرمین اور دوسرے لوگوں کے خلاف پرانے فرضی کیسوں کو ازسرنو کھولنے اور ایسے ہی دوسرے ظالمانہ اقدامات کو عرصہ دراز سے جاری آپریشن آل اوٹ کا ہی حصہ ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی عرصہ دراز سے خانہ نظر بند ہیں جبکہ میرواعظ محمد عمر فاروق بھی آئے روز نظر بند کئے جاتے رہتے ہیں اور اس کا واحد مقصد قائدین کو عوام الناس سے دور رکھنا ہے۔ محمد یاسین ملک پر عائد کئے گئے الزامات کہ جن کے تحت ان پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے کو مذاق اور پولیس و سول انتظامیہ کی ذہنی پستی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک علیل قائد کو وادی سے باہر کورٹ بلوال جیل میں قید تنہائی کا شکار بناکر انتظامیہ اپنی بدترین فسطایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جماعت اسلامی پر باپندی عائد کر نے اور اسکی جملہ قیادت بشمول امیر جماعت ڈاکٹر حمید فیاض کو پابند سلاسل کردینے کو ایک آمرانہ اقدام سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ جو لوگ جیتے جاگتے انسانوں کو دن کے اجالے اور کیمروں کے سامنے مار مار کر ہلاک کرتے ہیں،لوگوں کی املاک کو خاکستر کرتے ہیں ،ذی عزتوں کو مار مار کر لہولہان کرتے ہیں اور میڈیا و سوشل میڈیا پر مسلمانوں کا نام و نشان مٹادینے کے دھمکیاں دیتے ہیں انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے جبکہ تعلیم کو عام کرنے،سماجی خدمات اور دینی تربیت کے ذریعے امن و استحکام کو فروغ دینے والوں کو پابند کیا جارہا ہے ،ان کے دفاتر اور املاک کو ضبط کیا جارہا ہے اور ان سے وابستہ ہر انسان و نشان کو زیر عتاب لانے کا سلسلہ دراز تر کیا گیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے