Voice of Asia News

سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے وزارت خارجہ کا اجلاس

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت میں الیکشن ہونے تک پاکستان کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے، نریندر مودی سے متعلق وزیر اعظم کے بیان کو غلط انداز سے پیش کیا گیا ، کرتارپور راہداری منصوبے سے متعلق بات چیت کے دوسرے مرحلے میں بھارتی صحافیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو شرمندہ کا سامنا کرنا پڑااور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو سفارتی طورپرتنہا کرنے کا خواب ادھوراہ رہ گیا ، متحدہ عرب امارات کے ساتھ قیدیوں کی رہائی پر بات جاری ہے اور رمضان المبارک کے مہینے میں یو اے ای سے خوشخبری ملے گی۔سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی وزارت خارجہ کا اجلاس میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جیل میں پاکستانی سزا پوری کرنے کے باوجود رہا نہیں ہو رہے، اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کمیٹی کو بتا یا کہ سزا پوری کرنے والے پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں، یواے ای کے علاوہ سعودی عرب سے بات ہوچکی ہے جہاں سے 2107 قیدی رہا ہوں گے جب کہ یو اے ای کے ساتھ قیدیوں کی رہائی پر بات جاری ہے، ماہ رمضان میں یو اے ای سے خوشخبری ملے گی۔اجلاس کے دوران پلوامہ واقعہ کے بعد وزارت خارجہ کی جانب سے دنیا کو موبلائز کرنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے دوران میں یو این سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں تھا، ہم نے سب سے پہلے پلوامہ واقعہ کی مذمت کی تاہم بھارت نے 10 منٹ میں پاکستان پر الزام عائد کیا، دنیا کو بتایا کہ بھارت نے بغیر تحقیق کے پاکستان پر الزام عائد کیا، سرحدوں کی خلاف ورزی پر سفیروں کو بریفنگ دی، یو این سیکرٹری جنرل کو بھارتی ردعمل پر خط لکھا اور دنیا کو بتایا کہ بھارت معاملے کو غلط رنگ دے رہا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کو تعاون کی پیش کش کی، نیپال ترکی چین سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ نے رابطہ کیا، او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس پاکستان کے کہنے پر بلایا گیا، بھارتی وزیر خارجہ کو بلانے کے فیصلے پر پارلیمنٹ کے فیصلے پر او آئی سی اجلاس میں شرکت نہیں کی جب کہ او آئی سی نے کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف قرارداد بھی منظور کی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ کے قونصلر آفس کا اچانک دورہ بھی کیا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اچانک دورہ کا مقصد سائلین کے مسائل سے آگاہی حاصل کرنا تھا، خوشی ہے کہ کسی شخص نے افسران کے رویے اور کرپشن کی شکایت نہیں کی، عوام الناس کی سہولت کے لیے جلد مزید اقدامات کریں گے۔سینیٹر مشاہد اللہ کی جانب سے بیرونی ممالک میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں کی جانب سے پارلیمنٹرینز کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے متعلق کمیٹی نے وزارت خارجہ کو طریقہ کار (ایس ، او، پی) وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے بیا ن سے متعلق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ٹویٹ کو بین الاقوامی میڈیا نے غلط رنگ میں پیش کیاہے ۔پاکستان بھارت میں الیکشن کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے ساتھ تعلقات جاری رکھے گی۔پاکستان کسی پارٹی یاسیاسی شخصیت کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہاکرنے کا فیصلہ حکومت نے کیا تھا، شاہ محمود قریشی کا مزید کہناتھا کہ پلوامہ واقعے میں صرف ایک ہی بھارتی پائلٹ کو پاکستان نے حراست میں لیا تھا جسے بعد ازاں رہا کردیا گیا ، اس کے علاوہ کوئی دوسرا پائلٹ پاکستان میں نہ ہی آیا تھا اور نہ ہی زیر علاج تھا، البتہ پاکستانی ایئرفورس نے دوبھارتی جہازوں کو مار گرایا تھا ۔کمیٹی نے وزارت خارجہ کیلئے بیرونی ممالک میں پاکستان کے مثبت تاثر کو پیش کرنے کیلئے خصوصی فنڈز کی تجویز پیش کی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •