Voice of Asia News

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی من مانیاں:تحریر: محمدقیصرچوہان

تعلیم ہی ایک ایسا زیو ر ہے جس سے آراستہ قومیں دنیا کے افق پر بام عروج حاصل کرتی ہیں،یہ وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے غریب مفلسی کے عفریت کو قابو کر لیتا ہے، اس کا معیار زندگی بہتر ہو جاتا ہے اور بحیثیت مجموعی معاشرہ تہذیب و تمدن، سائنس و ٹیکنالوجی اور معاشی میدان میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ ہر ذی شعور انسان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اورقوموں کی ترقی اور خوشحالی کوالٹی ایجوکیشن ہی میں مضمر ہے ۔ترقی یافتہ ممالک تعلیمی شرح بڑھانے اور عوام میں اجتماعی شعور اُجاگر کرنے اور لوگوں کو تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں انہی معاشروں کو باوقار مقام حاصل ہوا ہے جنہوں نے تعلیم کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اسے ہم اپنی بدقسمتی ہی قرار دے سکتے ہیں کہ قیام پاکستان کے معجزے کو رونما ہوئے 71برس سے زائد بیت چکے ہیں مگر آج تک ہم یہ طے نہیں کرپائے کہ ہمیں کس نوعیت کا نظام تعلیم اختیار کرنا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ضرورت تھی کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد ملک کی نظریاتی بنیادوں اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام تیار کرکے اسے پورے ملک میں رائج کردیا جاتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے رہتے، لیکن ہمارے یہاں کے فوجی آمروں اور جمہوری حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے یکساں طور پر اس اہم ترین شعبے کو مسلسل نظرانداز کیا۔ جس کے باعث ملک میں آج کل رنگا رنگ تعلیمی نظام رواج پا چکے ہیں جو شتر بے مہار کی طرح اپنا دائرہ کار بڑھاتے چلے جارہے ہیں، اور قومی سطح پر ان کے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام موجود نہیں۔ چنانچہ تعلیمی شعبے کی اس زبوں حالی کے اثراتِ بد بھی تیزی سے سامنے آرہے ہیں۔
اسلام میں تعلیم کا حصول ہر مسلمان کیلئے لازم قرار دیا گیا ہے، مگر اسلام کے نام پر وجود میںآنے والی اس مملکتِ خداداد میں ’’علم‘‘ تو بہت بعد کی بات ہے، محض ’’خواندگی‘‘ کی شرح بھی شرمناک ہے۔ مگر اب بھی صورتِ حال یہ ہے کہ ملک میں پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے مجموعی طور پر 5 کروڑ 36 لاکھ بچوں میں سے 2 کروڑ 26 لاکھ بچے سکول جانے سے محروم ہیں۔ پنجاب کے 52 ہزار سے زائد سرکاری سکولوں میں بچوں کیلئے صرف ایک اُستاد ہے۔ 10 ہزار سے زائد سکولوں میں بجلی اور پانی میسر نہیں۔ 4350 سکول چار دیواری اور 2500 سے زائد بیت الخلاء کی سہولت سے محروم ہیں۔ ملک کے سب سے ترقی یافتہ صوبے کا یہ حال ہے تو دیگر صوبوں کی صورتِ حال کس قدر ناگفتہ بہ ہوگی، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔
بیرونی قوتوں کی ہمارے نظامِ تعلیم خصوصاً نصاب کے معاملے میں کھلی مداخلت بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔ بیرونی قوتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے عناصر پوری سرگرمی سے اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ پاکستان کی نئی نسل کو اعلیٰ اسلامی اقدار، تہذیبی روایات اور ثقافتی ورثے سے مکمل طور پر بے گانہ کردیا جائے، چنانچہ ان حوالوں سے پہلے سے نصاب میں موجود لوازمہ، خصوصاً قرآنی آیات، اسلامی تاریخ، دینی تعلیمات اور مثبت تہذیبی و ثقافتی روایات پر مبنی مضامین کو چن چن کر نصاب سے خارج کیا جارہا ہے، اور ان کی جگہ بے ہودگی، بے راہ روی اور نام نہاد ترقی پسندی کو فروغ دینے اور دین سے بے گانہ کرنے والے افکار و خیالات کو شاملِ نصاب کیا جا رہا ہے،نظام تعلیم کے حوالے سے یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ گزشتہ ربع صدی کے دوران نجی تعلیمی ادارے برسات کی کھمبیوں کی طرح وجود میں آگئے ہیں جنہوں نے حکومت کی جانب سے تعلیمی سہولتوں کے فقدان اور ناقص معیارِ تعلیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے معیاری تعلیم اور انگلش میڈیم کے نام پر دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے معیار اور میڈیم کے نام پر ایک جانب بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں اور دوسری جانب من پسند نصاب پر مبنی مہنگی کتب اور مخصوص یونیفارم لازمی قرار دے کر والدین کا مالی استحصال کرتے ہیں، اسی طرح آئے روز مختلف فنڈز کے نام پر بھی والدین کی جیبیں خالی کی جاتی رہتی ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ان تعلیمی اداروں کو کسی نظام اور نظم و ضبط کا پابند بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے انہیں من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل رہی ہے۔ یہ ادارے اساتذہ اور اسٹاف کو انتہائی کم معاوضے دے کر ان کا استحصال کرتے مگر خود آئے روز حیلوں بہانوں سے فیسوں میں اضافہ کرکے والدین کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے۔ بعض تعلیمی اداروں کے مالکان نے تو اس حد تک اندھیر مچا رکھا تھا کہ والدین کو فیس پاکستانی کرنسی کے بجائے امریکی ڈالروں میں ادا کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ نجی تعلیمی ادارے فروغ تعلیم میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر نے معیاری تعلیم میں پبلک سیکٹر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے تو جانبداری کے زمرے میں نہیں آئے گا والدین کا سرکاری تعلیمی اداروں کی بجائے نجی اداروں پر اعتماد بڑھا ہے تاہم بعض نجی تعلیمی اداروں نے لوٹ مار کا سلسلہ شروع کر رکھاہے۔ پیپر منی، اینول فیس، رجسٹریشن فیس، پروموشن فیس، ایڈمیشن فیس، ٹیوشن فیس، ٹرپ فیس، عمارت فنڈ، سپورٹس فنڈ، سکیورٹی فیس اور متفرق اخراجات سمیت پیسے بٹورنے کے کئی دوسرے راستے کھول لےئے گئے ہیں۔ اسی طرح سکول و کالج کے اندر ہی سکول مالکان نے سٹیشنری اور کنٹین کا کاروبار بھی شروع کر رکھا ہے۔ کتابوں، کاپیوں، یونیفارم اور کھانے پینے کی اشیاء بھی طالب علموں پر انتہائی مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔ اب تو فن فیئر، مینا بازار، سالانہ دن، یوم والدین، سمر کیمپ اور دوسری تقریبات کیلئے بھی طلبہ سے وصولی کی جاتی ہے۔ ملک بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے نئے تعلیمی سال کے آغاز اور میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے بعد طلباء کی فیسوں کے نام پر والدین کی چمڑی ادھیڑ دیتے ہیں۔ بیشتر تعلیمی ادارے ایک ایک بچے کی پندرہ، پندرہ ہزار سے زائد فیس وصول کر رہے ہیں۔ ہر سال اپریل سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے جس میں بچوں کے والدین سے مختلف فیسوں کی مد میں ہزاروں روپے بٹورے جاتے ہیں اور اس پورے عمل پر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور تعلیمی بورڈ میں قائم ریگولیٹری اتھارٹیز خاموش رہتی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کیلئے حکومت کی جانب سے ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے قانون سازی میں سست روی کے باعث مختلف مدوں میں بھاری فیسیں وصول کی جارہی ہیں۔ والدین کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کو فیسوں کے حوالے سے لگام دے گی لیکن اس وقت ملک کے تمام نجی ادارے طلباء کے والدین سے رجسٹریشن پروموشن ایڈمیشن اور دیگر مدمیں ہزاروں روپے کی فیس وصول کر رہے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی ملی بھگت سے سکولوں و کالجوں کے باہر مخصوص کتب خانوں سے یونیفارم کتب نوٹ بک اور سٹیشنری کی مد میں بھی والدین کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔ اس وقت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے موجودہ اور سابق ممبران کئی نجی تعلیمی اداروں کے مالک ہیں جس کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں کو لگام دینے کے حوالے سے حکومت کسی قسم کی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ بد قسمتی سے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ارباب اختیار اور تعلیمی بورڈ نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ مار روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان اداروں کے بچے بچیاں بھی سرکاری اداروں کے بجائے نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتیں تعلیم کے فروغ کیلئے کوششوں میں ضرور مصروف ہیں۔ یکساں نظام تعلیم لانے کی باتیں کر رہی ہے۔ باتوں تک ہی محدود ہے عملی طور پر صفر ہے، دراصل تعلیمی تبدیلی جذباتی نعروں اور دھرنوں سے نہیں بلکہ لوٹ مار روکنے سے ممکن ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو ضابطے میں لانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت اور انہیں اعتماد میں لینے کے بعد قانون بنا کر اسمبلی سے منظور کرا کے فی الفور اس پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ایسے سکولوں کی نشاندہی کی جائے جو مختلف مد میں طلباء سے بھاری بھرکم رقوم وصول کر رہے ہیں جبکہ ایسے تدریسی عملے کو تنخواہیں انتہائی قلیل دیتے ہیں۔

۔ اضلاع کے تناسب سے کم تعداد کے حامل بوردوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے یا پھر نجی تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں دوبارہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اضلاع کے دفاتر کو تفویض کر دی جائیں چونکہ محکمہ تعلیم کے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس موجود ہیں لہٰذا نجی سکولوں کو کنٹرول کرنے میں یہ دفاتر ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافے کو تعلیمی معیار اور اساتذہ کی تنخواہوں سے مشروط کیا جائے۔اوراہلِ فکر و دانش کی مدد سے ملک کی نظریاتی بنیادوں اور قومی تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب تیار کروایا جائے جو اسلامی تعلیمات اور قائداعظم و علامہ اقبال کے افکار کا آئینہ دار ہو اور پھر اس نصاب کی تدریس تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں لازم قرار دی جائے تاکہ نئی نسل میں فکری ہم آہنگی پیدا ہو، تمام بچوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آئیں اور قوم کو تعلیم کے نام پر طبقاتی تقسیم سے نجات مل سکے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •