Voice of Asia News

ہالینڈ ٹرام حملہ: ملنے والے خط سے دہشت گرد مقاصد کی طرف اشارہ

یوتریخت(وائس آف ایشیا) ڈچ حکام کا کہنا ہے کہ یوتریخت ٹرام حملے کے مشتبہ مسلح شخص کی کار سے ملونے والے خط کی روشنی میں وہ دہشت گرد مقصد کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پیر کو 3 افراد کی ہلاکت اور 7 کے زخمی ہونے کے واقعے پر پولیس 37 سالہ ترک نژاد مشتبہ شخص گوکمین تانس اور 2 دیگر افراد سے سوالات کر رہی ہے۔اس سے قبل ڈچ وزیر اعظم مارک روتتے کا کہنا تھا کہ گھریلو تنازع اور دیگر مقاصد کو خارج نہیں کیا جاسکتا لیکن پولیس اور پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ تحقیقات دہشت گردی کی طرف بڑھ رہی ہے۔انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اب تک دہشت گردی کے مقصد کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے، یہ دیگر چیزوں سمیت کار سے ملنے والے خط اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہماری تحقیقات میں مرکزی ملزم اور متاثر کے درمیان کوئی رابطہ سامنے نہیں آیا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ فائرنگ کے واقعے میں جنوب یوتریخت کے ویانین سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ خاتون اور یوتریخت کے 28 سالہ اور 49 سالہ مرد شامل ہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک سرخ رینالٹ کلیو گاڑی پکڑی، جسے حملہ آور نے بچا کار کے طور پر استعمال کیا تھا جبکہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ایک آتشی اسلحہ بھی ملا تھا۔پولیس کا مزید کہنا تھا کہ تانس کے علاوہ 23 سالہ اور 27 سالہ دیگر 2 افراد سے بھی تحقیقات کی جارہی ہے، رپورٹس کے مطابق یہ دونوں افراد بھائی ہیں لیکن مرکزی ملزم سے ان کا تعلق نہیں ہے۔علاوہ ازیں 24 اوکتوبرپلین اسکوائر کے قریب حملہ کے مقام پر سوگ کی فضا ہے اور لوگ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے وہاں پھول رکھ رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہالینڈ میں مختلف عمارتوں اور غیر ملکی سفارتخانوں پر پرچم سرنگوں ہے، تاہم فارنزک پولیس کی جانب سے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ رواں دواں ہوگئی جبکہ فائرنگ کا شکار ٹرام کو ہٹا دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ملزم سے متعلق یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ وہ 2 ہفتے قبل ہی ریپ کیس میں جیل سے بری ہوا تھا لوگوں میں غم و غصہ مزید بڑھ رہا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے