Voice of Asia News

جدید دور میں تعلیم کی اہمیت:محمد قیصر چوہان

اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کامفہوم ہے علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر قبر کی گود تک، ایک اور جگہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پرفرض ہے۔ بحیثیت مسلمان اور انسان ہم سب پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر بچے اور بچی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ بہترین فرد بن کر ملک و قوم کیلئے نفع بخش انسان ثابت ہو امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے خدمات سرانجام دے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام مذاہب تعلیم و تربیت کی افادیت بیان کرتے ہیں، اسلام کی تو ابتداء ہی لفظ اقراء سے ہوئی ہے، ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف قرآن و سنت کی تعلیمات سے روشناس ہو اور دوسری طرف جدید علوم و فنون سے بھی آگاہی حاصل کرے حقیقت یہ ہے کہ علم روشنی ہے اور جہالت اندھیرا ہے، علم ترقی ہے، جہالت تنزنی ہے، علم نظم و ضبط ہے جہالت افراتفری ہے، علم امن ہے جہالت جنگ ہے، علم انصاف ہے جہالت ظلم ہے، علم سکون و اطمینان ہے، جہالت پریشانی اور بے چینی ہے۔ آج ہر طرف بلند و بالا عمارتیں، بڑے بڑے تعلیمی ادارے، کارخانے شاہراہیں دیکھ رہے ہیں سب علم کی بدولت ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت ہیں، اگرتاریخی پس منظر اور عصرحاضرکے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ جن قوموں نے تعلیم و تربیت کے میدان میں ترقی کی وہ قومیں سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی آگے رہیں،انہی قوموں نے تجارت میں بھی سبقت حاصل کی انہی قوموں نے کھیلوں کے میدان میں بھی فوقیت حاصل کی اور آج یہی قومیں خوشحال زندگی بسرکر رہی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا ملک تعلیمی لحاظ سے دنیا سے بہت پیچھے ہے۔اگر 22 کروڑ افراد عہد کر لیں کہ ناخواندگی ہی ہمارا دشمن نمبر ون ہے اور ہمیں مشترکہ طور پر جہالت کے خلاف میدان عمل میں نکلنا ہو گا خاص طور پر سیاسی جماعتوں کو بھی وہ عوامی شعور جگانے کیلئے عوام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے آگے آئیں، مارچ کریں، سیمینارز کااہتمام کریں، پوسٹر لگائیں، اعلانات کریں، گلی گلی محلے محلے یہ اعلانات کروائیں کہ بچے بچے کو سکول میں داخل کرنا ہے، کوئی بچہ بھی سکول اوقات کے دوران مزدوری نہ کرے، کوئی بھی سکول اوقات کے دوران گلی محلے میں نہ گھومے پھرے بلکہ ہربچہ بچی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں یہ کسی ایک فرد کی نہیں پورے معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
آج کے جدید دور میں تعلیم کی ضرورت اور اہمیت دو چند ہو گئی ہے، آج کا دور کمپیوٹر، ایٹمی ترقی، سائنس اور صنعتی ترقی کادور ہے، مگر سکولوں میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے انسان کو انسانیت سے دوستی کیلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی، عبادت، محبت، خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیداہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معاشرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔ تعلیم کے حصول کیلئے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو گیا بلکہ استاد وہ ہے جو طلبا و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگاہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ درس و تدریس کو بھی آلودہ کردیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیمات اور سکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہو گیا۔ کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قصر شاہی کی طرح قابض رہا ہے۔ جن کے نزدیک اس عظیم پیشہ کی قدر و قیمت کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے بد قسمتی اس بات کی بھی ہے کہ کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے ہمارے تعلیمی نظام کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کر رکھا ہے جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیا ہو۔ مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ موازنہ کیاجائے تو اندازہ ہو گا کہ آج یورپ تک کی جامعات میں مسلمانوں کی تصنیف کردہ کتابیں نصاب میں شامل ہیں۔
پاکستان میں لگ بھگ 2کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو چائلڈ لیبر کے طورپر کام میں مشغول کروا دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی دلچسپی کیلئے دیگر پروگراموں کو بھی ترتیب دے کر ان میں دلچسپی کا ساماں پیدا کیا جائے۔ تعلیم کے بارے میں دومختلف نظریات میں ایک بات مشترک ہے کہ تعلیم نیچے سے اوپر جانا ممکن بناتی ہے۔ لیکن جہاں پر دونوں نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں وہ یہ کہ تعلیم کس طرح ان اُمیدوں پر پورا نہیں اتر پاتی جن کو وہ جنم دیتی ہے۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیم اسٹیٹس اورطاقت کے سسٹم سے کس قدر گہرائی میں جڑی ہوئی ہے۔ ڈگریاں رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کو یہ سسٹم سرکاری نوکریوں میں رکھتا ہے جبکہ اعلیٰ تربیت یافتہ پروفیشلز بشمول ڈاکٹروں اور انجینئروں کو اعلیٰ بیورو کریسی کی طرف کھینچ دیتا ہے۔ لیکن تعلقات، رہنمائی، تربیت اور طاقت کے بغیر تعلیم ان کے اونچے طبقے میں شامل ہونے کے خواب پورا کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتی اور یہ تجربہ ان تحقیقات کو درست ثابت کرتا ہے جو دنیاکے دوسرے ممالک میں کی گئی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنا آسان بن چکا ہے لیکن جاب حاصل کرنا مشکل اور جیسا کہ محققین کاکہنا ہے کہ تعلیم خود سے عدم مساوات کا خاتمہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ بہت کم لوگ ہی تعلیم کی اہمیت سے انکار کریں گے۔ ظاہر ہے عام فہم کی بات سے اختلاف مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ تعلیم تمام مسائل کاحل نہیں ہے۔ تعلیم کے کئی نظاموں کی موجودگی اور اقتصادی ناہمواری کی وجہ سے پیدا ہوئی عدم مساوات پاکستان میں مخصوص شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کے رجحان پر سوالات اٹھاتے ہیں، مسئلہ ترقی کی کمی کا نہیں ہے، بلکہ طبقے اور طاقت کا ہے جو لوگوں کو ملازمت فراہم کرتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کے مقاصد کو واضح کریں اور اصل مرض کی طرف توجہ دیں۔ لارڈ میکالے کے مادہ پرستانہ اور سیکولر نظام تعلیم کے بجائے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو سامنے رکھ کر ہمیں ایسا تعلیمی نظام وضع کرنا چاہیے جو ہمارے افراد اور معاشرے کے درمیان پل کا کام انجام دے سکیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print