Voice of Asia News

بنکاک کے شب روز،حسنین جمیل

کسی بھی سماج کو سمجھنے کے لیے دو باتیں بہت ضروری ہوتی ہیں ایک تو اس سماج پر لکھے گئے ادب تاریخ اور سیاسیات کا مطالعہ کیا جائے دوسرا اگر آپ کے پاس وسائل ہوں تو وہاں جا کر دیکھا جائے اور مشاہدہ کیا جائے وہاں کے معروض حالات کیا ہیں۔ ایسا ہی ایک سفر مجھے اور میری شریک حیات کو درپیش ہوا۔ منزل تھی تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کی جو دنیا کے مشہور ترین شہروں میں سے ایک ہے چونکہ ہم دونوں میاں بیوی صحافت سے وابستہ ہیں لہٰذا ہم دونوں کو ایک بین الاقوامی تنظیم ایشاسک فورم نے مدعو کیا ہے ۔ 12روزہ پروگرام تھا جس میں مختلف ورکشاپ میں شرکت کرنی تھیں اور اقوام متحدہ کے دفتر کا دورہ تھا۔ صحافتی کانفرنس کے حوالے سے بات کرنے سے پہلے ذرا تھائی لینڈ کے بارے میں بات کر لی جائے۔ اس ملک کا سرکاری نام ریاست تھائی لینڈ ہے جو براعظم ایشیا کے جنوب میں واقع ہے۔ تھائی لینڈ کی آباد 68ملین ہے۔ جس کا دارالحکومت بنکاک ہے۔ 76صوبوں پر مشتمل ملک تھائی لینڈ کے شمال میں برما مشرق میں کولمبیا اور لوکاس جنوب میں ملایشیا اور خلیج ہے۔ چند ممالک جو تھائی لینڈ کے نزدیک ہیں ان میں ویت نام ، بھارت شامل ہے۔ تھائی لینڈ میں بادشاہت برائے نام ہے۔ اصل اختیارات پارلیمانی جمہوریت کے پاس تاہم 2014میں فوجی بغاوت تھائی لینڈ کی سرکاری زبان تھائی ہے۔ سب سے زیادہ بدھ مت کے ماننے والے موجود ہیں جو ملک 94.50فیصد ہیں۔ باقی 4فیصد مسلمان جو ملاستا کی سرحد پر واقع تھائی صوبے میں رہتے ہیں۔ 77فیصد عیسائی اور ہندو آباد ہیں۔ فوج کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پارلیمنٹ پر خاصا کنٹرول ہے۔ تھائی فوج کا فیصلے کرنے میں کلیدی کردار کہا جا سکتا ہے۔ دونوں ایوان موجود ہیں ۔ اپر ہاؤس سینٹ ہے۔ لوئر ہاوس کو عوامی نمائندوں کی مجلس کہا جاتا ہے۔ کرنسی کو بھات کہا جاتا ہے۔ تھائی لینڈ کے سمندری ساحل بہت مشہور ہیں۔ لیکن ان میں کوئی بھی ساحل دارالحکومت بنکاک میں نہیں ہے۔ بنکاک میں ایک دریا ہے۔ جس کے کنارے بہت خوب صورت چائے خانے اور ریسٹورانٹ بنائے ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ کا سب سے خوب صورت ساحلی علاقہ تیایا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ساحلی علاقے بھی ہیں جب تھائی لینڈ کے پڑوس ملک برما میں بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں میں فسادات ہورہے تھے تو تھائی لینڈ کے 94فیصد بدھ مت کے ماننے والوں نے 9فیصد مسلمانوں پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تھائی لینڈ کا معاشرہ 94فیصد بدھ مت کے ماننے والوں کے باوجود ایک سیکولر معاشرہ ہے۔
جہاں مذہبی رواداری اپنے جوبن پر ہے۔ دارالحکومت بنکاک تو مذہبی رواداری کا ایک بڑا نمونہ ہے۔ جہاں پوری دنیا سے سیاح آتے ہیں آپ بناک کے بازاروں کا چکر لگا کر دیکھیں تو ہر نسل ،مذہب اور فرقے کا انسان آپ کو ملے گاجو بڑے آرام اور سکون سے بنکاک کے بازاروں میں مساج سنٹروں، چائے خانوں اور ریسٹورانوں میں دن بھر کے کھانے کھانا شراب اور بیئر پیتا نظر آئے گا۔ بنکاک قدیم اور جدید عمارتوں کا حسین سنگم ہے۔ اپنی تاریخی عمارتوں اور قومی ورثے کو جس طرح تھائی لینڈ نے سنبھال کر رکھا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ جدیدیت کے چڑھتے سورج میں انہوں نے اپنے قدیم ورثے کو غروب نہیں ہونے دیا۔ بنکاک ایک باکمال شہر ہے۔ جس کے مساج سنٹروں کے بارے خاصی رنگین داستانیں پاکستان میں سننے کو ملتی ہیں تاہم جب ہم وہاں گئے تو مساج سنٹر جس میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہیں ان کو انتہائی پروفیشنل پایا۔ اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ان کو کام کرتے دیکھا۔ قارئین کے لیے ایک جملہ ہی کافی ہے کہ مساج کا مطلب صرف مساج ہی ہوتاہے۔
بنکاک میں ہماری میزبان سپنا گیتا تھیں جو دہلی بھارت کی رہنے والی ہیں۔ بہت ہی ملنسار، محبت کرنے والی اور پروفیشل اپروچ کی حامل خاتون ہیں۔ہمارے بنکاک آنے سے پہلے ہی میری شریک حیات کے ساتھ Whatsappپر رابطے میں تھیں ۔ شیڈول کے مطابق ہم نے 19مارچ کو لاہور سے بنکاک براہ راست پرواز پر جانا تھا مگر 25فروری کے بعد پاک بھارت کشیدگی انتہا پر پہنچی تو پاکستان نے اپنے ہوائی اڈوں کو چند روز کے لیے بند کیا جس کے باعث سارا شیڈول درہم بھرم ہو گیا۔ مجبورا ہمیں پہلے کراچی جانا پڑا پھر کراچی سے بنکاک۔ وہاں 12روز کا قیام تھا ۔ مختلف ممالک سے مندوب آئے ہوئے تھے جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، برما اور ایشیا کے چند ایسے ممالک بھی تھے جن کا نام ہم نے پہلی بار سنا۔ ویت نام کی سرحد کے قریب ایشیا کے آخر میں ایک ملک ہے جہاں سے ایک سیاہ فام خاتون صحافی آئی تھیں ہم سمجھتے تھے کہ سیاہ فام ممالک صرف افریقہ اور براعظم امریکہ کے جزائر جنہیں سب لوگ ویسٹ انڈیز کے نام سے جانتے ہیں مگر اس سفر میں معلومات میں اضافہ ہوا کہ ایشیا میں بھی سیاہ فام ملک ہے۔ پاکستان سے ہمارے دوست افتخار مبارک بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے مگر ان کا ایک اعتراض جو بڑا جاندار تھا کہ اقوام متحدہ والوں نے بچوں کے حوالے سے کوئی سیشن نہیں رکھا۔ بھارت سے آئے ایک ٹریڈ یونین لیڈر چندرا پرکاش سے بڑی زبردست گفتگو ہوئی۔ چندرا پرکاش بھارتی ریاست آندھیرا پروہاش کے شہر حیدرآباد سے تھے ۔ مودی کے بڑے مخالف تھے۔ بھارت کے اندر ایک بھارت اور آباد ہے۔ جس کو جنوبی بھارت کہا جاتا ہے۔ جس میں تامل ناڈو، آندھیرا پردہاش، کرناٹاک اور کیرلا شامل ہیں۔ یہاں کی زبان رسم رواج رہن سہن باقی بھارت سے مختلف ہیں۔ چندراپرکاش کا کہنا تھا کہ جنوب بھارت سیکولر معاشرہ ہے۔ وہاں ہندو مسلم میں فرقی نہیں سمجھا جاتا۔ مجھے کہنے لگے ہمارے حیدرآبادکے دو کرکٹر بڑے مشہور ہوئے ایک محمد اظہر الدین دوسرے وی وی ایس لکشمن مگر میں محمد اظہرالدین کو زیادہ پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ میری طرح مڈل کلاس کے ہیں ۔لکشمن امیر باپ کا بیٹا ہے۔ چندرا ساؤتھ انڈین ہونے کے باوجود بڑی اچھی ہندی بول لیتے ہیں۔ اس کانفرنس میں خواتین کے خصوصی سیشن بھی تھے۔ جس میں ہم نے محسوس کیا یہ وہی خواتین ہیں جن کی ایک جھلک 8مارچ کو لاہور میں ہونے والے عورت مارچ میں دیکھ چکے ہیں۔ جب ہم طالبان کو انتہا پسند کہتے ہیں تو ایسی سوچ بھی طالبان ہی کہی جا سکتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ جاہل طالبان ہیں یہ پڑھے لکھے طالبان ہیں۔ اس کانفرنس کی سب سے خاص بات اس خواجہ سراؤں کی شرکت تھی۔ اس تیسری جنس کے نمائندے پاکستان سے بھی آئے ہوئے تھے۔ یہ ایک مثبت عمل ہے کہ تیسری جنس کو قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے۔
hassnainjamil@yahoo.com

image_pdfimage_print