Voice of Asia News

اسلام آباد 2023 تک پاکستان میں کوئی ملازمتیں نہیں بڑھیں گی

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)آئی ایم ایف سے قرض لینے کی صورت میں وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق ایک کروڑ ملازمتیں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔ ممبراقتصادی مشاروتی کونسل ڈاکٹر اشفاق حسن نے خدشات کا اظہار کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کے اقتصادی مشاروتی کونسل کے ممبر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تو خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 2023 تک ملازمتیں نہیں ملیں گی۔روپے کی بے قدری کے باعث رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم 15فیصد کم ہو گر 330ارب ڈالر سے 280 ارب ڈالر ہو جائے گا۔اوسطاََ فی کس آمدنی کم ہو جائے گی۔اشفاق حسن نے مزید کہا کہ زمینی حقائق یہی کہتے ہیں کہ آئی ایم سے قرضہ لینے کے بعد نہ تو ملازمتیں بڑھیں گی اور نہ ہی نئے گھر تعمیر ہوں گے جس سے سماجی بے چینی بڑھے گی۔جب کہ اپنے ایک اور بیان میں اشفاق حسن نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن 10لوگوں نے اس کے برعکس رائے دی، جس پر انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کا فیصلہ کیا۔ہ اگلا بجٹ آئی ایم ایف کا ہوگا، وہاں سے ہدف ملے گا جس کے حصول کے لیے ہمیں نفاذ کی پالیسی بنانی ہوگی۔ عوام کی اس بجٹ اور منصوبے سے چیخیں نکلیں گی۔انہوں نے کہاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ملک میں ڈالر مہنگا ہونا زیادہ ٹیکس لگانے کا سبب بن رہا ہے، جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا تو ہرچیز مہنگی ہوجائے گی۔۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام شرائط سے نہیں ملتا بلکہ وہ پالیسی ہے آپ لیں یا نہ لیں آپ کی مرضی، آئی ایم ایف کی عہدیدار نے کہا تھا کہ ہم قرضے لینے والوں کی شرائط نہیں مانتے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان آئی ایم ایف کے بغیر دنیا میں بانڈز متعارف کراسکتا ہے لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری پیداوار آگے نہیں جاسکتی۔ انہوں نے آئی پی پی کے کنڑیکٹس پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

image_pdfimage_print