Voice of Asia News

قصور وار کون۔۔؟محمد قیصر چوہان

زن، زر، زمین کے علاوہ اقتدار و اختیار بھی اتنا بڑا فتنہ ہے کہ ایک بار کوئی اس کے جال میں پھنس جائے تو اس سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔ دولت اور شہرت کے حصول کیلئے جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا ہمارے سیاستدانوں کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ اس کی خاطر وہ اقتدار میں آنے کی کوشش کرتے ہیں یا کسی طرح اقتدار میں موجود ہوں تو عوام اور قومی خزانہ لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک پاکستان میں71 برسوں سے بالعموم اسی قماش کے لوگ عوام پر مسلط چلے آرہے ہیں، وہ اپنے ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کیلئے تو مفاہمت پر ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں، لیکن ملک اور قوم کے وسیع تر مفادات کیلئے انہیں ضروری قانون سازی کا خیال آتا ہے نہ کوئی جرات مندانہ قدم اُٹھانے کا۔
روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ آج سے پچاس سال قبل پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے لگایا تھا۔ اس کے بعد اس پارٹی نے ملک پر کم و بیش پانچ مرتبہ حکمرانی کی تین مرتبہ وفاق اور دو مرتبہ سندھ میں، لیکن یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ پورے پاکستان کو تو پیپلز پارٹی کی موروثی حکومت سہولت کیا فراہم کرتی، خود ان کے آبائی صوبے سندھ اور شہر لاڑکانہ کے لوگ نصف صدی بعد بھی روٹی، کپڑے اور مکان سے محروم ہیں۔ تھرپارکھر میں ہر ماہ سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہوتی ہے، خوراک اور علاج کی کمی کے باعث لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ادوار میں غریبوں کی خدمت کے نام پر کئی پروگرام شروع کیے گئے اور ان کیلئے خطیر رقوم بھی مختص کی گئیں، جن کا بیشتر حصہ خورد برد کی نذر ہوتا رہا۔ عزت نفس کو مجروح کر کے بعض غریبوں کو کچھ دیا گیا تو وہ اتنا نہیں تھا کہ اس خاندان کے ایک فرد کی ضروری خوراک بھی پوری ہو سکے۔ ہزار دو ہزار روپے تو حکمران طبقوں کے ایک بچے کے یومیہ جیب خرچ سے بھی کم ہیں۔ یہ ادائیگی کر کے کوئی غریبوں سے ہمدردی کا دعوٰی کرتا ہے تو یہ ان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، لیپ ٹاپ سکیم اور غربت مٹاؤمہم کے نام پر ماضی میں لوٹ کھسوٹ کر کے قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جبکہ ملک بھر میں غربت اور بے روزگاری کا آج بھی یہ حال ہے کہ کراچی، لاہور اور حیدر آباد،راولپنڈی جیسے شہروں میں سڑکوں کے کنارے، چوراہوں پر اور بازاروں میں بھکاریوں کے غول در غول نظر آتے ہیں۔ ان کی وجہ سے لوگوں کا کسی ایک جگہ بھی چند لمحے کیلئے رکنا ممکن نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان پچھلے حکمرانوں سے کوئی سبق حاصل کرنے کے بجائے انہی کے طریقے اختیار کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد تبدیلی اور بہتر پاکستان جیسے نعروں کا سہارا لیا تھا۔ وہ تو ماضی کے حکمرانوں سے کئی قدم آگے بڑھ کر ملک میں مدینہ جیسے فلاحی معاشرے کے قیام کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ گزشتہ سات ماہ کے دوران وہ اہل وطن کو شدید مایوسی، غربت، بے روزگاری، بدامنی اور بد انتظامی سے نجات دلانے میں ناکامی کے بعد غربت ختم یا کم کرنے کا نعرہ، وعدہ اور دعوٰی لے کر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور تعلیم عوام کے بنیادی حقوق ہوں گے، جس کیلئے آئین میں ترمیم کی جائے گی۔ غربت میں خاتمے کیلئے سب کو مل کر جہاد کرنا ہوگا۔ انہوں نے تخفیف غربت کے پروگرام بنام ’’احساس اور کفالت‘‘ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پس ماندہ اور کمزور طبقات کیلئے اسی ارب روپے کا اضافہ کر کے اسے دو سال میں ایک کھرب بیس روپے تک بڑھایا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے علم میں یہ بات لانی ضروری ہے کہ پاکستان کے عوام اب ان سے ’’گا، گی، گے‘‘ کی گردان سننا نہیں چاہتے۔ تحریک انصاف کی اب تک کی ناقص حکومتی کارکردگی کے تناظر میں عوام ان کے وعدوں پر اعتبار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنے لیے مخصوص رعایتوں کے نام پر کسی کو مزید لوٹ کھسوٹ کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
غربت کم کرنے سے پہلے ہی ایک نئی وزارت کا اعلان یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں صرف چھ ارکان کی اکثریت سے قائم موجودہ مخلوط حکومت میں وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کی بڑی فوج ظفر فوج پہلے ہی موجود ہے، جبکہ اقتدار میں شریک بعض جماعتیں مزید وزارتوں کیلئے دباؤاور بلیک میلنگ کے حربے استعمال کر رہی ہیں۔ ایسے میں ملک سے غربت کا خاتمہ ہوگا یا اضافہ غربت میں کمی کے نام پر کابینہ میں ایک اور وزارت کا بوجھ ڈالنا کس افلاطون کا مشورہ ہے، جبکہ ماضی میں اس طرح کی فضول مشقوں کا ملک یا غریب عوام کو ذرہ برابر فائدہ نہیں ہوا۔
اہل دانش کا کہنا ہے کہ سطحی اور نمائشی اقدامات کرنے اور قومی خزانے پر لایعنی بوجھ بڑھانے کے بجائے حکومت کو ملک بھر میں انصاف اور مساوات کا ایسا نظام قائم کرنا چاہئے کہ امیروں اور غریبوں سب کو بلا امتیاز سستی اشیائے ضرورت علاج معالجے، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں ہر وقت اور ہر جگہ میسر آسکیں۔ مخصوص طبقوں کیلئے شروع کئے جانے اکثر پروگرام بالآخر ناکام اور فراڈ ثابت ہوتے ہیں۔ ان سے مقتدر و متمول طبقے اور بااختیار لوگ ہی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے غربت مٹاؤپروگرام ’’احساس اور کفالت‘‘ کی تقریب اجراء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک سے غربت مٹانا جہاد ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے، جو اسلام کے نام پر بنا۔ اسے دُنیا میں ایک مثالی ملک بننا تھا، لیکن ہم ریاست مدینہ کے اصولوں کے خلاف چلے گئے۔ ریاست مدینہ کی طرف واپس جانے کیلئے ’’احساس اور کفالت‘‘ کا پروگرام پہلا قدم ہے۔ عمران خان کا ماضی اور حال پوری قوم اور ساری دُنیا کے سامنے ہے، لہٰذا ان سے یہی مودبانہ درخواست کی جاسکتی ہے کہ کم از کم وہ تو ’’ریاست مدینہ‘‘ کے الفاظ زبان پر لانا بند کردیں۔ ’’احساس اور کفالت‘‘ کو پہلا قدم قرار دینے والے وزیر اعظم سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر ان کے دل میں احساس کا جذبہ واقعی اجاگر ہوگیا ہے تو وہ اپنی ذاتی زندگی اور حکومتی ارکان کے معمولات پر نظر ڈال کر دیکھیں اور اصلاح کا آغاز وہاں سے کریں۔ یہی پہلا قدم غریبوں کی کفالت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’’ہم‘‘ ریاست مدینہ کے اصولوں کے خلاف چلے گئے ہیں (بلکہ ان سے ہٹنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے)۔ ان کے خیال میں یورپ نے مدینہ کی ریاست کے اصول اپنائے اور وہ آگے نکل گئے، وہاں کتے بھی بھوکے نہیں مرتے۔ وزیراعظم عمران خان نے اور بھی کئی چکنی چپڑی باتیں کیں، لیکن ان سب کی ان کے پاس اپنی کوئی نظیر ہے نہ مثال۔ ان کی ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ یورپی ممالک نے مدینہ کی ریاست کے اصول اپنائے اور وہ آگے نکل گئے۔ گویا کہ وہ بھی ان کی طرح ریاست مدینہ کے نام پر خود ساختہ باتیں گھڑ کر اور انہیں ریاست مدینہ کے اصول قرار دے کر پانچ سال تک حکمرانی کریں گے۔ قوم ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایک بار کھل کر بتا دیں کہ ان کا اصل ماڈل کیا ہے؟ نبی کریم ؐکا قائم کردہ معاشرہ، جس کی جانب ایک قدم بھی اٹھانے کے آثار ان کی حکومت میں دکھائی نہیں دیتے، یا پھر یورپ کا نمونہ جو ان کے خیال میں ریاست مدینہ کے اصولوں پر قائم ہے؟ مقتدر و متمول طبقات کی نظروں سے دیکھا جائے تو دولت اور اقتدار کے سرچشموں پر بیٹھے ہوئے تمام لوگ مسلم لیگی رہنماؤں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حسن و حسین، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، ان کے بھائی سلمان رفیق، پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، انور مجید، حسین لوائی اور ظفر ٹپی جیسے تمام لوگ معصوم، بے گناہ اور پاک و صاف ہیں۔ اصل قصوروار ملک کے بائیس کروڑ عوام ہیں جنہیں غربت و افلاس، بے روزگاری اور تعلیم و صحت سے محرومی کا سامنا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت ملک کے بڑے شہروں کراچی ،لاہور راولپنڈی ، ملتان سمیت دیگر شہروں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی آڑ میں لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرکے ان کے لاکھوں اہل خانہ کو فاقہ کشی میں مبتلا کر چکی ہیں۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں غربت کم ہونے کے بجائے تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صرف روپے کی بے قدری اور پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے ہی نے غربت کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں وہ افراد جو نان شبینہ کو محتا ج ہیں ، ان سے کھانے پینے کی اشیاء اور ادویہ پر جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کو ظلم ہی کہا جا سکتا ہے۔ جس ملک میں عوام کے خادم ارکان پارلیمنٹ کی کروڑوں روپے سالانہ کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہو، اس ملک میں چند سو روپے روز کی دہاڑی لگانے والے مزدور سے ٹیکس کی وصولی کو کم سے کم الفاظ میں ظلم ہی کہا جاسکتا ہے۔ اصولی طور پر زندگی گزارنے کے لیے درکار بنیادی اشیاء جن میں آٹا، گھی تیل ، دال اور چاول وغیرہ پر ٹیکس ہونا ہی نہیں چاہیے۔ بالکل اسی طرح ادویہ بھی کہیں سے اشیا ئے تعیش کے زمرے میں نہیں آتیں۔ اس لیے نہ صرف ادویہ کو جنرل سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہونا چاہیے بلکہ دو اسازی کیلئے درآمد ہونے والے خام مال پر بھی کسی قسم کی کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس نہیں ہونا چاہیے۔ مگر پاکستان میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے۔ لگڑری گاڑیوں کی درآمد کو تو ہر کچھ عرصے بعد ایمنسٹی کے ذریعے ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا جاتا ہے مگر زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے والی اشیا پر روز ایک نیا ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ اربوں روپے کی ٹیکس چوری کرتے ہیں ، ان لوگوں سے جرمانے کے ساتھ ٹیکس وصول کرنے کے بجائے انہیں رعایت فراہم کی جاتی ہے۔ جو ادارے عوام سے سرکار کے ٹیکس کے نام پر سیکڑوں ارب روپے ہڑپ کرجاتے ہیں ، انہیں بھی کوئی سزا دینے کے بجائے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری خزانے میں جمع نہ کروائے گئے ٹیکس کی بھاری رقم میں سے کچھ جمع کروا کر باقی رقم اپنی عیاشی پر خرچ کرسکتے ہیں۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے اپنے تبدیلی کے نعرے کو اس طرح پورا کرنے کا آغاز کیا ہے کہ قومی زندگی کا ہر شعبہ بحران کی نذر کر دیا ہے۔ عام شہری وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے پہلے جن مسائل سے دوچار تھے، ان میں سونامی طرز کے خطرناک طوفانوں نے بھونچال پیدا کردیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، ٹیکسوں اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں نہ صرف روز مرہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، بلکہ کئی چیزوں کی قلت کے باعث وہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ حکومتی زعماء لاکھ کہیں کہ یہ سب کچھ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور لوٹ مار کا شاخسانہ ہے، لیکن اس بات کا جواب ان پر واجب ہے کہ انہیں جب وہی کچھ کہنا اور کرنا تھا جو ان سے قبل حکمران کرتے چلے آرہے تھے، تو محض حکومت کی تبدیلی کس کام کی؟ نئے حکمران تبدیلی کے نعرے لگا کر کس پروگرام اور کن مقاصد کے تحت برسر اقتدار آئے تھے۔ اب جبکہ ثابت ہو گیا ہے کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس پالیسی ہے نہ حکمت عملی، بلکہ بار بار کے یوٹرن کی وجہ سے ان کی کوئی سمت بھی واضح نہیں ہوسکی ہے تو شاید وہ بھی دعوے اور وعدے کرکے ملک و قوم کو کچھ دیئے بغیر سابقہ حکومتوں کی طرح وقت گزاری کرکے چلے جائیں گے۔وفاقی شرعی عدالت سودی نظام کے خاتمے سے متعلق 71 برسوں کے بعد بھی اب تک کیس کی سماعت کررہی ہے، جبکہ شریعت نے سود کو اللہ اور اس کے رسولؐسے جنگ اور اپنی حقیقی ماں کے ساتھ بدکاری سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ وطن عزیز میں شریعت کے نفاذ کی کسی کو فکر ہے نہ قومی زبان اُردو کو سرکاری طور پر رائج کرنے کی پروا۔ بااختیار لوگوں کی توجہ کام کے بجائے نام اور بیانات پر مبذول ہو تو ملک میں کوئی بہتر تبدیلی کیونکر آسکتی ہے؟

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •