Voice of Asia News

امریکہ میں پاکستانی خاتون پر سفید فام انتہا پسند کا حملہ

امریکہ(وائس آف ایشیا)امریکی شہر نیو یارک کے علاقے بروکلین میں پاکستانی نڑاد امریکی خاتون بھی نصلی تعصب کا شکار ہو گئیں۔اس حوالے سے قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بروکلین میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی نڑاد خاتون امبر نے میڈیا کو بتایا کہ سفید فام شخص نے اسے سڑک پر چلتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔پولیس نے شدید دباؤ کے بعد اس واقعے کو نسل پرستی کا واقعہ قرار دے دیا۔اس موقع پر پاکستان خاتون سے اظہار یکجہتی کے لیے ہر مکتبہ فکر سے وہاں لوگ موجود تھے۔پاکستانی خاتون کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ اس طرح کا واقعہ پہلی بار ہوا ہے اس لیے میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوں،میں نے اپنا کلچر ڈریس پہنا ہوا تو جس کو دیکھتے ہوئے مجھ پر حملہ کیا گیا۔مسلم کمیونیٹی کی جانب سے حملہ آور کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔تاہم یہاں ہر یہ بات قابل غور ہے کی مغربی ممالک میں انتہا پسندی بڑھتی جا رہی ہے سفید فام انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 15 مارچ کو جمعہ کے روز ایک سفید فام انتہا پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔شہید ہونے والوں میں 9 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔حملہ آور کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حامی ہے۔تاہم ٹرمپ کرائسٹ چرچ سانحہ کو دہشت گردی قرار دینے سے گریزاں ہیں۔ امریکا کے مقبول گلوکار جان لیجنڈ نے سانحہ کرائسٹ چرچ کا ذمے دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرا دیا اور کہا کہ ہ صدر ٹرمپ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ نسل پرستی پر مبنی بیان بازی کر کے غلط کر رہے ہیں، برائی کے اس نظریے کے تحت سیاہ فام افراد نے مساجد، معبد اور گوردواروں کو نشانہ بنایا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعے کے براہِ راست ذمے دار نہیں ہیں ان کے بیانیے نے کرائسٹ چرچ کے قاتل کو اکسایا. امریکی گلوکار نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ برائی کے اس نظریے کی مذمت کریں اور اس کا مقابلہ کریں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •