Voice of Asia News

مسلم مخالف سوچ لے کر آنے والوں کو ترک صدر کی انتباہ کسی نے ترکی میں آ کر مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ زندہ واپس نہیں جائے گا۔ ترک صدر

استبول (وائس آف ایشیا) مسلم مخالف سوچ لے کر آنے والوں کو ترک صدر طیب اردگان نے انتباہ کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کسی نے ترکی میں آ کر مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ زندہ واپس نہیں جائے گا۔1916ء میں ترکی پر حملہ آور اتحادی ناکام ہوئے تھے۔اسی طرح آج بھی ہر حملہ آور ناکام ہو گا۔گذشتہ روز بھی ترک صدر طیب اردگان نےنیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدری کی تھی ۔ترک صدر کا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بطور مسلمان ہم کبھی نہیں جھکیں گے اور نہ ہی ہم ان دہشتگردوں کی سطح تک نیچے گریں گے۔ہمارا رویہ کسی بھی معصوم کی شہادت پر ایسا ہی ہو گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو اور اس کا مذہب جو بھی ہو۔ہم نے جو رویہ نیوزی لینڈ، فلسطین اور میانمار میں معصوم مسلمانوں کے قتل کے خلاف اپنایا وہی اصول کسی بھی معصوم شخص کے قتل کے خلاف اپنائیں گے۔ہم اپنے اخلاق سے اس دنیا کو بدل دیں گے اور یہ سب ہمیں کسی جبر یا استحصال سے نہیں بلکہ اپنے ایمان سے ملے گا۔اسلام ہمیں اخلاقیات کا درس دیتا ہے جو کہ انسانیت کے لیے بھی ضروری ہے۔واضح رہے گذشتہ روزترک صدر طیب اردگان نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔صدر طیب اردگان نے افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میں اپنے ملک کی طرف سے پوری مسلم امہ اور نیوزی لینڈمیں ہونے والے حملے سے متاثرہ لوگوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ ترک صدر نے اسے اسلام فوبیا کا نتیجہ قرار دے دیا تھا۔خیال رہے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والا دہشت گرد دو بار ترکی بھی جا چکا تھا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے