Voice of Asia News

امریکا ،اسرائیل، انڈیا کی دہشت گردی عروج پر: محمد قیصر چوہان

دُنیا کی تاریخ دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف بد ترین جرائم سے بھری پڑی ہے لیکن غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ موجودہ دورکی واحد سپر پاور امریکا کا عالمی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں جہاں براہ راست بہت نمایاں حصہ ہے وہیں دہشت گردی اور تخریب کاری کے اسباب پیدا کرنے اور دہشت گرد قوتوں کی سرپرستی بھی اس کی طویل تاریخ ہے۔امریکا نے جوہری اور روایتی مہلک اسلحے، زہریلی گیسوں اور کیمیکلز کے استعمال سے لاکھوں انسانوں کو قتل کیا ہے اسی طرح انسانوں کا قتل عام کرنے والی قوتوں کی سرپرستی بھی کی ہے لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ انسانیت کے خلاف اس کا بھیانک جرم یہ ہے کہ اپنے استبدادی انسانیت کش اقتصادی و معاشی نظام کے ذریعے اس نے دنیا کے بہت بڑے حصے کو اپنا غلام بنانے اور اقوام عالم کے ہر طرح کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے دہشت گردی شروع کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو رہے ہیں اور بھوک افلاس بد حالی، خوراک، صحت، تعلیم، رہائش کی سہولتوں سے محروم ہو کر غیر انسانی ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور سسک سسک کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔انسانیت کے خلاف جرائم میں فرعون، نمرود، چنگیز خان، ہٹلر، سوویت یونین کے مختلف سربراہوں، یہودیوں، ہندوؤں، سکھوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے دین اسلام اور مسلمانوں سے انڈیا، اسرائیل اور امریکا کی نفرت و عداوت کسی سے مخفی نہیں ہے ساری دنیا جانتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے تو جنوبی ایشیاء میں انڈیا اپنی اقلیتوں ( مسلمان، سکھ، عیسائی وغیرہ)کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو شدید مظالم کا نشانہ بنا رہا ہے جبکہ امریکا اپنے مفادات کی خاطر انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے۔ اسلام دشمنی، مسلم کشی اور انسانیت کی تذلیل کے حوالے سے تینوں ممالک کا مشترکہ ایجنڈاہے۔ دین اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کا آغازجہادِ افغانستان کی عظیم الشان فتح کے بعد شروع ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نیدین اسلام کو مغرب کیلئے سب سے بڑا خطرہ قراردیاتھا اور اس کے بعد مسلمانوں کے قتل عام کی باقاعدہ عالمی مہم شروع ہوئی۔ بوسنیا میں وحشت و دہشت کا بدترین مظاہرہ کیا گیا۔ الجزائر میں دیہات کے دیہات خون میں نہلا دیے گئے۔ عراق میں بچوں کا قتل عام ہوا۔ افغانستان کا رخ کیا گیا اور پھر قتل عام کیا گیا۔ عراق کا پھر رخ کیا گیا اور بم برسائے گئے۔ شام تباہ کردیا گیا۔ میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کی نسلیں مٹا دی گئیں۔ کشمیر و فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدت بہت بڑھ گئی۔ مغرب اور اْس کے فطری اتحادیوں نے حسبِ توفیق مسلمانوں کے قتل عام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلمانوں کے عالمی قتل عام پر تحقیقات ہوں تولاشوں کا شمار دشوار ہوجائے۔ بچوں اور عورتوں پر دہشت ناک حملوں کے حوالے سے شاید یہ تاریخ کا بدترین دور ہے۔ اس سب کے باوجود یہ جنونی مہم ہرگزرتے لمحے تیز ہورہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور حکومتیں اسلام دشمن پالیسیوں پر متفق ومتحد ہیں۔ یہ سب نہ کوئی راز ہے اور نہ ہی انکشاف ہے۔ تفصیل سے تحقیقات ہوجائے توکتب خانہ بن جائے۔
کشمیر اور فلسطین میں مسلمان آبادیوں پر زمین تنگ کردی گئی ہے۔یہود وہنود کی فوجیں نہتے مزاحمت کاروں سے ’’نمٹ‘‘ رہی ہیں۔ ظاہر ہے ہندوستان اور اسرائیل دونوں قابض ہیں، غاصب ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی جان، عزت اور املاک تینوں کا آئے دن استحصا ل کرتے ہیں۔ دونوں مقامات پر مقامی آبادیاں آزادی کی تحریکیں چلارہی ہیں، جوگوریلا یا انفرادی نیم مسلح مزاحمت سے زیادہ آگے نہیں جاسکتیں۔ پتھروں اورنعروں سے احتجاج کیا جاتا ہے، جس کا جواب اندھا دھند فائرنگ سے دیا جاتا ہے۔ یوں بہت سے نوجوان شہید ہوجاتے ہیں، بہت سارے زخمی ہوجاتے ہیں۔ پیلٹ گنوں کے ذریعے اب تک ہزاروں افراد کو نابینا بنایا جاچکا ہے۔انبیاء کی سرزمین فلسطین اورقبلہء اول بیت المقدس پر صیہونیوں کے ناجائز قبضے کو 71برس گزر چکے ہیں, 15 مئی 1948 کو دنیا پر ناجائز وجود پانے والی ریاست اسرائیل نے مسلمانوں کے قلب میں خنجر پیوست کر رکھا ہے۔ یہ کوئی آج کا قصہ نہیں ہے بلکہ 71 برس سے عالم اسلام کی اجتماعی بے حسی اور مظلوم فلسطینیوں سے مسلم حکمرانوں کے منافقانہ رویوں کی طویل اور درد ناک داستانوں سے بھرا ہوا ہے تو دوسری طرف یہ 71برس ظلم و بربریت وحشت و درندگی کی قدیم و جدید تاریخ سے بھرپور اور سفاکیت کے انمٹ مظاہروں کی پر درد و خوفناک کہانیوں کے عکاس ہیں، ان 71 برسوں میں ارضِ مقدس فلسطین میں ہر دن قیامت بن کر آیا ہے، ہر صبح ظلم و ستم کی نئی داستان لے کر طلوع ہوئی، ہر لمحہ بے گناہوں کے خون سے، گھر بار، سڑکیں، بازار، مساجدو عبادت گاہیں، سکول و مدارس کو رنگین کرنے کا پیامبرین کر آیا ہے، ناجائز ریاست اسرائیل کے حکمرانوں نے ان 71 برسوں میں خون آشامیوں کی جو تاریخ رقم کی ہے اس کی مثال تاریخ کے صفحات بیان کرنے سے قاصر ہیں، کون ساظلم ہے، جو بے گناہ، معصوم اور مظلوم قرار دیے گئے ارض مقدس فلسطین کے باسیوں پر روا نہیں رکھا گیا، آج فلسطین کی دختر ان کی عزتوں کی پامالی کا حساب نہیں، کتابیں اوربیگ اُٹھائے سکول جاتے معصوم بچوں پر بموں کی یلغار اور گولیوں کی بوچھاڑ کے واقعات سے کئی دفتر مرتب ہو چکے ہیں، سنہرے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تعلیمی اداروں میں جانے والے، والدین کی امید، نوجوانوں کی خون میں لتھڑی لاشیں اور نوحہ و ماتم کرتی ماؤں اور بہنوں کی چیخ پکار اور نالہ و فریاد کے مناظر دنیا کے باضمیر انسانوں کو ہر روز جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افغانستان میں امریکی اور افغان فورسز کی درندگی نے کئی مسلمانوں کو شہید کیا جبکہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل، بشار فورسز، روس، امریکا اور دہشت گردی کے عالمی چمپئن امریکا کی تخلیق کردہ دہشت گرد تنظیم داعش اورکردوں کے اتحاد نے عراق وشام میں انسانی تہذیب تباہ کردی۔ برما جیسے اب میانمار کہا جاتا ہے بدھ مت کے پیرو کاروں کی سرزمین ہے میانمار میں گزشتہ کئی برسوں سے روہنگیا مسلمانوں پر جو ظلم و ستم جاری ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی جس کی وجہ واضح طور پر صرف یہی نظر آتی ہے کہ انہیں میانمار نے اب تک اپنا شہری تسلیم ہی نہیں کیا۔میانمار کی درندہ صفت فوج اور امن کے درس کا لبادہ اوڑھے بدھ مت کے پیروکاروں کے ہاتھوں بے بس و مجبور روہنگیا مسلمانوں کے بہیمانہ اجتماعی قتل عام کے مناظر نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انسانیت بھی شرم کے مارے اپنا منہ چھپائے اقوام عالم کے ضمیروں کو جگانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔
پوری دُنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے ، اس حوالے سے سب سے افسوسناک کردار مسلم خصوصاً عرب ممالک کی حکومت کر رہی ہیں۔غیرت و حمیت سے عاری ان مسلم حکمرانوں میں اتنی بھی جرأت نہیں ہے کہ وہ پوچھ سکیں کہ آخر مسلمانوں کا خون کیوں بہایا جا رہا ہے؟ کیا مسلمان انسان نہیں ہیں؟ لیکن یہ سوال بھی کون کرے جب ہمارے اپنے ہی حکمران عالم کفر کے ایجنڈے پر چلتے ہوں اور اپنے اقتدارکیلئے اپنوں کو بھی مارنے سے نہ چوکتے ہوں تو پھر شکوہ کس سے کریں؟ فلسطین ہو یا کشمیر، شام ہویا چیچنیا، افغانستان ہو یا عراق، تیونس ہو یا میانمار کے مظلوم مسلمان، ہر جگہ مسلمانوں ہی کا خون بہہ رہا ہے، مسلمانوں ہی کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ عالم اسلام کے 57 ممالک سالہا سال سے زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھ پائے، زیادہ سے زیادہ اپنی اپنی پارلیمنٹ میں مذمتی قرار داد پاس کرالی اور ایک بیان دے دیا کہ ہم مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہیں کسی اسلامی ملک میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ کہہ سکے کہ اگر تم باز نہ آئے تو پھر میدان جنگ میں فیصلہ ہو گا۔ کسی بھی اسلامی ملک نے یہ نہیں کہا کہ بھارت کشمیر میں 71 سال سے ظلم کر رہا ہے اورحق خوداردیت مانگنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے، روزنوجوانوں کو بھارتی فوج قتل کر رہی ہے۔ اسی طرح فلسطین میں اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر قبضہ کیا ہوا ہے اورزبردستی فلسطینی بستیوں پر قبضہ کر رہا ہے جہاں مسلمانوں کو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں لیکن اس ظلم کے آگے کوئی نہیں بولتا، کوئی اسلامی فوج حرکت میں نہیں آتی۔ دین اسلام کے پیروکار سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم کو یاد کر رہے ہیں کہ کوئی تو مسلم حکمران اور اس ملک کا سپہ سالار ان غازی اور شہیدوں کا کردار ادا کرے گا مگر ہمارا مذہبی طبقہ بھول جاتا ہے کہ جو حکمران تعلیمی نصاب میں سلطان صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم کو برداشت نہ کرتے ہوں اور ان کے کارناموں اور جہادی زندگی کو نصاب سے نکال کر مغرب کو خوش کرتے ہوں، وہ مظلوم مسلمانوں کی مدد اور اُمت مسلمہ کے اتحاد کیلئے بھلا کیا کردار ادا کریں گے۔مسلمانوں پرہونے والا ظلم وستم اقوام متحدہ آنکھیں بند کر دیکھ رہا ہے ایسے اداروں کو فوراً بند ہو جانا چاہیے جہاں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے شرمناک واقعات کی کھلی اجازت دے دی جائے اور جہاں کسی عیسائی، یہودی یا پھر کسی غیر مسلم کے جسم پر کوئی خراش بھی آئے تو اقوام متحدہ فوراً آنکھیں کھول کر بیدار ہو جاتا ہے اور افغانستان ، کویت، عراق پر حملوں کی اجازت دے دیتا ہے۔ ایسے اداروں کو بلا تفریق اور بلا رنگ و نسل انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف سراپا احتجاج بن جانا چاہیے مگر اقوام متحدہ صرف مسلمانوں کو کچلنے اور ان کو ایک دوسرے سے لڑانے کی سازشوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print