Voice of Asia News

کارکردگی پر وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ بچھاڑ کا فیصلہ

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)وزیراعظم عمران خان نے کارکردگی پر اسد عمرکو وزارت خزانہ سے ہٹا کر وزارت پٹرولیم جبکہ وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی کی جگہ اعجاز شاہ کو ذمے داریاں دینے کا فیصلہ کیا ہے. تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزرا کی کارکردگی پر نظرثانی کا انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے پانچ وفاقی وزارتوں کے قلمدانوں میں ردوبدل کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیر خزانہ، داخلہ اور پٹرولیم کے وزرا کے قلمدان تبدیل کئے جائیں گے۔نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ اسدعمر کو وزارت خزانہ اور وزیر پٹرولیم غلام سرور سے قلمدان واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا، اسدعمرکو وزارت خزانہ سے ہٹا کر وزارت پٹرولیم دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزارت خزانہ کیلئے ٹیکنو کریٹ مشیر تعینات کئے جانے کا امکان ہے جبکہ وزارت کا قلمدان وزیراعظم اپنے پاس رکھیں گے. وزیر مملکت داخلہ شہریارآفریدی کی جگہ اعجاز شاہ کو ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ متوقع ہے جبکہ چیئرمین ایف بی آرکوعہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے فیصلہ وزرا کی کارکردگی کومدنظر رکھ کرکیاگیا ہے ، ریلوے، توانائی، مواصلات کے وزیروں کی کارکردگی اچھی رہی. یاد رہے 29 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے وزارتوں کی کارکردگی کا سہ ماہی جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی، جس میں نومبر2018 سے اب تک کی کابینہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا. اس ضمن میں کابینہ میں شامل تمام وزیروں کو متعلقہ محکموں کی تیاری کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا، وزارتوں کو رپورٹ پر بریفنگ کے لیے 30 منٹ کا وقت دیا جائے گا، جس کے بعد وزیر اعظم وزرا سے سوال جواب بھی کریں گے خیال رہے کہ حکومت نے سو دن پورے ہونے پر کابینہ اراکین کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا، جس کے تحت تمام وزیروں نے رپورٹس وزیراعظم کو ارسال کی تھیں. رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ تمام وزرا کی کارکردگی مجموعی طور پر بہتر رہی جبکہ وفاقی وزیر مراد سعید اور شیخ رشید کے اقدامات قابل ذکر رہے تھے. دونوں وفاقی وزراء نے سو روزہ اہداف بر وقت مکمل کیے ، شیخ رشید نے وزارت میں 2 ارب ،مراد سعید نے 3 ارب سے زائد کی آمدن کا ریکارڈ بنایا تھا۔سفارت کاری اور غیر ملکی رابطوں کے حوالے سے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کارکردگی بھی شاندار رہی تھی جبکہ وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی تجاوزات کے خلاف آپریشن اور سرکاری اراضی واگزار کرانے میں سرفہرست تھے. اسی طرح وفاقی وزیر آبی منصوبہ بندی فیصل واوڈا نے بھی مطلوبہ اہداف حاصل کر لئے تھے، 40 روزہ وزارت میں داسو ڈیم اور پانی چوری کی روک تھام کے لئے ہنگامی اقدامات کئے گئے اور ملک میں پہلی بار صوبوں کو ٹیلی میٹرز کی تنصیب پر راضی کیا گیا تھا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس 16 اپریل کو طلب کرلیا ہے ، جس میں 17نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا، ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے حوالے سے تجاویز سمیت 17نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا. ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا جائیگا، کابینہ سیزن 2018 اور 2019 کیلئے گندم خریداری کی منظوری دیگی جبکہ ملک میں موجود وفاق کی فارغ جائیدادوں کی فروخت کا جائزہ بھی لیا جائیگا۔اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیمات یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے حوالے سے تجاویزبھی دیگی. کابینہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ایجوکیشن کی ڈیپوٹیشن میں توسیع اور فیڈرل لینڈ کمیشن کی چیئرمین کی تعیناتی کی منظوری بھی دیگی جبکہ بلغاریہ اورپاکستان کے ادارے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور پاک بوسنیا جوائنٹ اکنامک کمیشن کے قیام کے پیشگی فیصلہ کی منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔اس کے علاوہ کابینہ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت صوبائی کاوئنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکوشن ایجنسی بنانے کی منظوری کا بھی امکان ہے. یاد رہے 9 اپریل کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدرات وفاقی کابینہ میں ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق کی تھی جبکہ وزیراعظم نے فیصلوں پر عملدرآمدیقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

image_pdfimage_print