Voice of Asia News

سمجھوتہ ایکسپریس کا فیصلہ بھارتی عدالت نے 4 ہندو انتہا پسندوں کو بری کر دیا

نئی دہلی (وائس آف ایشیا ) بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی عدالت نے پاکستانکی درخواست مسترد کر دی ہے۔بھارتی عدالت نے 4 ہندو انتہا پسندوں کو بری کر دیا ہے۔بھارت میں 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے کا فیصلہبھارت کی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیا گیا تھا۔11سال کے بعد مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا گیا جہاں 4 ملزمان کے خلاف زیرسماعت مقدمے میں متعدد گواہ اپنے بیان سے مکرچکے تھے۔یاد رہے کہ لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں 2007 میں ہریانہ کےپانی پت کے مقام پر دھماکا ہوا تھا جس میں 43 پاکستانی جاں بحق ہوئے تاہم 10بھارتی شہریوں سمیت دھماکے میں مجموعی طور پر 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے ،15افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، مرنے والوں میں 64 مسافر تھے جبکہ 4 کا تعلق ریلوے سے تھا۔بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق دہشت گرد حملے میں 10 پاکستانی زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں ٹرین کی کئی کوچز جل گئی تھیں۔ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اسے بھارت کی سالمیت، سیکیورٹی، خود مختاری اور اتحاد کو نشانہ بنانے کی منظم سازش قرار دیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر ہریانہ پولیس نے مقدمے کی ایف آئی درج کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے 2010 میں اس حملے کا مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی منتقل کردیا تھا۔پہلی چارج شیٹ جون 2011 میں فائل کی گئی جس کے بعد اگست 2012 اور جون 2013 میں بالترتیب دو ضمنی چارج شیٹ دائر کی گئیں۔ دھماکے کا الزام 8 افراد پر عائد کیا گیا تھا جن میں سے صرف 4 نے مقدمات کا سامنا کیا، مقدمے میں مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند عرف نابا کمار سرکار تھا جسے 2015 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔دیگر تین ملزمان کمال چوہان، راجیندر چوہدری اور لوکیش شرما سینٹرل جیل امبالا میں جوڈیشل حراست میں ہیں جبکہ تین ملزمان امیت چوہان، رام چندرا کال سنگرا اور سندیپ دانگے کو مقدمے میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تاہم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ایک اور ملزم سنیل جوشی دسمبر 2007 میں مدھیا پردیش میں مار دیا گیا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم اسیم آنند کو حیدرآباد دکن میں مکہ مسجد دھماکے اور اجمیر درگاہ دھماکے میں بری کیا جا چکا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے