Voice of Asia News

پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام سے متعلق مائیک پومپیو کا بیان دباؤ ڈالنے کے حربے ہیں

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)امریکی محکمہ خارجہ کے سیکرٹری مائیک پومپیو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جس پر اعلیٰ حکومتی ذرائع نے مائیک پومپیو کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے جبکہ مائیک پومپیو کے اس متنازعہ بیان پر پارلیمں ٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مائیک پومپیو کے حالیہ انٹرویو پر بات کرتے ہوئے اعلیٰ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کہ امریکہ نے پاکستان کی ایٹمی پالیسی کے بارے میں کوئی قطعی الزام عائد نہیں کیا۔ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے پاکستان میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی قائم ہے ، دہشتگرد گروپوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی جاری ہے۔پلوامہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی اہلکاروں پر مبینہ خودکش حملے کے بارے میں پاکستانی حکومتی ذرائع نے کہا کہ بھارت کے دیئے گئے ڈوزئیر کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسلام ا?باد جلد نئی دہلی کو جواب دے گا۔ تاہم حکام کا کہنا تھا ڈوزئیر میں کچھ نہیں اور یہ وقت کا ضیاع ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ انٹرویو میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کو درپیش دنیا کے پانچ بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔خصوصی انٹرویو میں مائیک پومپیو نے امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا انتظام ہر لحاظ سے عالمی معیار کا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس پراپنی رپورٹ بھی دے چکے ہیں۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ کا حامی ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی پالیسی کے بارے میں کوئی قطعی الزام عائد نہیں کیا گیا حالانکہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ اسلحہ کے بین الاقوامی معاہدوں کا پابند اور پاکستان اس حوالے سے اپنے وعدے کو سنجیدگی سے لیتا اور ان کا پابند ہے۔ سیکریٹری خارجہ کے مطابق اسے بین الاقوامی معاہدوں میں کیمیائی ہتھیاروں، حیاتیاتی ہتھیاروں، ایٹمی مواد اور سہولتوں کے تحفظ کے کنونشن اور ا?ئی اے ای اے کے ضابطہ اخلاق سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔پاکستان نے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لئے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) قائم کر رکھی ہے جس پر بین الاقوامی طور پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس حوالے سے اسٹرٹیجک پلان ڈویڑن بھی پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جسے 2001ء میں قائم کیا گیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر رضا ربانی امریکی سیکریٹری ا?ف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں دیے گئے بیان پر حکومت سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جا سکے۔رضا ربانی نے امریکی سیکریٹری ا?ف اسٹیٹ کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھرپور مزاحمت کے حامل ملک کے جوہری پروگرام پر سب سے سنگین الزام قرار دیا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •