Voice of Asia News

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی قائم مقام صدر بننے کے اہل اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے کی قائم مقام صدر بننے کی اہلیت سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی اور درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو قائم مقام صدر بننے کے لیے اہل قرار دے دیا۔یاد رہے کہ چیئرمینسینیٹ کی قائم مقام صدر بننے کی اہلیت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار کا کہنا تھا صادق سنجرانی کی اس وقت عمر تقریبا 40 سال ہے، آئین میں صدر بننے کے لیے عمر 45 سال ہے، صادق سنجرانی نے قائمقام صدر کا عہدہ سنبھالا تو آئینی بحران پیدا ہوگا، صدرمملکت کی عدم موجودگی میں صدر مملکت کی ذمہ داریاں کون نبھائے گا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ صادق سنجرانی کو قائم قام صدر کی ذمہ داریاں نبھانے سے روکا جائے، آرٹیکل 41 کے تحت چئیرمین سینٹ کا انتخاب دوبارہ کیا جائے۔ جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ 12 مارچ کو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں کے حمایت یافتہ ا?زاد امیدوار صادق سنجرانی کامیاب ہوئے تھے اور انہیں 57 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔خیال رہے میرصادق سنجرانی 14اپریل 1978ء کوبلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم نوکنڈی میں حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ ان کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے فوری بعد ان کی عمر سے متعلق آئینی بحث چھڑ گئی تھی۔

image_pdfimage_print