Voice of Asia News

نئی دہلی میں اتنا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ حملے کی مذمت میں مسلمان یا مسجد کا الفاظ استعمال کرے.شاہ محمود قریشی

بیجنگ(وائس آف ایشیا) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں مسلمانوں پر دہشت گردی کے حملے پر بھارتکی جانب سے کی گئی مذمت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں اتنا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ حملے کی مذمت میں مسلمان یا مسجد کا الفاظ استعمال کرے. صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ مندر پر حملہ ہوتا تو پاکستان بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا.وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان سے مذاکرات میں ان کو انتخابات میں نقصان ہوسکتا ہے.اپنی گفتگو کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا نے کرتارپور راہداری کھولنے کے عمل کو سراہا اور اسے کرتارپور جذبے کا نام دیا. چین کے دورے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ بیجنگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ وہ پاکستان کا لازوال دوست ہے، حالیہ بحران میں جس طرح اس نے پاکستان کا ساتھ دیا اس سے ہمارا ان پر اعتماد مزید بڑھ گیا ہے.انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں چین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرت کی اہمیت دوبالہ ہوگئی، اجلاس کی نوعیت اس لیے تبدیل ہوگئی کیونکہ خطے کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے، چین، پاکستان کا ایسا دوسرے ہے جس پر مکمل اعتماد کیا جاسکتا ہے. پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق انہوں نے کہا کہپاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے سی پیک کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کی اور اس پر مکمل اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے.انہوں نے کہا کہ چین نے 40 برسوں میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا ہے، وزیراعظم عمران خان ہمیشہ چینی قیادت کے وڑن کو بہت متاثر ہیں، پاکستانمیں چینی سرمایہ کاروں کو سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے، چینی سرمایہ کار بے دھڑک پاکستان آئیںہم ان کے تحفظ کا ذمہ لیتے ہیں. شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کسی سرمایہ کار کو تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) میں کوئی رکاوٹ ہے تو ہمیں بتائے. کراچی میں چینی قونصلیت پر حملے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس حملے کے پیچھے کارفرما قوتیں بے نقاب ہوچکی ہیں، اس واقعے میں ملوث لوگ گرفتار ہوچکے ہیں اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا. 

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •