شیشے کی درآمد پرپابندی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں ، عامر محمود کیانی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) وفاقی وزیر صحت عامر محمود نے کہا ہے کہ شیشے کی درآمد پرپابندی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں،اسلام آباد میں 214 پبلک مقامات اسموک فری ہیں،نوجوانوں میں تمباکوکے استعمال کی شرح10.7فیصد ہے، تعلیمی اداروں میں سگریٹ نو شی کے خاتمے کویقینی بنانا اہم ہے،شہروں کی آلودہ فضاانسانی صحت پراثراندازہورہی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے کہا کہ اسلام آباد میں 214 پبلک مقامات اسموک فری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کوسگریٹ نوشی سے پاک بنانے کی کوشش کررہے ہیں، شیشے کی درآمد پرپابندی جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ نوجوانوں میں تمباکوکے استعمال کی شرح10.7فیصد ہے، تعلیمی اداروں میں سگریٹ نو شی کے خاتمے کویقینی بنانا اہم ہے۔سلام آباد میں فضائی آلودگی کے سدباب کے لیے متحرکیاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے اسلام آباد کی فضا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ آلودہ فضا شہریوں کو بیمار کرنے کا سبب بن رہی ہے۔عامر کیانی کا کہنا ہے کہ شہروں کی آلودہ فضاانسانی صحت پراثراندازہورہی ہے، شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک امراض کوجنم دے رہی ہے۔ اسلام آباد کی فضا میں آلودگی اہم ترین موسمیاتی مسئلہ ہے۔وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی کے باعث سالانہ 700بچے موت کا شکار بنتے ہیں، اسلام آباد کے صنعتی علاقوں میں فضا آلودہ ترین ہے، صنعتی سیکٹرزآئی9، آئی 10میں فضا آلودہ ہے۔