Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر،سکول ٹیچر کی دوران حراست ہلاکت کیخلاف احتجاج جاری

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں سکول ٹیچر کی دوران حراست ہلاکت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ،مزاحمتی خیمے کا عالمی تحقیقات کا مطالبہ،وادی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے اور ریلیاں،کاروباری مراکز تجارتی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل،ٹرین کا پہیہ بھی رک گیا ،بھارتی فوج کا پنزگام کپواڑہ کا محاصرہ ،گھر گھر تلاشی کے دوران اہل خانہ پر تشدد۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے اونتی پورہ میں سکول ٹیچر رضوان پنڈت کی زیر حراست تشدد سے ہلاکت کے خلاف مقبوضہ وادی میں تیسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران پلوامہ ،کپواڑہ،انت ناگ،سرینگر،بارہمولہ،کولگام ،بڈگام،شوپیاں اور راجوڑی سمیت مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں جن میں مظاہرین نے بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی ۔ کئی علاقوں میں بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس دوران احتجاج اور کشیدگی کے باعث وادی میں کاروباری مراکز،دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔وادی میں ٹرین سروس کو بھی ایک دن کیلئے بند کر دیا گیا ۔رضوان کو پولیس نے تین روز قبل اس کے گھر واقع اونتی پورہ سے گرفتار کیا تھا ۔اس کی موت پولیس حراست کے دوران گذشتہ روز واقع ہوئی اور اس کیخلاف وادی بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ادھر تحریک حریت،فریڈم پارٹی،پیپلز لیگ،تحریک مزاحمت،انجمن شرعی شیعیان ،محاذ آزادی،مسلم لیگ اور پیروان ولایت نے رضوان احمد پنڈت ساکن اونتی پورہ کی زیر حراست ہلاکت کو بربریت سے تعبیرکیا ہے۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے رضوان احمد پنڈت(اونتی پورہ)کی زیر حراست ہلاکت کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کو چند روز قبل گرفتار کرکے انٹروگیشن سنٹرکارگو کی تحویل میں دیا گیا تھا، جہاں انہیں شدید جسمانی ا ذیتیں دے کر جاں بحق کیا گیا۔صحرائی نے کہا کہ رضوان احمد کی زیر حراست ہلاکت مہذب اورموجودہ علمی دور میں ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور اس کے قائدین خود کو ایک مہذب قوم کہتے ہوئے نہیں تھکتے،مگر جموں کشمیر کے باشندوں کے ساتھ روا رکھے جارہے ظالمانہ کاروائیوں سے بھارتی جمہوریت کے داغ نمایاں ہوئے ہیں ۔ صحرائی نے کہا کہ آخر بھارت کے پالیسی ساز ادارے جموں کشمیر کے عوام کا خون بہاکر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس سانحہ کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہوں کا خون بڑی بے دردی سے بہایا جارہا ہے ،حالانکہ جموں کشمیر کے عوام کاقصور صرف یہ ہے کہ وہ گزشتہ71برسوں سے لٹکتے سلگتے ہوئے متنازعہ مسئلہ کا پائدار اور حتمی حل چاہتے ہیں لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کو طاقت کی بنیاد پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ رضوان احمد پنڈت کی زیر حراست ہلاکت کی تحقیقات کسی غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے کے ذریعے ہونی چاہئے۔صحرائی نے رضوان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ۔ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے ہلاکت کو بربریت کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں کو یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک لیجاکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانی چاہئے۔فریڈم پارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیری عوام گذشتہ تین دہائیوں سے سرکاری سطح پر ایسے ہی جرائم کا سامنا کرتے آرہے ہیں جہاں حکومتی سطح پر سیاسی مخالفین کو صف ہستی سے ہی مٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے واقعات کیخلاف پہلے ہی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہوتی تو حالات یہاں تک نہیں پہنچتے کہ آج ایک بے گناہ اور معصوم سکول ٹیچر کو حراست کے دوران قتل کیا جاتا۔پیپلز لیگ چیئرمین غلام محمد خان سوپوری اورسینئر لیڈر عبد الرشید ڈار نے مہلوک نوجوان کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی زیر حراست ہلاکت کا سانحہ کوئی کشمیر میں اس نوعیت کا اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی فورسز کی حراست میں کئی کشمیری نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری فورسز کارروائیوں سے اب کوئی بھی فرد بشر محفوظ نہیں رہا ہے۔تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی پالیسی پر گامزن ہوکر جموں کشمیر کے عوام پر ایسے دلدوز مظالم روا رکھے ہوئے ہے جس کے آگے ہٹلر اور چنگیز کی روحیں بھی شرمندہ ہونگی لیکن جموں کشمیر کے بہادر عوام نئی دہلی کی اس ذہنیت کے آگے پوری یکسوئی اور عزم و استقلال کے ساتھ سینہ سپر ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت (گ)لیڈرآغا حسن نے ہلاکت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس کارروائی کو سراسر غیر انسانی اور سفاکانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات سیکورٹی ایجنسیوں کے عزائم اور افسپا کا نتیجہ قرار دیا۔محاذ آزادی کے صدر سید الطاف اندرابی نے زیر حراست ہلاکت کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کو افسپا کی صورت میں مار دھاڑ کی لائسنس حاصل ہے۔انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست ہلاکتوں ، پکڑ دھکڑ اور بشری حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لی جائے۔ مسلم لیگ ترجمان محمد صعاد نے ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات ایک تسلسل سے رونما ہورہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کی جارہی ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پیروان ولایت نے استاد کے حراستی قتل کوپورے قوم کا قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت منصوبہ بند طریقہ سے یہاں مار دھاڑ کررہا ہے اور جیلوں میں قیدیوں کو عذاب و عتاب کا شکار بنا کر ان کو بے رحمی سے قتل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے بعد تحقیقات کا ڈھنڈورا پیٹنا دھوکہ بازی اور فریب کاری ہے اور اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے مترادف ہے ۔ دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ،پیپلز ڈیموکریٹک فورم ،بھارتیہ جنتا پارٹی اورعوامی نیشنل کانفرنس نے اونتی پورہ ہلاکت کو جمہوریت پر بدنما داغ قرار دیا ہے۔پی ڈی پی لیڈر عبدالقیوم وانی نے رضوان پنڈت نامی نوجوان استاد کی زیرحراست ہلاکت کو جمہوریت پربدنماداغ قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس ہلاکت میں ملوث افراد کو دن دہاڑے پھانسی پر لٹکایاجاناچاہئے ۔ایک بیان میں عبدالقیوم وانی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پوچھ تاچھ کے نام پر اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کو بیدردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔قیوم وانی نے کہا کہ پوچھ تاچھ کے نام پر جو سفاکی منظرعام پر آئی ہے اس نے ہرذی روح کو ہلا کررکھ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پولیس اور این آئی اے کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کئے جانااب معمول بن چکا ہے اورہرسو اب عدم تحفظ کااحساس پایا جاتا ہے۔پی ڈی ایف چیئرمین حکیم محمدیاسین نے حراستی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور اس گھناو نے جرم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دینے کی مانگ کی ہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے کہا ہے کہ رضوان پنڈت نامی نوجوان کی زیر حراست ہلاکت سے کشمیر کے نوجوانوں میں خوف و دہشت اور عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیر تفتیش ہلاکتوں کا سلسلہ کشمیر میں کافی دیر سے چلتا آرہا ہے اور اگر کشمیری نوجوانوں کے خلاف دھونس دباو کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سے وہ قومی دھارے سے اور بھی زیادہ دور ہوں گے اور امن و قانون کے اداروں سے انکا اعتماد اور بھی ہٹ جائے گا۔ حکیم یاسین نے مرحوم ٹیچر رضوان پنڈت کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے روح کے ایثال ثواب کے لئے بھی دعا کی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی ترجمان الطاف ٹھاکر نے اونتی پورہ کے استاد کی زیرحراست ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اس کی معینہ مدت کے اندرمکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ اس کا سبب معلوم ہو۔ ایک بیان میں ٹھاکر نے کہا کہ رضوان نامی نوجوان کی پولیس حراست میں موت کی شفاف اور معینہ مدت کے اندر تحقیقات کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ استاد قوم کااثاثہ ہوتے ہیں اوررضوان کی پولیس حراست میں موت ٹھیک نہیں ہے ۔ عوامی نیشنل کانفرنس نے اونتی پورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی پولیس حراست میں موت واقعہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس سلسلے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ پارٹی کے نائب صدر ایڈوکیٹ مظفر احمد شاہ نے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظفر شاہ نے بتایا کہ عوامی نیشنل کانفرنس معاملے میں ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی سپریم کورٹ کا رجوع کرے گی جہاں معاملے کی نسبت ایک عرضی دائر کی جائے گی۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی مئیرشیخ محمد عمران نے تحقیقات کیلئے ایک مدت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب کشمیرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اونتی پورہ کے رضوان احمد پنڈت جسے تین روزقبل پولیس نے گرفتار کرکے ایس اوجی کیمپ کارگومنتقل کیاتھا،کی حراستی ہلاکت کی پرزورالفاظ میں مذمت کی ہے ۔بار کے ایک بیان کے مطابق رضوان احمد جو پیشے سے ایک استاد تھااوراپنااسکول چلا رہاتھا،کوپولیس نے چھ ماہ قبل بغیرکسی وجہ کے گرفتار کیا تھااور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کٹھوعہ جیل میں بند کیا۔اس کی نظربندی کو اگرچہ عدالت نے کالعدم قراردیا لیکن اسے پھر بھی رہا نہ کیاگیا۔بیان کے مطابق اسے اونتی پورہ پولیس نے ایک بے بنیاد معاملے میں پھنسایاجس میں اسے پلوامہ کی عدالت نے ضمانت پررہا کیالیکن اس کے باوجود اسے پولیس تھانہ اونتی پورہ میں غیرقانونی طور 20دنوں تک بند رکھاگیا۔20روزکی غیرقانونی نظربندی کے بعد اسے رہا کردیاگیااورکچھ تین دن قبل اسے دوبارہ گرفتار کیا گیااورحراست کے دوران اسے تشددکا نشانہ بناکر ہلاک کیاگیا۔ بار نے بیان میں مطالبہ کیا کہ رضوان کی حراستی ہلاکت کی تحقیقات سپیشل تحقیقاتی ٹیم سے کرائی جائے جو روزانہ بنیادوں پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کو اپنی رپورٹ پیش کرے ،تاکہ ایک معصوم کی ہلاکت کے ذمہ دار سزاسے نہ بچ پائیں ۔بار نے بین الاقوامی برادری پرزوردیا کہ وہ رضوان احمد پنڈت کی حراستی ہلاکت کا نوٹس لیں اورریاست جموں کشمیر میں فورسزکے ہاتھوں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف آوازبلند کریں ۔بار نے متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرنے کیلئے مزاحمتی قیادت کی طرف سے 20مارچ کودی گئی ہڑتال کی کال کی حمایت کرنے کافیصلہ کیا۔اس دوران بار کی ایک تعزیتی میٹنگ میں جموں کشمیر ہائی کورٹ کے سینئر ترین ایڈوکیٹ ایس ہردیوسنگھ اوبرائے کی موت پر دکھ اور افسوس کااظہار کیاگیا۔ زعمائے انجمن حمایت الاسلام بالخصوص سرپرست مولانا شوکت حسین کینگ، صدر مولانا خورشید احمد قانونگو، مولانا عبدالحق اویسی نے نوجوان کی ہلاکت پر سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرتکبین کو سزا دی جائے تاکہ لواحقین کو انصاف ملے۔کاروان اسلامی کے امیر مولانا غلام رسول حامی نے انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات امن اور انسانیت کے منافی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دریں اثناء بھارتی فوج اور سی آر پی ایف نے کرالہ پورہ کے مضافاتی گاؤ ں پنزگام علاقہ کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کاروائی شروع کی ۔منگل کے روز فوج اور فروسز نے پنزگام کو محاصرے میں لیا ۔فوج نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر اس علاقہ کو محاصرے میں لیا اور منگل کی صبح کو تلاشی کاروائی شروع کی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج نے گھر گھر تلاشی کی اور باریک بینی سے کھیت اور کھلیانو ں کے علاوہ میوہ با غات کی بھی تلاشی کی ۔تلاشی کے دوران بھارتی فورسز نے لوگوں کو گھروں سے نکال کر کئی گھنٹے باہر کھڑے رہنے پر مجبور کیا اور مکینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے