Voice of Asia News

لاہور پریس کلب اور ’سچ‘ کی تلاش : محمد نوازطاہر

جانے لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کو کیا سوجھی ؟ اچانک ایک سیمینار منعقد کروا ڈالا ،موضوع بھی الیکٹرانک میڈیا کی ذمہ داریوں کو بنا ڈالا اور گفتگو بھی’’ سچ ‘‘ پر ہوتی رہی۔جس طرح کی گفتگو تھی اگرعلی میر کی ظرافت نہ ہوتی تو شائد مختصر ہوجاتی ، گفتگو کا آغاز افتخار احمد نے کیا اور ’سچ‘ کا’ فتنہ‘ بھی چھوڑدیا۔افتخار احمد کو ایک تجربہ کار صحافی اور تجزیہ کار تسلیم نہ بھی کیا جائے تو افتخار کے افتخار کوکوئی فرق نہیں پڑتا ،جنگ ا خبار کے صفحات اور جیو ٹی وی کا پروگرام ’جوابدہ ‘ خود آئینہ سامنے رکھ دیں گے۔افتخار بھی انسان ہیں ، بحیثیت انسان کئی مجبوریوں کا سامنا کرتے ہونگے جن میں جنگ اور جیو گروپ کی نوکری بھی پاپی پیٹ کا سوال تھا۔کچھ سال پہلے وہ دُنیا دار ہوئے اب چو بیس گھنٹے(24نیوز) والے ہوگئے۔ پریس کلب میں سیمینار میں سچ بولنے کا ’فتنہ‘خود چھوڑا اور پھر تسلیم کیا کہ جو سبھی کو کرنا چاہئے کہ ہم سب ہر جھوٹ اپنا سچ سمجھ کر سچ بولتے ہیں یہی افتخار کا سچ تھا۔اس سے بھی بڑا سچ یہ کہ ہم صحافت نہیں نوکری کرتے ہیں۔
افتخار احمد کو صحافتی نوعمری سے ہی لائٹ گفتگو میں چھیڑخانی والے سوال چھیڑ کر ’ فتنہ‘ سننے میں مزا آتا ہے۔ یہ مزا انہوں نے ’جوابدہ ‘میں بھی سنجیدگی کے ساتھ برقرارکھنے کی کوشش کی ، پریس کلب میں بھی سچ کا فتنہ چھوڑا مگر اس سیمینار کے بارے میں پریس کلب کاپریس ریلیز دیکھا تو اس میں بہت سارا سچ اسی طرح غائب تھا جیسا افتخار احمد نے اشارہ کیا تھا اور افتخار سے کم و بیش دو عشرے جونئیر عائشہ بخش نے کمال بے لاگ سچ بولا۔۔اس سچ کا پریس ریلیز میں ذکر نہیں تھا ، یعنی پریس ریلیز میں افتخار احمد والے’ سچ ‘ کی پوری پوری لاج رکھی گئی تھی کیونکہ سیمینار میں عائشہ بخش نے اپنے تجربے کی بناید پر جو گفتگو کی وہ افتخار احمد جیسی میچور تھی اورعام آدمی کے الفاظ میں وہ بول رہی تھی۔۔۔ الیکٹرانک میڈیا پر پیشہ ورانہ ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ، ایڈیٹر موجود ہونا ضروری نہیں ، ریٹنگ کی جنگ ہے اور نیوز روم کا ماحول ( مراد ایسا ماحول جس میں اطمینان کے ساتھ پیشہ ورانہ فرائض انجام دیے جاسکیں۔ ) وغیرہ وغیرہ
میڈیا انڈسٹری میں جہاں بڑے بڑے پھن پھیلائے پھرتے ہیں ، عائشہ بخش نے کسی کی پھنکار محسوس نہیں کی وہ اپنے الفاظ کی پگڈنڈی پرسبک رفتار تھی ، الیکٹرانک میڈیا کی اس مختصر عمر میں ایک مختصر وجود والی (بچی) سے اتنی میچور گفتگو سڑکوں پر اپنی بیہودگی کے ہورڈنگ بورڈ لگاتی یا سفارتخانوں کی ہارڈ ڈرنکس کے ساتھ دکھائی دینے والی ہماری معزز اینکرز کے قطعی برعکس۔۔۔شوخی نہ کوئی کمپلیکس۔۔۔باتیں وہ ساری کرگئی جو ہم احتجاجی مظاہروں میں نعروں کی آواز میں کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافت کی بقاء کیلئے ایڈیٹر کا عہدہ بحال کیا جائے ، سیٹھ مالکان ایڈیٹر کے ماسوا کوئی دوسرا بڑا عہدہ اپنے نام کے ساتھ لکھنا شروع کردیں۔اسی سیمینار میں پریس کلب کے ارشد انصاری نے میڈیا کارکنوں کے معاشی قتلِ عام کا ذکر بھی کیا اور خاص طور پر جیو گروپ کا نام لیکر تنخواہیں وقت پر ادا نہ کیے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا جبکہ موصوف خود اسی ادارے کے ملازم ہیں ، ظاہر ہے دوسرے اداروں میں بھاری قتلِ عام بھی نظر انداز نہیں کیا گیا مگر اپنے ادارے کا نام لیکر بات کرنا جب ارشد انصاری نے کوئی پرابلم نہ سمجھا تو پریس ریلیز میں سے غائب کرنا ویسا ہی سچ ہے جس کا ایک سے زائد بار ذکر افتخار احمد نے کیا۔اس سیمینار میں پروفیسر مغیث الدین شیخ نے بھی خطاب کیا میرے خیال میں یہ ’خطبہ جمعہ‘ تھا کہ اللہ نے ہی رزق دینا ہے ، بلا شبہ ، اس میں کوئی دورائے نہیں ، کوئی انسان رازق نہیں ، وہ محتاط ررہتے ہیں ، ایک نجی یونیورسٹی کے ملازم ہیں ، پروفیسر ہیں ، کہلانا بھی پسند کرتے ہیں لیکن صحافت پر گفتگو کرتے وقت صحافت کیلئے درکار جرات اور کمٹمنٹ کی بات سے گریز کرتے ہیں ، صحافت کی آزادی کی تاریخ پر کبھی بات نہیں کرتے نہ ہی ایسا درس دیتے ہیں شائد ان کے گمان میں ابھی تک جنرل ضیاء کہیں زندہ ہیں ورنہ جتنی تعداد میں ان کے شاگرد ہیں ، اگر انہیں جدوجہد کا درس دیا ہوتا تو شاید معاشی قتلِ عام کے سامنے ایک بڑا بند وہی باندھ سکتے تھے ، ارشد انصاری بھی انہی کی شاگرد ہیں ، جنہوں نے اُستاد کے بعد گفتگو کی اور میڈیا انڈسٹری کے کارکنوں کے معاشی بحران پر کھل کر بات کی۔ اپنے استاد سے پورے احترام کے ساتھ اختلافِ رائے کیا کہ جب چولہے ٹھنڈے ہوں ، پیٹ خالی ہوں ، یوٹیلٹی بل ادا نہ ہوئے ہوں تو کارکن تندہی اور پوری ذمہ داری کے ساتھ کیسے فرائض انجام دے سکتے ہیں ؟۔ سیمینار میں مدعو مجیب ارحمان شامی غائب تھے۔ یہاں ایک سوال ضرور موجود تھا کہ مقررین میں بائیں بازو کی نمائندگی نہیں تھی ، گو یہ نمائندگی ارشد انصاری کی تقریر میں ہوگئی ، اگر یہ نمائندگی ہوتی تو سیمینار اور بھی بہتر ہوتا۔ کون نہیں جانتا کہ میڈیا کارکنوں کی موجودہ معاشی بدحالی کے ذمہ داران صرف اور صرف میڈیا مالکان ہیں ، جو لوگ حکومت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں وہپ اس حد تک درست ہیں کہ حکومت کارکنوں کو ریسیکیو کرنے میں بْری طرح ناکام رہی ہے ، میڈیا کارکن تو شاید حکومت یا ریاستی اداروں کو اس بنا پر بھی کھٹکتے ہیں کہ یہ فاقہ کشی میں بھی پیشہ ورانہ آزادی کیلئے تلواروں کامقابلہ گردن سے کرتے ہیں اور تر نوالہ نہیں ہیں مگرریاست اور قانون کی رٹ قائم کرنا بھی تو کسی کی ذمہ داری ہے یا نہیں ، ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری حکومتِ وقت کی ہے جو تبدیلی کے نام پر آئی ہے اور تبدیلی یہ آئی ہے کہ ملکی رائج قوانین کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں ، نوائے وقت گروپ کی مالک رمیزہ نے اپنے زیرانتظام ادارے میں ریٹائرمنٹ کی عمر پچاس برس کردی ہے جس پر ابھی تک کسی مجاز عدالت نے عبوری حکمِ امتناعی بھی جاری نہیں کیا۔ احتساب اور منی لانڈرنگ کے قوانین پر عملدرآمد کے دعوے کیے جارہے ہیں لیکن کسی میڈیا مالک کی منی ٹریل نہیں لی گئی۔ نہ ہی یہ پوچھا گیا کہ بیرون ملک کتنی رقوم منتقل کی گئیں ، رمیزہ اپنے نام کے ساتھ نظامی تو لکھ سکتی ہے لیکن سرکاری طور پر ولدیت کے خانے میں مجید نظامی نہیں لکھ سکتی ، یہ قانون کے تحت جرم ہے جبکہ ان گنت بچوں کو کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کرپانے والے عبدالستار ایدھی ان بچوں کو باپ کا نام دینے کیلئے عدالتوں میں خوار ہوتے ہی اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئے۔ وہ مردِ قلندر ان بچوں کو نام اسلئے دینا چاہتے تھے کہ ان کے والد کے خانے میں کس کا نام لکھا جائے ؟ کتنا عرصہ یہ خانہ خالی رکھا جاسکتا ہے ؟ کتنے عرصے تک یہ بچے باپ کی شناخت کے بغیر اس معاشرے میں زندہ رہ سکتے ہیں ؟رمیزہ نظامی کو تو ابھی تک ایف آئی اے کال بھی نہیں کیا اس کے باوجود کہ ایف آئی اے سے رجوع کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔۔ (یہ الگ بات ہے کہ مجید نظامی نے جو کچھ بھائی کی اولاد کے ساتھ کیا ،اس کا انجام یہی ہونا تھا کہ جمع شدہ ساری دولت وہ استعمال کرے جس کا حق نہ ہو اور جس نے جمع کی اس کا کوئی نام لیوا ہی نہ رہے جس کی ابتدا بیرون ملک بنائے جانے والے پلازے سے ہوچکی ہے ، جہاں تک عارف نظامی کی بات ہے تو وہ اپنے ہی ادارے کی سیڑھیاں اترنے کے بعد بھی زندہ ہیں ) یہ ہے تبدیلی والی حکومت ؟ یہ ہے حکو،مت کی ذمہ داری ؟ بس حکومت میڈیا کارکنوں کے معاشی قتلِ عام میں اتنی ہی شریکِ جرم ہے کہ وہ بااختیار ہونے کے باوجود کارکنوں کے بجائے اْن میڈیا مالکان کے ساتھ کھڑی ہے جو کارکنوں کے ساتھ ظلم کررہے ہیں یہی نہیں یہ میڈیا مالکان اْن میڈیا مالکان پر بھی دادا گیری کررہے ہیں جو نسبتاً کمزور ہیں اور اپنے کارکنوں کے معاشی قتلِ عام میں اپنے ہاتھ خون سے رنگنا نہیں چاہتے ، مگر تالاب میں رہ کرمگرمچھ سے بیر نہیں لے سکتے۔
لاہور پریس کلب کے سیمینار سے ڈائیلاگ کا جو آغاز ہوا جسکی ابتدا اپنی’ منجی تھلے ڈانگ پھیرنے‘ سے کی گئی ہے اور اس میں اپنی پیشہ ورانہ کمی کوتاہیاں تسلیم کرنے سے کیا گیا ہے لیکن اِس سیمینار میں یہ کوتاہیاں دور کرنے کیلئے کوئی لائن آف ایکشن ڈرا نہیں کی گئی پھر بھی جو کھری کھری اور کچھ لپٹی لپٹائی کھری اپنے اپنے’ سچ ‘ کی صورت میں سامنے آنے لگی ہیں اس سے یہ امید ضرور پیدا ہوگئی ہے کہ ٹریڈ یونین کے زوال سے کارکنوں میں مکالمہ شروع ہوگیا ، مسائل ڈسکس ہونے لگے ہیں ، حل بھی تلاش ہونگے اور سینہ تان کر بات کرنے والے ایک دن پوری قوت اور جرات کے ساتھ یہ مسائل حل کرنے کے قابل بھی ہونگے اور حل بھی کریں گے بھی کریں گے تب ملک میں جمہوریت بھی پنپے گی ، سچ پھر سچ ہی بولا جائے گا وہ سچ نہیں جو اپنا اپنا سچ ہے، قانون کی حکومت بالادستی بھی ہوگی اور کارکنوں کے بچے چولہے جلنے کے انتظار میں بھی نہیں سوئیں گے۔ یہ آوازیں بھی اٹھیں گی کہ سکرین پر سچ بولنے والا کوئی نہیں۔صحافی بھی محض نوکری کی کوشش کی بجائے پہلے سے زیادہ کمٹمنٹ کے ساتھ صحافت کریں گے۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print