Voice of Asia News

وزارت اطلاعات نے ایم ڈی پی ٹی وی کو عہدے سے ہٹا دیا

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) وزارت اطلاعات ونشریات نے ایم ڈی پی ٹی وی کو عہدے سے ہٹا دیا، ان کی جگہ کرنل (ر) حسن کو ایم ڈی کا چارج دے دیا گیا ہے،ایم ڈی پی ٹی وی کو یونین اختلافات کے باعث ہٹایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراطلاعات فواد چودھری نے بالآخر ایم ڈی پی ٹی وی کو ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کق ثابت کیا کہ وہ بے بس وزیر نہیں ہیں، بلکہ اپنے زیرتحت محکمے پر انہیں مکمل اختیار حاصل ہے۔لہذا ایم ڈی پی ٹی ارشد خان کی جگہ کرنل (ر) حسن کو نئے مینجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی کا چارج دے دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرفواد چودھری کا کہنا ہے کہ ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔نئے ایم ڈی پی ٹی وی کیلئے 42درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ایم ڈی پی ٹی وی کیلئے مروجہ طریقہ کار پر عمل ہو رہا ہے۔واضح رہے ایم ڈی پی ٹی وی کو ہٹانے سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے معان خصوصی نعیم الحق اور وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کے درمیان اختلافات بھی رہے، نعیم الحق ایم ڈی کے حق میں جبکہ وزیراطلاعات خلاف تھے۔جس پر دونوں میں کئی بار لفظی گولہ باری بھی ہوئی ، لیکن اب وفاقی وزیراطلاعات کی ہدایت ہر ایم ڈی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی انتظامیہ گزشتہ 47دنوں سے ساکت ہے، پی ٹی وی یونین کے دھرنے کے باعث ایم ڈی پی ٹی وی اپنے دفتر نہیں جا پا رہے ، اس ساری صورتحال سے وزیراعظم آفس کو آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کی تقرری کے لئے اشتہار جاری کیا گیا جس پر 42امیداروں نے درخواستیں دیں ہیں،نئے ایم ڈی کی تقرری کے امور پر غور جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے عطاء الحق قاسمی کیس میں فیصلے کے برعکس قائمقام ایم ڈی پی ٹی وی کا چارج دیا گیا۔ انہوں نے کہا ہر آنے والے دن پی ٹی وی کے خسارے میں اضافہ اورایم ڈی پی ٹی وی کی جانب سے یونین پر مجوزہ پابندی اور ایک سویئپر کو برطرف کرنے سے ادارے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کی موجودہ انتظامیہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے بزنس پلان دینے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور سینٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ایم ڈی پی ٹی وی کو ہدایات دیں کہ وہ پی ٹی وی یونین کے ساتھ بیٹھے اور معاملے کو حل کریں لیکن تا حال ایم ڈی پی ٹی وی نے ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے