Voice of Asia News

دس سال تک صرف استادوں کو سنتا رہا ،انکی اجازت کے بعد ریڈیو پر آڈیشن دینے گیا‘ گلوکار غلام علی

لاہور(وائس آف ایشیا) نامور گائیک غلام علی نے کہا ہے کہ دس سال تک صرف استادوں کو سنتا رہا اور پھر ان کی اجازت کے بعد ریڈیو پاکستان پر آڈیشن دینے گیا تھا ، میرا ایمان کی حد تک یقین ہے کہ استادوں کی عزت کے بغیر مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا او ر مجھے جو عزت و مرتبہ ملا ہے وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ ایک انٹر ویو میں غلام علی نے کہا کہ میرے والد محترم کو بھی موسیقی سے لگاؤ تھا اور وہ استادبڑے غلام علی کے پرستار تھے۔میرے والد نے مجھے موسیقی کی تربیت کیلئے استاد برکت اور استاد مبارک علی کے سپرد کر دیا تھا اور میں دس سال تک استادوں کو سنتا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ15سال کی عمر میں ریڈیو پاکستان پر پہلی غزل پیش کی اور اپنے استادوں سے اجازت لے کر ریڈیو پاکستان آڈیشن دینے کیلئے گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ استادوں کے احترام کا نتیجہ تھاکہ پہلی غزل پیش کرنے کے بعد ہر شخص نے میری پذیرائی کی اور مجھے شاباش دی۔دو ماہ بعد مجھے بی کلاس ،پھر ا ے کلاس دی گئی اور جلد ہی مجھے سپیشل کیٹگری میں شامل کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ والد صاحب فلموں میں گائیکی کے سخت مخالف تھے لیکن موسیقار بخشی وزیر نے والد کو بڑی مشکل سے راضی کیا اور اس کے بعد میں نے فلموں کے لئے بھی گیت پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ میری شاعر ناصر کاظمی سے بڑی الفت تھی اور ان کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزرا،صوفی تبسم مجھے اپنی وہ غزلیں دیا کرتے تھے جو وہ کسی ا ور کو نہیں دیتے تھے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے