Voice of Asia News

دو قومی نظریہ تحریک پاکستان قیام پاکستان کی بنیاد ہ:محمد قیصر چوہان

دُنیا میں ہندوستان واحد ملک ہے جہاں مسلمان آٹھ سو سال حکمران رہے، لیکن نہ تو انہوں نے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا اور نہ ہی ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی، یہی وجہ ہے کہ آٹھ سو سال حکومت کرنے کے باوجود وہ یہاں اقلیت میں رہے۔ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے ہر لحاظ سے مختلف ہیں ،جو قدریں اور قوموں میں مشترک ہیں وہ ان میں نہیں۔ ہندوؤں کے رسم و رواج بھی ہم سے مختلف ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مذہب بھی ہم سے مختلف ہے اور جن چیزوں پر ہمیں اعتقاد ہے، ان کو وہ نہیں مانتے۔مسلمانوں کے توحید اور انسانی مساوات کے نظریہ حیات کے برعکس ہندوبت پرستی اور ذات پات کے قائل تھے اور آج بھی ہیں۔دْنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں اْن کی بنیاد اخوت اور انصاف پر ہے۔ ہندو ازم، درجہ بندی، عدم مساوات اور تقسیم انسانیت پر مبنی ہے۔ دونوں قوموں کے درمیان یہی امتیازی خصوصیات دو قومی نظریے کی بنیاد ہیں۔
برصغیر میں مسلمانوں پر سیاسی غلبہ حاصل کرنے کیلئے ہندوؤں کے عزائم نے مسلمانوں میں باہمی اتحاد جداگانہ قومی تشخص کے مفید جذبات اور تحریکوں کو جنم دیا۔ ہندوؤں نے اِن تحریکوں کی بھرپور مزاحمت کی۔ مسلمان اپنے تمدن، معاشرتی اقدار اور مذہب کو فطرات میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے ،وہ اپنا تحفظ چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے شعور میں اپنے تحفظات کے جو جذبات پرورش پا رہے تھے۔ انہیں حصول پاکستان کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں نے ایسے علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا ، جن میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ظاہر ہے کہ جب مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب و اقدار اور مذہب و روایات کے لحاظ سے ایک مختلف تشخص کے حامل تھے تو انہیں اپنا تشخص برقرار رکھنے کیلئے ضروری تھا کہ آئے دن کے نظریاتی ، مذہبی، معاشرتی اور اقتصادی تصادم سے نجات حاصل کریں ، یہی علیحدہ تشخص کی خواہش دو قومی نظریے کی اصل ہے۔یعنی برصغیر جنوبی ایشیاء میں مسلمان ہر لحاظ سے ایک علیحدہ شناخت اور پہچان کی حامل قوم ہے جس کا کوئی انگ، رنگ، ڈھنگ ہندوؤں سے مشابہت نہیں رکھتا ، اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں نے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا،افراد کا ایسا گروہ جس کا کوئی مقصد ہو ، قوم کہلاتا ہے اور مسلمان ایک ایسی قوم تھے اور ہیں جن کا ایک واضح مقصد ہے یعنی اللہ کے نظام کی برتری ،اور اسی نظام کے تحت اپنی زندگیاں گزارنا، اور یہ تبھی ممکن تھا جب مسلمانوں کے پاس اپنا ایک الگ وطن ہو، پس دو قومی نظریہ کی بنیاد ہی یہ ہے۔دو قومی نظریہ تحریک پاکستان کی روح اور قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔
برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کا امتیاز اور اختصاص یہ ہے کہ 19 ویں صدی اور 20 ویں صدی میں انہوں نے اسلام کی اصل روح اور اُمت کے تصور کو جس طرح سمجھا، اُمت مسلمہ کے کسی اور حصے نے ان چیزوں کو اس طرح نہیں سمجھا۔ اس حوالے سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ برصغیر کی ملتِ اسلامیہ خواہ اسلام پر عمل سے کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، مگر اسلام برصغیر کے مسلمانوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اور ان کا جذباتی وجود اسلام سے جتنا متاثر ہوتا ہے کسی اور چیز سے اتنا متاثر نہیں ہوتا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ برصغیر میں جو بڑی تحریک چلی ہے مذہب کی بنیاد پر چلی ہے۔ مسلمانوں نے 1857ء میں انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی شروع کی تو اس کی بنیاد اسلام تھا۔ مسلمانوں نے برصغیر میں خلافت تحریک چلائی تو اس کی بنیاد اسلام اور امت کا تصور تھا۔ یہاں تک کہ ہم 20 ویں صدی کے وسط تک آجاتے ہیں۔ 20 ویں صدی قوم پرستی کی صدی تھی۔ قومیں اپنا تشخص نسل، جغرافیے اور زبان کی بنیاد پر متعین کررہی تھیں۔ دوسری جانب سوشلزم کا غلغلہ برپا تھا اور اسے دنیا کے بڑے حصے میں سکہ رائج الوقت کا درجہ حاصل تھا۔ اس زمانے میں اسلام ریاست اور سیاست اور تشخص کے تعین کے حوالے سے قومی، علاقائی یا عالمی اسٹیج پر کہیں بھی موجود نہ تھا۔ لیکن برصغیر کی ملتِ اسلامیہ نے اس دور میں نہ قوم پرستی کے فلسفے کی جانب دیکھا، نہ سوشلزم کے تصور میں کوئی کشش محسوس کی۔ برصغیر کی ملتِ اسلامیہ نے اپنی تعریف یا Defination متعین کی تو اسلام کے حوالے سے۔ اس اسلام کے حوالے سے جو اْس وقت اْس عرب دنیا کے لوگوں کا تشخص بھی متعین نہیں کررہا تھا جہاں سے اسلام آیا تھا۔ ان علاقوں میں عرب قوم پرستی عروج پر تھی۔برصغیر کے مسلمان ایک بھیڑ اور ایک ہجوم تھے، یہ اسلام کی قوت اور تاثیر تھی کہ اس نے انہیں چند ہی برسوں میں ایک منظم قوم بنادیا۔ مسلمان قوم تو پہلے بھی تھے مگر انہیں اپنی اس قوت کا شعور نہ تھا۔ اسلام کی قوت اور اس کی بنیاد پر ایک ریاست کے قیام کے مطالبے نے جداگانہ قوم اور جداگانہ ملت کے شعور کو اتنی تیزی سے عام کیاکہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ مسلمانوں نے 23 مارچ 1940ء کو الگ ملک کا مطالبہ کیا اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آگیا۔ یعنی ایک خواب صرف سات برس میں شرمندتعبیر ہوگیا۔
دو قومی نظریے کی بنیاد اس وقت ہی پڑ گئی تھی جب 1883 میں بمبئی میں برصغیر کی تاریخ کا پہلا بڑا ہندو مسلم فساد ہوا تھا۔ یہ فساد کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا بلکہ ہندوؤں کے اس مسلسل مخالفانہ پراپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔ جو انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے ’’گؤ رکھشا‘‘ تحریک کے پردے میں مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ ان متعصب ہندو رہنماؤں نے جن میں بال گنگا دھرتلک سب سے نمایاں تھے گنگا پتی دیوتا کا پبلک طور پر جشن منانا شروع کیا۔ اس جشن میں جلوس نکالے جاتے جن میں آگے آگے گنگا باز نوجوانوں کی ٹولیاں ہوتیں اور پیچھے پیچھے بلند آواز میں باجے اور گیت گانے والے ٹولے ہوتے۔ یہ لوگ قصداً ایسے وقت میں مساجد کے سامنے باجے بجاتے جب مسلمان نماز میں مشغول ہوتے۔ تلک نے ہندوؤں میں جنگی جذبات ابھارنے کیلئے شیو اجی کو ہندو قوم کا ہیرو بنایا اور باقاعدہ ’’یوم شیوا جی‘‘ منانا شروع کیا اور اس میں وہ سب کچھ کیا جاتا۔ جو گنگا پتی کے جشن میں ہوتا۔ شیوا جی کے متعلق تقریر کرتے ہوئے تلک یہاں تک کہنے سے نہ چوکتا تھا کہ:’’شیوا جی نے افضال خان کو دوسروں کی بھلائی کیلئے نہایت اچھے ارادے سے قتل کیا تھا۔ اگر ہمارے گھروں میں چور گھس آئیں اور ہماری کلائیوں میں ان کو بھگانے کے لیے کافی طاقت نہ ہو تو ہمیں بلا جھجھک انہیں بند کرکے زندہ جلا دینا چاہیے۔‘‘
ہندوستان میں گؤر کھشا تحریک، گنا پتی اور شیوا جی کے جشن منانے کے آغاز، نماز کے اوقات میں مسجدوں کے سامنے گانے بجانے پر ہندوؤں کے اصرار اور ان سب کے نتیجے میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات نے برصغیر کی سیاست کا رخ موڑ دیا۔ اس زمانے میں انگریزوں نے ہندوستانیوں کو بھی کاروبار حکومت میں حقیر سی نمائندگی دے کر انداز حکومت میں تھوڑا سا تغیر پیدا کیا۔ چونکہ اپنے ملک میں انگریز کاروبار حکومت میں عوامی نمائندگی کے اصولوں پر کاربند تھا اور عوامی نمائندگی کی بنیاد پر اس طرز حکومت سے مسلمان رہنماؤں نے دل میں پہلی بار یہ احساس پیدا کیا کہ ہم برصغیر میں اقلیت میں ہیں اور انگریزوں کے لائے ہوئے نیابتی اصولوں کے مطابق ان کے نمائندے ہمیشہ اقلیت میں رہیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مرکزی حکومت میں ان کی آواز ہمیشہ غیر موثر رہے گی، لہٰذا کچھ ایسے سیاسی ذرائع اختیار کئے جائیں جن سے ملک کی اجتماعی زندگی میں ان کی آواز موثر اور حیثیت مسلم ہو جائے۔
سرسید احمد خان پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ایک واضح مسلم قومیت کے شعور کو اُجاگر کیا۔ مسلم لیگ کے قیام سے بہت پہلے بلکہ کانگریس کے وجود میں آنے سے بھی پہلے انہوں نے مسلمانوں کو ان کے علیحدہ قومی تشخیص کا احساس دلانا شروع کر دیا تھا۔ جب سرسید احمد خان اس طرح مسلمانان ہند کے حقوق کیلئے سینہ سپر ہوئے تو ان تنگ نظر ہندوؤں کی طرف سے سب سے بڑا الزام یہ لگایا کہ وہ سرکار پرست اور ٹوڈی ہیں اور ثبوت کے طور پر ان کی کتاب ’’وفادار ہندی مسلمان‘‘ پیش کی گئی جس میں سرسید نے ان مسلمان خاندانوں کے حالات درج کئے تھے جنہوں نے 1875 کے ہنگامہ کے دوران انگریز مردوں، عورتوں ار بچوں کو پناہ دی تھی۔ اس کتاب کا مقصد عام مسلمانوں کو انگریزوں کے خوفناک انتقامی جذبہ سے بچانا تھا ورنہ جو شخص 1857 کے بعد لگائے گئے مارشل لاء کے دوران ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ جیسی کتاب لکھ سکتا تھ، جو شخص علی گڑھ کے انگریز کلکٹر اور دوسرے انگریز افسروں کو ایم۔ اے۔ او کالج کی تقریبات میں اس بنا پر دعوت نامے بھیجنے سے انکار کر سکتا تھا کہ انہوں نے کالج کمیٹی کی زمین حاصل کرنے کی کوشش میں خلل اندازی کی تھی جو شخص اپنی تحریروں میں وائسرائے لارڈلٹن کی پنجاب یونیورسٹی اسکیم کے پرخچے اڑا سکتا تھا جو شخص یو۔ پی کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر سرولیم مور سے اس بناء پر ملنے سے انکار کر سکتا تھا کہ گورنر مذکورنے اپنی ایک تقریر میں ان پر غلط بیانی کا الزام لگایا تھا جو شخص آگرہ دربار سے محض اس بناء پر اٹھ کر جا سکتا تھا کہ وہاں نشستوں کی ترتیب میں انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان امتیاز روا رکھا گیا تھا وہ سرکار پرست یا ٹوڈی کیونکر ہو سکتا تھا۔
سرسید احمد خان کی زندگی میں ان کے کچھ ساتھیوں نے ان کے ساتھ بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا تھا۔ مولاناحالی نے مسدس مدو جزر اسلام لکھ کر مسلمانوں کے علیحدہ قومی تشخیص کو مستقل طور پر متعین کر دیا تھا۔ نواب محسن الملک، مولانا شبلی نعمانی، مولانا حسرت موہانی، علی برادران، مولانا ظفر علی خان، الغرض تمام مسلمان اہل فکرو دانش نے ان کے بعد ان کے کام کو ویسے ہی جوش و خروش سے جاری رکھا۔کانگریس کے فرقہ وارانہ مزاج کو دیکھتے ہوئے بعدازاں مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم قائم کی جائے۔ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں بنگالی مسلمان پیش پیش تھے۔ چنانچہ 1905 میں نواب سلیم اللہ خان نے بنگال میں ’’محمڈن پراونشل یونین‘‘ بنائی۔ اس سے اگلے برس یکم اکتوبر 1906 کو ہندوستان بھر کے مسلمان رہنماؤں کا ایک نمائندہ وفد شملہ کے مقام پر وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملا۔ اس وفد ک قیادت سر آغا خان کر رہے تھے اور اس میں بارہ نمائندے یو۔ پی سے، آٹھ پنجاب سے، چھ بنگال سے اور باقی نو ہندوستان کے دوسرے صوبوں سے تھے۔ وفد کے ارکان گیارہ بجے سے ذرا پہلے وائسریگل لاج ے ہال روم میں جمع ہوئے۔ ان کی کرسیاں ایک ہلالی شکل میں رکھی گئی تھیں جن میں سے ہر ایک رخ سامنے وائسرائے کی کرسی کی طرف تھا۔ ٹھیک گیارہ بجے لارڈ منٹو اپنے سٹاف کے ساتھ ہال میں داخل ہوا اور تمام نمائندے اس کی تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہو گئے۔ لارڈ منٹو مہمانوں کی قطار میں ایک ایک نمائندے سے ملا اور اس کے بعد سر آغا خان سے محضر نامہ پیش کیا۔
اس محضر نامہ میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور 1901 کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی چھ کروڑ بیس لاکھ افراد سے تجاوز ہے۔ اس لیے ہم گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ نمائندگی کے کسی بھی نظام کے تحت چاہے وسیع ہو چاہے محدود، ایک ایسی قوم جو عددی اعتبار سے روس کو چھوڑ کر یورپ کے ہر اول درجہ کی طاقت کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے جائز طور پر مطالبہ کر سکتی ہے کہ اسے مملکت میں ایک اہم عامل کی حیثیت سے مناسب انداز میں تسلیم کیا جائے۔وفد نے واشگاف الفاظ میں کہا ’’جہاں تک انتخاب کا تعلق ہے اس بات کا امکان نہیں کہ جس طرح انتخابی حلقے بنائے گئے ہیں ان میں سے حکومت کی منظوری کیلئے کسی مسلمان کا نام بھیجا جائے، تاکہ وہ مسلمان تمام اہم معاملات میں اکثریتی پارٹی کا ہمنواز نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان صوبوں میں بھی جہاں مسلمان آبادی میں ایک واضح اکثریت رکھتے ہیں ان کے ساتھ اکثر اس انداز میں سلوک کیا گیا جیسے وہ ایسے ناقابل اعتنا چھوٹے سیاسی عوامل ہوں جنہیں نظر انداز کر دینے میں کوئی مضائقہ نہ ہو۔ہر چند اس محضر نامہ کے جواب میں وائسرائے نے کوئی ٹھوس وعدہ نہ کیا لیکن اس نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہر انتظامی ادارہ میں ان کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جائے گا اور جیسا کہ لوگ جانتے ہیں شملہ وفد ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں کامیابی کا ایک مرحلہ ثابت ہوا۔ کیونکہ علیحدہ سیاسی حقوق اور مفادات کا اصول مان کر حکومت برطانیہ نے ان کی جداگانہ قومی حیثیت تسلیم کر لیا تھا۔ جداگانہ انتخاب کا مطالبہ ایک ناگزیر ضرورت تھا کیونکہ مشترکہ انتخاب کے ذریعے منتخب کئے ہوئے ارکان مسلمانوں کے صحیح نمائندے نہیں ہو سکتے تھے۔
16,15 ستمبر 1906 کو لکھنو میں مسلمان زعما کا اجلاس اس غرض سے بلایا گیا تاکہ وائسرائے ہند کو جو محضر نامہ پیش کیا جانا تھا اس کی تفصیلات طے کی جائیں۔ چونکہ اس موقع پر ہندوستان کے تمام صوبوں کے مسلمان اہل فکر اور اہل رائے اصحاب جمع ہوئے تھے اس لیے نواب محسن الملک اور نواب وقار الملک نے اس اجتماع کو غنیمت سمجھا اور یہ رائے پیش کی گئی کہ تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک ایسی سیاسی جماعت قائم کی جائے جو ان کے حقوق کی پوری طرح نگہداشت کرے یہ طے پایا کہ آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے ساتھ ہی جو اس سال دسمبر کے آخری دنوں میں ڈھاکہ کے مقام پر ہونے والا تھا مسلمانوں کی ایک آل انڈیا مسلم کنفیڈریشن کی داغ بیل ڈالی جائے۔ اس خیال کی سب نے تائید کی چنانچہ اتفاق رائے ہو جانے کے بعد مجوزہ جماعت کے نام پر غور و خوض ہوا تو پنجاب کے سر محمد شفیع نے ایک کاغذ پر ’’مسلم لیگ‘‘ لکھ کر آفتاب احمد کو دیا جنہوں نے یہ کاغذ حسن الملک اور وقار الملک کو دکھایا۔ انہوں نے اس نام کو پسند کیا اور متفقہ طور پر یہی نام اختیار کر لیا گیا۔مسلم لیگ کے قیام کا معتدل مزاج انگریزی اخباروں مثلاً ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ اور لکھنو سے چھپنے والے ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ نے خیر مقدم کیا۔ جبکہ متعصب ہندو اخبارات نے اس کی مخالفت کی۔
علامہ اقبال کی یہ خواہش کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک علیحدہ تشخص ہو اور مسلمان ایک قابل قدر قوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں اور ان کے نزدیک بہترین حل یہ ہے کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہو جہاں وہ اپنے دین اور روایات کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔علامہ اقبال نے 28 مئی 1937ء کو قائداعظم کو ایک خط لکھا کہ ہندوستان کے مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ ملک کو ایک سے زیادہ ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس طرح مسلمان اسلامی شریعت بھی نافذ کر سکیں گے۔ علامہ اقبال نے قومیت کے نظریہ کو اُجاگر کیا جو مسلمانوں کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ممالک کے حصول کی بنیاد قرار دیا گیا۔
برصغیر میں فروری 1937 ء کے انتخابات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ہندو ؤں نے برصغیر کے مسلمانوں کے گرد معاشی، سیاسی، سماجی و معاشرتی گھیرامزید تنگ کرنا شروع کر دیا تھا،ذات پات، اونچ نیچ اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہندو ؤں نے نہ صرف مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی تھی بلکہ دیگر اقلیتوں جن میں عیسائی وغیرہ بھی شامل تھے ان کا جینا بھی دو بھر ہو گیا تھا، ایسے حالات میں مسلمانوں کو اپنی سماجی، ثقافتی، سیاسی، معاشرتی، مذہبی اور معاشی روایات کو پروان چڑھانے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا اور یہ دو قومی نظریے کی انتہا تھی، مزید یہ کہ اقتدار کے نشے میں مست کانگریسی حکومت نے ہندو اکثریت کو رام کرنے کیلئے انتہاپسند فیصلے کیے۔ بندے ماترم جیسے مسلم مخالف ترانے کا انتخاب انہی میں سے ایک فیصلہ تھا کہ سبھاش چندر بوس، کانجی دوارکاداس اور خود رابندرناتھ ٹیگور روکتے ہی رہ گئے۔ سبھاش کے بھائی سرت چندربوس کے ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ پوتے سوگاتا بوس نے حال ہی میں اپنے چچا کی سوانح میں ٹیگور کے گاندھی کے نام خطوط بھی چھاپے ہیں جس میں بندے ماترم کو مسلمان مخالف گیت قرار دیتے ہوئے ٹیگور نے اسے اپنانے سے منع کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ مشہور تاریخ دان کے کے عزیز نے تو کانگریسی وزارتوں کی قراردادوں اور فیصلوں پر مشتمل دو جلدوں میں مستند کتاب بھی لکھی ہے جو ایسے ہی ناعاقبت اندیش فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ تو یہ وہ سیاست تھی جو 23 مارچ 1940 کا جواز مہیا کرتی ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے 9 مارچ 1940 کو مشہور انگریزی ہفت روزہ ٹائم اینڈ ٹائڈ میں واضح طور پر ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’ہندوستان کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ جہاں تک حکومت برطانیہ کا تعلق ہے وہ اپنے اس مقصد کا اعلان کرچکی ہے کہ ہندوستان کو جلدازجلد State of West Minister کے مطابق دولت مشترکہ کے دوسرے ارکان کے برابر آزادی دی جائے گی اور اس مقصد کی تکمیل کیلئے وہ ہندوستان میں اسی قسم کا جمہوری آئین نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا اسے خود تجربہ ہے اور جسے وہ سب سے بہتر سمجھتی ہے۔ اس طرز کے آئین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو سیاسی جماعت انتخابات میں کامیاب ہو اسی کے ہاتھ میں عنان حکومت ہو۔یہ ارادہ بظاہر صحیح معلوم ہوتا ہے، لیکن ہندوستان کے مخصوص اور غیر معمولی حالات کو دیکھتے ہوئے نہایت غیر مناسب ہے۔ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں حکومت کے اتنے طویل تجربے کے باوجود برطانیہ اس ملک کے حالات سے اچھی طرح واقف نہیں، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کے اکثر ممبر بھی اس معاملے میں بالکل بے خبر ہیں، اسی لاعلمی کے باعث اب تک یہ بات برطانیہ کی حکومت اور اس کے عوام کی سمجھ میں نہ آسکی کہ برطانوی طرز کا پارلیمانی آئین ہندوستان کیلئے ہرگز مناسب نہیں۔ برطانوی قوم صحیح معنوں میں ایک یک رنگ اور متحد قوم ہے اور وہاں جس طرز کی جمہوریت رائج ہے وہ اسی قومی یک رنگی اور اتحاد کی بنیاد پر قائم ہے، مگر ہندوستان میں حالات بہت مختلف ہیں اور قومی یک رنگی یہاں مفقود ہے۔لہٰذا برطانوی طرز کی جمہوریت اس ملک کیلئے بالکل موزوں نہیں۔ ہندوستان کی آئینی الجھنوں کا بنیادی سبب یہی ہے کہ یہاں ناموزوں اور ناموافق طرز حکومت کے قیام پر اصرار کیا جارہا ہے۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے 22,23,24 مارچ 1940 ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا ستائیسویں سالانہ اجلاس عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں تاریخی اہمیت کی حامل قرار داد لاہور پیش کرنا تھی جو بعد میں چل کر قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ 21 مارچ 1940 ء کا قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچے جہاں لوگوں کا جم غفیر آپ کے شاندار استقبال کیلئے موجود تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور گرد و نواح کے تمام علاقے فلک شگاف نعروں سے گونج رہے تھے۔22 مارچ 1940 کو لاہور کے مشہور منٹو پارک میں جسے اب گریٹر اقبال پارک کہا جاتا ہے۔مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ کا قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ستائیسویں سالانہ اجلاس شروع ہوا،قائداعظم محمد علی جناح نے اجلاس کی صدارت کی جس میں نواب سرشاہ نواز ممدوٹ نے استقبالیہ خطبہ دیا۔ اس سے چار روز پیشتر لاہور میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، خاکساروں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم جلوس نکالا اور حکومت پنجاب نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کرکے متعدد خاکساروں کو شہید کردیا، اس وجہ سے شہر میں کافی کشیدگی پھیل چکی تھی، بعض لوگوں نے قائد اعظم کو جلسہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا، لیکن قائد اعظم نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا اور جلسہ مقررہ تاریخ پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔مسلم لیگ کا یہ اجلاس تاریخی لحاظ سے بہت اہم تھا اور اس اجلاس میں ہندوستان کے کونے کونے سے پچاس ہزار سے بھی زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔قائد اعظم محمد علی جناح نے تقریباََ 100 منٹ پر مشتمل شاندار تقریر کی جس کو سن حاضرین جلسہ دم بخود رہ گئے۔اپنی طویل تقریر میں قائد اعظم نے ملک کے سیاسی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا اور کانگریسی لیڈروں سے اپنی گفتگو اور مفاہمت کی کوششوں کی تفصیلات بتائیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ:’’قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے، مسلمان اس تعریف کی رو سے ایک الگ قوم ہیں۔ لہٰذا وہ اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی ایک الگ مملکت ہو جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی بسر کرسکیں۔ ہندو اور مسلمان ہر چیز میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہم اپنے مذہب، تہذیب و ثقافت، اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنے طرزِ تعمیر، اپنے اصول و قوانین، اپنی معاشرت، اپنے لباس غرض یہ کہ ہر اعتبار سے مختلف ہیں۔ہندو اور مسلم فرقے نہیں بلکہ دو قومیں ہیں۔ اس لئے ہندوستان میں پیدا ہونے والے مسائل فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔ہندوستان کے مسلمان آزادی چاہتے ہیں، لیکن ایسی آزادی نہیں جس میں وہ ہندوؤں کے غلام بن کر رہ جائیں۔ یہاں مغربی جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ ہندوستان میں صرف ایک قوم نہیں بستی۔ چونکہ یہاں ہندو اکثریت میں ہیں اس لئے کسی بھی نوعیت کے آئینی تحفظ سے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ ان مفادات کا تحفظ صرف اس طرح ہوسکتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو اور مسلم انڈیا میں تقسیم کردیا جائے، ہندو مسلم مسئلے کا صرف یہی حل ہے اگر مسلمانوں پر کوئی اور حل ٹھونسا گیا تو وہ اسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے‘‘۔
23 مارچ 1940 ء کی قرار داد کی تیاری میں اس امر کو خاص طور پر توجہ کا مرکز بنایا گیا تھا کہ قرار داد میں کہیں بھی کوئی کمی یا خامی نہ رہ جائے جس کا فائدہ دشمن عناصر اٹھائیں اس مقصد کیلئے بہت سے عبقری، دانشور اور قانونی ماہرین کو قرار داد کے متن کی تاری میں شامل کیا گیا تھالیکن ہندوؤں کی کینہ پرور لیڈر شپ ایک جامع اور مکمل قرار داد پر تنقید کرنے سے باز نہ رہ سکی ، قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے قرار داد کی تیاری سے لیکر تمام معاملات بخیر و عافیت طے پا گئے۔ برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں 23 مارچ 1940 کا دن نہایت اہمیت کا حامل ہے۔۔23 مارچ 1940ء کا دن دو قومی نظریے کی وجہ سے طلوع ہوا تھا۔ قراردادِ پاکستان کے ظہورکا سبب بھی دو قومی نظریہ تھا، اور دو قومی نظریہ لاالٰہ الااللہ محمد الرسول اللہ کے سوا کچھ نہ تھا۔قائد اعظم کی اس تاریخی تقریر سے اگلے روز یعنی 23 مارچ 1940 کو شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے وہ تاریخی قرارداد پیش کی جسے قرارداد لاہور کہا جاتا ہے جو آگے چل کر قیام پاکستان کی بنیاد قرار پائی۔شیربنگال مولوی اے کے فضل الحق نے تاریخی قرار داد پیش کرنے کے بعد اس کی حمایت میں تقریر بھی کی، جس میں انہوں نے بنگال اسمبلی میں اپنی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا اور یہ ثابت کیا کہ فرزندانِ توحید کی آزادی کی صرف یہی ایک صورت ہے، چودھری خلیق الزماں نے اس قرار داد کی تائید کی، ان کی تائیدی تقریر کے بعد مولانا ظفر علی خاں‘ سرحد اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر سردار اورنگ زیب خاں اور سرعبداللہ ہارون نے تقاریر کیں، کم و بیش پورے برصغیر کی مسلمان قیادت نے اس پلیٹ فارم سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے نئے عزم اور ولولے سے سفر آزادی شروع کرنے کا عہد کیا، اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لیے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا شاخسانہ تھا۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔23 مارچ 1940 ء کی اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ’’کوئی بھی دستوری خاکہ مسلمانوں کیلئے اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ہندوستان کے جغرافیائی اعتبار سے متصل وملحق یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی حد بندی نہ کی جائے اور ضروری علاقائی ردوبدل نہ کیا جائے اور یہ کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے انہیں خودمختار ریاستیں قرار دیا جائے۔جس میں ملحقہ یونٹ خودمختار اور مقتدر ہوں اور یہ کہ ان یونٹوں کی اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے صلاح و مشورے سے دستور میں مناسب و موثر اور واضح انتظامات رکھے جائیں اور ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان کے اور دیگر اقلیتوں کے صلاح مشورے سے ان کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے‘‘۔قرارداد لاہور کو ہندوؤں نے طنزیہ طور پر قرارداد پاکستان کا نام دے دیا اور بے حد غم و غصے کا اظہار کیا۔قرار داد کی پیشی اور منظوری کے بعد مسلمان ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ایک روشن صبح کی جانب اپنا سفر شروع کرنے جا رہے تھے جس کی سربراہی تاریخ کے عظیم ترین لیڈر حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے۔برصغیر کے مسلمان قائداعظم کی قیادت میں رواں دواں منزل مقصود کی طرف بڑھتے رہے، انہیںیقین واثق تھا کہ منزل دور نہیں۔ بالآخر قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت اورکوششوں کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ’’پاکستان‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کا قیام محض ایک تاریخی حادثہ نہ تھا اور نہ ہی سیاسی فتح بلکہ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اپنے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کی خواہش کا ثمر تھا۔ درحقیقت قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان بناکر اپنی تہذیب، مذہبی اقدار اور ثقافت کو بچالیا ورنہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا وہی حشر ہوتا جو اسپین میں مسلمانوں کا ہوا۔
اسلام کا ایک ’’معجزہ‘‘ یہ تھا کہ تحریکِ پاکستان ابتدا میں مسلم اقلیتی صوبوں اور علاقوں مثلاً یوپی، دلی، بہار وغیرہ میں زیادہ مقبول تھی۔ حالانکہ ان علاقوں کے مسلمانوں کو خوب معلوم تھا کہ جداگانہ ریاست کا مطالبہ مسلمانوں کی اکثریت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، چنانچہ پاکستان میں وہی صوبے اور وہی علاقے شامل ہوں گے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لیکن اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کا مسئلہ سیاسی، سماجی یا معاشی مفاد نہیں تھا۔ ان کا مسئلہ ’’نظریاتی مفاد‘‘ تھا، چنانچہ انہوں نے قیام پاکستان کے سلسلے میں تن، من، دھن کی بازی لگادی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ 1946ء تک پنجاب پر خضر حیات ٹوانہ اور یونینسٹ پارٹی کا قبضہ اور غلبہ تھا۔ یونینسٹ پارٹی نہ صرف یہ کہ قائداعظم اور مسلم لیگ کو سخت ناپسند کرتی تھی بلکہ اس میں ہندوؤں اور سکھوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ لیکن برصغیر کے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمان قیام پاکستان کیلئے دن رات کام کررہے تھے۔ یہ اسلام اور اس کے معجزے کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ ایسا معجزہ تھا کہ خود مسلمانوں کی تاریخ بھی اس جیسی کوئی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائیں،آج 79 سال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر 23 مارچ 1940 ء کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور تجدید عہد وفا کرتے ہوئے قرار داد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائد اعظم اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہوگا، دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہوگا، دُنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا، ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کرکے دکھایا تھا، ہمیں قرار داد پاکستان کی روشنی میں مملکت خدادا پاکستان کو پروان چڑھانے کیلئے انفرادی و اجتماعی طور پر سر ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا شاہین بننا ہوگا۔ا للہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانی قوم کا حامی و ناصر ہو، پاکستان زندہ باد!
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •