Voice of Asia News

احتساب ،معاشیات اورحکومتی ناکامی ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

مکمل معاشی ناکامی کے بعد عمران حکومت اب کرپشن اور احتساب کے نعرے پر کھیل رہی ہے تاکہ اس کے سپورٹرز اس کے ساتھ جڑے رہیں حالانکہ کرپشن اور احتساب تفتیشی ایجنسیوں اور عدالتوں کا کام ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں مقدمے تیار کرتی ہیں اور عدالتیں فیصلے کرتی ہیں۔ حکومت کا ان دونوں کاموں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جب عمران خان یہ کہتا ہے کہ وہ زرداری اور نوازشریف کو نہیں چھوڑے گا تو دراصل یہ اداروں اور عدالتوں کی آزادی اور خود مختاری میں مداخلت کے برابر ہے۔ جمرود میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے پھر یہی نعرہ استمعال کیا کہ وہ حکومت میں آئے ہی اس لئے ہیں تاکہ احتساب کر سکیں۔ یہ ایک دل کش اور پر کشش نعرہ تو ہو سکتا ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ تحریک انصاف کے فالوورز اور ووٹرز کو یہ نعرہ بھاتا ہے اور وہ اپنی پارٹی سے جڑے رہتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو نوازشریف سے نفرت کرتے ہیں ۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ملک کا کیا بنتا ہے۔ وہ ہر حال میں نوازشریف کو جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ نعرہ کہ وہ حکومت میں احتساب کے لئے آئے ہیں عمران خان کی بطور وزیراعظم دوسرے شعبوں میں ناکامی کا اعتراف ہے۔ حکومتی معاملات میں احتساب ایک جزو ہے ،کل نہیں۔ اور اس کا اپنا ایک اداراجاتی نظام ہے۔ عمران خان کی خواہش پر نہ تو سزائیں مل سکتی ہیں اور نہ تفتیشی ادارے اور عدالتیں سیاسی نعروں پر عمل درآمد کیلئے استعمال ہو سکتی ہیں لیکن جب ملک کا وزیراعظم یہ کہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو چھوڑے گا نہیں ۔ تو بدقسمتی سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ انصاف اور احتساب کا نظام وزیراعظم کی خواہش کے مطابق چلتا ہے۔
یہی وہ تصور ہے جو اس ملک کے اکثریتی لوگوں کے ذہن میں راسخ ہو چکا ہے کہ یہاں کا تفتیشی اور عدالتی نظام چند مخصوص طاقتور حلقوں کے مرہون منت کام کرتا ہے اور اس یقین کی وجہ سے عام لوگوں کا وطن عزیز کے عدالتی نظام سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ تحریک انصاف یہ سلوگن لے کر آئی تھی کہ وہ ملک کا تمام نظام تبدیل کر دے گی لیکن بدقسمتی سے نظام بدتر حالت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ احتساب کے علاوہ عمران حکومت جس دوسرے ڈھکوسلے پر بولتی ہے وہ سابقہ حکومتوں کے قرضے لینے کے حوالے سے ہے۔ تحریک انصاف کی مختلف ویب سائٹس پر عجیب و غریب اعدادوشمار دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ کہیں 36 بلین ڈالر، کہیں 75 بلین ڈالرز اور کہیں کوئی دوسری فگر ملتی ہے۔ اور لکھا ہوتا ہے یہ ہے وہ قرض جو ہمیں اگلے سال واپس کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اعدادوشمار کی کوئی کریڈیبیلی نہیں ہوتی۔ کوئی ریفرنس نہیں ہوتا۔ بس پروپیگنڈے کی ایک شکل ہے۔ جس سے اپنے سپورٹرز اور فالوورز کو متاثر کیا جا رہا ہوتا ہے لیکن کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ پھر پلی بارگین کا پروپیگنڈہ بھی چل رہا ہے۔ کبھی بتایا جاتا ہے کہ نوازشریف دس ارب ڈالر دینے کیلئے تیار ہو گئے ہیں ۔ کبھی پچیس ارب ڈالرز سننے کو ملتے ہیں۔ یوں یہ متاثر کن اور پر کشش جھوٹ چلتا رہتا ہے۔
اسی طرح ملک کی معاشیات کو لے کر تجارتی خسارہ، کرنٹ اکانٹ خسارہ اور ادائیگیوں کے توازن کو باہم مکس اپ کر دیا جاتا ہے اور مکمل کنفیوزن پیدا کر دی جاتی ہے۔ یہ سارے پروپیگنڈے اور جھوٹ ناصرف اپنے سپورٹرز کو قائم رکھنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں بلکہ بگڑتی ہوئی ملکی معاشی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے کام بھی آتے ہیں۔ جیسے میں نے پہلے کہا کہ احتساب ایک حکومتی جزو ہے ، کل نہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عام لوگوں کو ریلیف دے۔ نئی نوکریاں اور روز گار کے مواقع پیدا کرے ، ٹیکس ریفارمز لائے ، ریاستی آمدن برھانے کیلئے پالیسیوں کا نفاز کرے، تاجروں اور صنعت کاروں کیلئے ایسا نظام لائے جس سے ان کے اعتماد اور اعتبار میں اضافہ ہو۔ چیزیں سستی ہوں اور معاشی سرگرمیاں تیز روی میں تبدیل ہوں۔ لیکن جیسا میں نے کہا کہ معاشی طور پر مکمل ناکامی کے بعد آ جا کر حکومت کے پاس دو تین باتیں ہی بچی ہیں۔ ہم احتساب کریں گے ، پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں ، قرضے بہت زیادہ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آپ کب تک ان نعروں سے کھیلتے رہیں گے۔ معاشی نمو 5.85 سے تین فیصد پر آ گئی ہے۔ افراط زر 2.5 فیصد سے نو فیصد تک چلا گیا ہے۔ ڈالر 143 پر ہے۔ ادھار پر ملک چلایا جا رہا ہے۔ ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک اپنی رپورٹس میں وطن عزیز کی گرتی ہوئی معیشت کے متعلق اشاریے دے رہے ہیں۔ جب تحریک انصاف کے فالوورز سے پوچھا جائے کوئی ایک مثبت معاشی پالیسی جو ان آٹھ ماہ میں اختیار کی گئی ہو۔ کوئی بلیو پرنٹ ، کوئی مستقبل کی انڈیکیش، تو جواب خاموشی میں ملتا ہے۔ تحریک انصاف کے ذیادہ تر سپورٹرز مطمئن ہیں۔ اپنی ہی پارٹی کے پروپیگنڈے کے زہنی اسیر ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پانچ سال پورے دیے جائیں۔ پھر پوچھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ان آٹھ نو ماہ میں جو بربادی پھیری ہے۔ پانچ سال میں تو حشر نشر ہو جائے گا۔ اگلے بجٹ میں تنخواہیں کہاں سے ملیں گی۔ ابھی تو یہ سمجھ نہیں آ رہی۔ اس کرنٹ بجٹ کے ترقیاتی فنڈ تو پہلے ہی کٹوتی کا شکار ہو چکے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ نہ کوئی نیا پروجیکٹ لگے گا، نہ روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور نہ ریاستی آمدن میں اضافہ ہو گا۔ ایسے میں دفاعی بجٹ ، گردشی قرضوں اور قرضوں کی واپسی کیسے ممکن ہو گی۔ آنے والے حالات مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالے سے اچھے نظر نہیں آتے۔
******************
ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ
شناختی کارڈ نمبر 33302-3027455-7
موبائل نمبر0300-0334-6885426
تاریخ:09-04-2019

image_pdfimage_print