Voice of Asia News

خواتین کوگڈمارننگ میسج بھیجنا ہراسمنٹ ہے، کشمالہ طارق

لاہور(وائس آف ایشیا) وفاقی محتسب برائے ہراسگی کشمالہ طارق نے مردوں کو خبردار کیا ہے کہ خواتین کوگڈمارننگ میسج بھیجنا ہراسمنٹ ہے، ہراسمنٹ جنسی ہی نہیں کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی محتسب برائے ہراسگی کشمالہ طارق نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہراسمنٹ جنسی ہی نہیں بلکہ ہراسمنٹ کی مختلف اقسام ہیں۔ہراسمنٹ کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کو گڈ مارننگ میسج بھیجنا بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ کو کوئی بار بار چائے پر جانے کا بھی کہے وہ بھی ہراسمنٹ میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایسی شکایات بھی آئی ہیں جہاں دفاتر کے نائب قاصد بھی خواتین کو ہراساں کر رہے ہوتے ہیں۔کشمالہ طارق نے خواتین کو ہدایت کی ہے کہ آپ آن لائن شکایات بھی درج کرا سکتی ہیں۔ہر درخواست کا فیصلہ 2 ماہ میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردوں کوچاہیئے کہ ہمیں اتنا اسپیس ضرور دیں کہ مسائل حل ہوسکیں۔ دوسری جانب وفاقی محتسب کی ایک تقریب میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا سنگین جرم ہے ،خواتین کو جسمانی و ذہنی تشدد سے نکالنے کیلئے ان کو مالی طور پر مضبوط کرنا ناگزیر ہے،افسوس کی بات ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کی باوجود ہمارا معاشرہ ا?ج بھی قرا?ن کریم کے مطابق لازمی تعلیمات کونافذ کروانے میں ناکام رہا ہے۔اس موقع پر کشمالہ طارق کا مزید کہنا تھا کہ خواتین تمام شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں تقریبا 40 فیصد سی ایس پی افسران خواتین ہیں۔ خواتین کو جسمانی و ذہنی تشدد سے نکالنے کے لئے ان کو مالی طور پر مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے