Voice of Asia News

موجودہ سسٹم میں ہمیں انصاف فراہم ہونے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے جگموہن سنگھ

سری نگر(وائس آف ایشیا)آل پا رٹی سکھ رابطہ کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ا نیس سال گذرجانے کے باوجود چھٹی سنگھ پورہ میں مارے گئے35 سکھ کنبوں کو ابھی تک انصاف نہیں ملاہے۔ بیان میں آل پا رٹی سکھ رابطہ کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ19 سال گذر جانے کے باوجودانصا ف میں تاخیر کی وجہ سے سکھ طبقہ مایوس ہوچکا ہے۔جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ ریاستی سرکار اور بھارتی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیاہے۔رینہ نے کہا کہ کہ موجودہ سسٹم میں ہمیں انصاف فراہم ہونے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے لیکن ہم یہ مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہو تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ بات سمجھنے میں ناکام ہو رہا ہوں کہ ایسی کونسی بات تھی کہ ریاستی یا مرکزی حکومت نے35سکھوں کے قتل عام کی تحقیقات کرانے میں سنجید ہ کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ با ت سامنے آچکی ہے کہ پتھری بل میں پانچ عام شہری مارے گئے تھے اور فوج کا وہ دعوی کہ پانچ غیر ملکی جنگجو جو 36سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے مارے گئے ، غلط ثابت ہوا ہے تو چھٹی سنگھ پورہ کے قتل عام کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔۔انہوں نے کہا لوگوں کا جمہوری نظام ، اس کی سیاست اور فوجی انصاف پر اعتماد اٹھ چکا ہے ،ہم نے پہلے بھی ہوم سکریٹری حتی کہ وزیراعظم کو تحریری طور پر یاداشتیں پیش کی تھی کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائے لیکن کہیں سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ رینا نے مر کزی اور ریا ستی سرکار سے مطا لبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس کی از سر نو تحقیقات کر یں اور اصل مجر موں کو انصا ف کے کٹہر ے میں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ تب تک وادی میں مقیم سکھوں کو چین نہیں آ ئے گا جب تک نہ اس واقعہ میں ملوث افرد کے خلاف واقعی سزا نہیں دی جائے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •