Voice of Asia News

بھارت نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند جماعتوں نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے ۔رضوان اسد پنڈت کی شہادت المیہ ہے انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں کو یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک لیجاکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانی چاہئے۔تحریک حریت،فریڈم پارٹی،پیپلز لیگ،تحریک مزاحمت،انجمن شرعی شیعیان ،محاذ آزادی،مسلم لیگ اور پیروان ولایت نے رضوان احمد پنڈت ساکن اونتی پورہ کی زیر حراست شہادت کو بربریت سے تعبیرکیا ہے۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے رضوان احمد پنڈت کی زیر حراست شہادت کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کو چند روز قبل گرفتار کرکے انٹروگیشن سنٹرکارگو کی تحویل میں دیا گیا تھا، جہاں انہیں شدید جسمانی ا ذیتیں دے کر جاں بحق کیا گیا۔صحرائی نے کہا کہ رضوان احمد کی زیر حراست ہلاکت مہذب اورموجودہ علمی دور میں ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور اس کے قائدین خود کو ایک مہذب قوم کہتے ہوئے نہیں تھکتے،مگر جموں کشمیر کے باشندوں کے ساتھ روا رکھے جارہے ظالمانہ کاروائیوں سے بھارتی جمہوریت کے داغ نمایاں ہوئے ہیں ۔ صحرائی نے کہا کہ آخر بھارت کے پالیسی ساز ادارے جموں کشمیر کے عوام کا خون بہاکر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس سانحہ کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہوں کا خون بڑی بے دردی سے بہایا جارہا ہے ،حالانکہ جموں کشمیر کے عوام کاقصور صرف یہ ہے کہ وہ گزشتہ71برسوں سے لٹکتے سلگتے ہوئے متنازعہ مسئلہ کا پائدار اور حتمی حل چاہتے ہیں لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کو طاقت کی بنیاد پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ رضوان احمد پنڈت کی زیر حراست ہلاکت کی تحقیقات کسی غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے کے ذریعے ہونی چاہئے۔صحرائی نے رضوان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ۔ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے ہلاکت کو بربریت کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں کو یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک لیجاکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانی چاہئے۔فریڈم پارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیری عوام گذشتہ تین دہائیوں سے سرکاری سطح پر ایسے ہی جرائم کا سامنا کرتے آرہے ہیں جہاں حکومتی سطح پر سیاسی مخالفین کو صف ہستی سے ہی مٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے واقعات کیخلاف پہلے ہی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہوتی تو حالات یہاں تک نہیں پہنچتے کہ آج ایک بے گناہ اور معصوم سکول ٹیچر کو حراست کے دوران قتل کیا جاتا۔پیپلز لیگ چیئرمین غلام محمد خان سوپوری اورسینئر لیڈر عبد الرشید ڈار نے مہلوک نوجوان کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی زیر حراست ہلاکت کا سانحہ کوئی کشمیر میں اس نوعیت کا اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی فورسز کی حراست میں کئی کشمیری نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری فورسز کارروائیوں سے اب کوئی بھی فرد بشر محفوظ نہیں رہا ہے۔تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی پالیسی پر گامزن ہوکر جموں کشمیر کے عوام پر ایسے دلدوز مظالم روا رکھے ہوئے ہے جس کے آگے ہٹلر اور چنگیز کی روحیں بھی شرمندہ ہونگی لیکن جموں کشمیر کے بہادر عوام نئی دہلی کی اس ذہنیت کے آگے پوری یکسوئی اور عزم و استقلال کے ساتھ سینہ سپر ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت (گ)لیڈرآغا حسن نے ہلاکت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس کارروائی کو سراسر غیر انسانی اور سفاکانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات سیکورٹی ایجنسیوں کے عزائم اور افسپا کا نتیجہ قرار دیا۔محاذ آزادی کے صدر سید الطاف اندرابی نے زیر حراست ہلاکت کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کو افسپا کی صورت میں مار دھاڑ کی لائسنس حاصل ہے۔انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست ہلاکتوں ، پکڑ دھکڑ اور بشری حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لی جائے۔ مسلم لیگ ترجمان محمد صعاد نے ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات ایک تسلسل سے رونما ہورہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کی جارہی ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پیروان ولایت نے استاد کے حراستی قتل کوپورے قوم کا قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت منصوبہ بند طریقہ سے یہاں مار دھاڑ کررہا ہے اور جیلوں میں قیدیوں کو عذاب و عتاب کا شکار بنا کر ان کو بے رحمی سے قتل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے بعد تحقیقات کا ڈھنڈورا پیٹنا دھوکہ بازی اور فریب کاری ہے اور اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے مترادف ہے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •