Voice of Asia News

تجارتی خسارہ 27 ارب سے کم ہو کر 23 ارب 45 کروڑ ڈالر رہ گیا، وزارت تجارت

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)رواں مالی سال کے ابتدائی9 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور تجارتی خسارہ 27 ارب 29 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر23 ارب 45 کروڑ ڈالر رہا ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق حکومت کی طرف سے ٹھوس پالیسی اقدامات، توانائی کی صورتحال میں بہتری، اقتصادی استحکام کیلئے کی جانے والی کوششوں اور مختلف درآمدی اشیاء4 پر ڈیوٹی کے نفاذ کی وجہ سے درآمدات میں کمی کا رجحان ہے اور جولائی 2018ء4 سے مارچ 2019ء4 کے دوران تجارتی خسارے میں 3 ارب 84 کروڑ ڈالر کی کمی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں تجارتی خسارے کا حجم 5 سے 7 ارب ڈالر کم رہنے کا امکان ہے۔مارچ 2018ء میں گزشتہ مالی سال کے اس ماہ کے مقابلہ میں تجارتی خسارہ میں 37.74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ 3 ارب 10 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 93 کروڑ ڈالر تک آگیا ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران درآمدات کا حجم 40 ارب 66 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیاگیا جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 44 ارب 32 کروڑ ڈالر تھا۔ رواں مالی سال کے دوران درآمدی حجم گزشتہ مالی سال کے اس عرصہ کے مقابلہ میں 8.25 فیصد کم ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران برآمدات کا حجم 17 ارب 21 کروڑ ڈالر رہا جو کہ جولائی 2017ء4 سے مارچ 2018ء4 کے عرصہ کے دوران 17 ارب 3 کروڑ ڈالر تھا۔

image_pdfimage_print