Voice of Asia News

تبدیلی کے ’’وعدے‘‘ اور مہنگائی کا سونامی: محمد قیصر چوہان

’’تبدیلی‘‘ اور عمران خان متبادل اصطلاحات بن گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اْن جماعتوں میں شامل ہے جس نے انتخابات میں عوام کو پیغام دیا تھا کہ وہ ’’آزمائی ہوئی‘‘ جماعتوں کو ووٹ نہ دیں، اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو ’’تبدیلی‘‘ کی علامت قرار دے کر اقتدار کے ایوان تک پہنچایا۔ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھاکہ وہ عوام کو ’’مہنگائی کے سونامی‘‘ سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کرتی لیکن تبدیلی سرکار نے عوام کو ’’مہنگائی کے سونامی‘‘ ڈبو دیا ہے۔گزشتہ برس عام انتخابات میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ آکر اب تبدیلی سرکار کو بددعائیں، کوسنے اور گالیاں دینے لگے ہیں ۔
تحریک انصاف کی نااہل حکومت نے غریب عوام کو لوٹنے کھسوٹنے کا سب سے آسان نسخہ یہی سمجھا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخوں میں آئے دن بے تحاشا اضافہ کر کے اور ٹیکس بڑھا کر مہنگائی کا شیطانی چکر مسلسل گردش میں رکھا جائے، جس کے اثرات روز مرہ ضرورت کی تمام اشیاء کی گرانی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ اس کے بعد عام شہریوں کی پہلے چیخیں نکلیں گی۔ پھر کچھ بے ہوش ہوں گے اور کچھ جان ہی سے گزر جائیں گے۔ باقی بچ جانے والوں میں جب تک شدید رد عمل پیدا ہوگا، اس وقت تک سابقہ حکمرانوں کی طرح اس قدر مال و دولت جمع کیا جاچکا ہوگا کہ اس کی مدد سے بیرون ملک فرار ہو جائیں گے یا لوٹ کے اس مال سے اداروں کو خرید کر اور وکیلوں کی بھاری فیس ادا کر کے بچنے کی کوشش کریں گے۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے دور میں ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنما زوال آشنا ہونے کے باوجود جس طرح بھرپور عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور موجودہ حکومت کی نااہلی اور بدترین ناکامی سے فائدہ اُٹھا کر عوام میں دوبارہ مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اپنے زوال کے بعد انہیں بھی یہی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اگر کوئی غیر سیاسی انقلاب آکر انہیں الٹ دے گا تو وہ اس کے بانیوں کے قدموں میں گر کر معافی مانگ لیں گے اور عوامی ہمدردی حاصل کر کے از سر نو اقتدار کے ایوانوں پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کردیں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی مثالیں ان کے سامنے ہیں، جو جمہوریت کی سب سے بڑی چمپئن ہونے کا اب تک دعویٰ کرتی ہیں، حالانکہ ان کا ماضی مختصر ترین الفاظ میں یہ ہے کہ ایک نے جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کی کوکھ سے جنم لیا تو دوسری نے جنرل ضیاء الحق کی گود میں آنکھیں کھولیں۔
موجودہ حکومت کے دور میں سات ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر ذرائع ابلاغ نے ہر مرتبہ کی طرح وہی گھسا پٹا فقرہ دوہرایا ہے کہ حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا۔ بموں کو جان و املاک کی مکمل تباہی کیلئے گرایا جاتا ہے، جبکہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ تو قوم کو چاقوؤں اور چھریوں سے زخمی کرکے اور ان زخموں پر نمک چھڑک کر غریبوں کے تڑپنے اور بلبلانے کے نظارے سے لطف اندوز ہونے کے مترادف ہے۔ عوام کے ساتھ ہمیشہ یہ مذاق کیا جاتا ہے کہ اوگرا یا آئل کمپنیوں کی جانب سے زبردست اضافے کی فرمائش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم یا حکومت کا کوئی اور ذمہ دار عوام پر احسان کر کے اور ان پر ’’رحم کھا کر‘‘ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مجوزہ اضافے کی جگہ نصف اضافہ کر کے ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ صارفین کے ساتھ حکومتوں کا یہ مذاق کئی عشروں سے جاری ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں سات ماہ کے دوران نرخوں میں تیسری بار اضافہ کر کے اسے ننانوے روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں سات سے آٹھ فیصد کمی کے باوجود عمران خان کی حکومت نے ایک بار پھر چھ روپے فی لیٹر پیٹرول مہنگا کر کے غریب شہریوں پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے، وہ حکومت کی سراسر نااہلی اور عوام دشمنی ہے۔ اچھی حکومتیں لوگوں کو سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکو بن کر انہیں لوٹنے میں مصروف نہیں ہو جاتیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور پاکستانی کرنسی کی بے قدری حکومت کی اپنی ناقص اقتصادی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانا دوہرا ظلم ہے۔ مرے یہ سو درے کے مصداق قیمت میں اضافے سے پہلے ہی پیٹرول کی فراہمی بند کر دی جاتی ہے۔ کیونکہ بچے ہوئے پیٹرول کو بھی بڑھے ہوئے نرخوں پر بیچ کر زیادہ نفع کمانا مقصود ہوتا ہے۔ صارفین کو طویل قطاروں میں انتظار کرا کے ان کی عزت نفس کو مجروع کرنا اور ذلت سے دوچار کرنا پاکستان ہی کے حکمرانوں کو زیب دیتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ خود غریبوں کے غم میں گھل گھل کر نکھرتے اور صحت مند ہوتے جاتے ہیں۔ دوسری جانب عوامی سہولت کے نام پر کھولے جانے والے یوٹیلیٹی اسٹورز نے فوری طور پر چاول کے نرخ پچاس روپے فی کلو اور دالوں کی قیمتیں پچیس روپے تک بڑھا دی ہیں۔ ماہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی اشیائے صرف مہنگی ہونی شروع ہوگئی تھیں۔ اور اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نیا اضافہ عوام پر مزید قیامت ڈھائے گا۔
آئی ایم ایف نے عمران خان کی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیکس کی وصولی میں اضافہ کرے اور اس کے دائرے کو وسیع کرے، یعنی عوام کے اُوپر مزید ٹیکس لگائے۔ ظاہر بات ہے کہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ماضی کے قرضوں کی ادائیگی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر کی ضرورت ہے۔ پاکستانی معیشت کا قدیم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ادائیگی کا توازن ہمیشہ خراب رہا ہے۔ اس لیے قرضوں اور اس کے سود کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے لیے جاتے رہے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس طرح ایک ایسا گھن چکر ہے جس سے قوم آج تک نہیں نکل پائی ہے۔ یہ بھی اس مسئلے کا سب سے اہم موضوع ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ کے وسائل میں کوئی کمی نہیں ہوتی، یعنی عوام کی قوتِ خرید تو کم سے کم ہوجاتی ہے لیکن اشرافیہ کی دولت و ثروت میں اضافہ ہوتا ہے۔ صرف کرپشن کی داستانوں کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو ہماری اشرافیہ جو اقلیت میں ہے اْس کی دولت امریکا، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ داروں سے بھی زیادہ نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود عوام کو سہولیات پہنچانے کیلئے کوئی تجویز مقتدر طبقات کے معاشی ماہرین کے پاس موجود نہیں ہے۔ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ملک میں محصولات اور ٹیکسوں کی وصولی کا منصفانہ اور سادہ نظام دیا جائے۔ لیکن آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی سرمایہ دارانہ قوتوں کے ہر حکم کی تابعداری تو کی جاتی ہے، قومی وسائل کا جمعہ بازار لگادیا جاتا ہے لیکن ملک کی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکسوں کی وصولی کا سادہ اور منصفانہ نظام قائم کرنے سے پہلوتہی کی جاتی ہے۔ یہ بات غلط ہے کہ ملک میں ٹیکس کا کلچر نہیں ہے۔ بلکہ کرپشن، بدعنوانی اور رشوت و کمیشن کی رقوم کو تحفظ دینے کیلئے شفاف اور منصفانہ ٹیکس کے نظام کی تشکیل سے گریز کیا جارہا ہے۔تبدیلی سرکار نے اب تک جو اقدامات کئے ہیں اْن سے مہنگائی کا سیلاب آگیا ہے۔ بڑی جماعتوں کو عوام نے اگر مسترد کیا ہے تو اس لیے کہ ان کے رہنما انتخابی مہم کے دوران جوشِ خطابت میں سہانے خواب دکھاتے ہیں۔ کیا یہ روایت ’’تبدیلی‘‘ کے علمبرداروں اور دعویداروں کی جانب سے بھی برقرار رہے گی؟ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے، ڈالر کی قیمت اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آچکا ہے۔جس سے متوسط اور غریب طبقات کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔عوام پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی اقتصادی پالیسیوں کے زخم خوردہ ہیں۔ سخت اقدامات کے باوجود اس بات کی ضرورت ہے کہ عمران خان کی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے اور طاقت ور، خوشحال اور بااثر طبقات پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے، جب ہی ’’تبدیلی‘‘ کے دعوے حقیقت بن سکیں گے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print