Voice of Asia News

دوردرازبھارتی جیلوں میں کشمیری نظربندوں کی منتقلی کی شدید مذمت

سرینگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیرمیں حریت رہنماء مشتاق الاسلام نے کشمیری سیاسی نظربندوں کی سرینگر سے ہریانہ اور دیگر بھارتی ریاستوں کی جیلوں میں منتقلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مشتا ق الاسلام نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ جیل انتظامیہ نظربندوں کے بارے میں عدالتی احکامات پر ہر گز عمل درآمد نہیں کرتی اور نظربندوں کو بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مشتاق الاسلام نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی رفتاری اور انہیں نئی دلی کی تہاڑ جیل منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک دہائی پرانے جھوٹے مقدمے میں یاسین ملک کی گرفتاری انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے ہریانہ جیل میں امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحامد فیاض ، جمعیت اہلحدیث کے نائب صدر مولانا مشتاق احمد ویری اور درجنوں دیگر نظربندوں کو قید تنہائی میں رکھنے پر بھی افسوس ظاہر کیا۔ حریت رہنماء نے کہاکہ کشمیری نظربندوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے دوردراز جیلوں میں منتقل کیاجارہا ہے تاکہ انہیں اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی ترک کرنے پر مجبور کرنے کیا جاسکے ۔انہوں نے غیر قانونی طورپر نظربندسینئر حریت رہنماء شبیر احمد شاہ کی نوعمر بیٹیوں کو بھی این آئی اے کی طرف سے نوٹس جاری کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین ریاستی دہشت گردی قراردیا۔a

image_pdfimage_print