Voice of Asia News

کوئٹہ کا بم دھماکہ اور محنت کشوں کا خون ناحق:شوکت علی چوہدری

خوبصورت لوگوں اور حسین وادیوں کی سرزمین بلوچستان جس کا چپہ چپہ قدرتی خزانوں سے اٹا پڑا ہے۔جس کے ہاں ہر طرح کے موسم کا ہر روپ اتھٹی جوانیوں کی طرح انگڑاہیاں لیتا ہوا نظر آتا ہے جس کے سنگلاف میدانوں اور پہاڑوں کی مخصوص ہیبت اور کھردرا پن یہاں کے رہنے والوں کے مزاجوں کی چغلی کھاتا ہے۔مہمان نوازی اور محبت ان کے علاقے کا حسن ہے۔اس کے بغیر بلوچ ادھورا ہے۔پچھلے ہفتے مجھے پاکستان مزدور محاز بلوچستان کے صوبائی کنوینشن کے سلسلہ میں کوہٹہ جانے کا اتفاق ہوا۔اس سے قبل بھی پچھلے 20.15 سال میں مجھے کء مرتبہ بلوچستان جانے کا اتفاق ہوا اور ہر مرتبہ مجھے بلوچستان کے پختونوں اور بلوچوں کی محبت اور خلوص کے نئے نئے رخ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔مجھے اس پراپیگنڈہ نے کبھی بھی متاثر نہی کیا کہ بلوچستان کے رہنے والے محب وطن نہی ہیں اور وہ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔بلوچستان سرداروں کی سر زمین ہے جو بہت بااثر اور طاقت ور لوگ ہیں۔سارا بلوچستان ان ہی قبیلوں کے باشندوں پر مشتمل ہے اور ان کی بہت بڑی تعداد محنت مزدوری کر کے زندگی گزارتی ہے۔دولت مند اور بااثر سرداروں کی زندگیوں کا ان مفلوک الحال لوگوں سے کوئی موزانہ نہی کیا جاسکتا۔یہ بھیڑ بکریاں پالنے اور دن رات محنت مزدوری کرنے والے بلوچ اپنی دھرتی سے بہت محبت کرتے ہیں ان کو اپنی زبان اور ثقافت سے جنون کی حد تک عشق ہے وہ موسیقی کے رسیا ہیں اور اپنی علاقاء رسوم و رواج کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک دینے اور دوسروں کی جان تک لینے سے بھی گریز نہی کرتے۔لیکن مجموعی طور پر یہ سر تا پا محبت ہی محبت ہیں۔بلوچستان دنیا کے اس خطے میں واقعہ ہے جس کی شاہراہیں چین ,روس,افغانستان ،ایران اورشمالی ریاستوں کو آپس میں ملاتی ہیں اس کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تیل کی تجارت کا بہت بڑا حصہ اسی کے سمندروں میں سے گزرتا ہے۔ماضی میں بھی اس سرزمین کی اپنی ایک حیثیت اور شناخت رہی ہے اور آج بھی اس خطہ زمین کی افادیت و اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔گوادر کی بندرگاہ اور اس بندرگاہ کے ذریعے چین کا پوری دنیا سے اپنا تجارتی ربط قائم کرنا ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ ہے کہ جس نے اس خطہ کی افادیت و اہمیت کو ہزاروں گنا بڑ ھا ریا ہے۔بلوچستان کے پاس دنیا کے بہترین سمندری ساحل ہیں۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس خطہ زمین کو قدرت نے اپنی تمام تر نعمتوں سے نوازا ہے۔لیکن قدرتی وسائل سے مالا مال اس سر زمین کے باسی نہ صرف زندگی کی بنیادی ضرویات سے محروم ہیں بلکہ آے روز ان کو آگ اور خون کے دریاوں سے گزر کر اپنے پیاروں کی لاشیں بھی اٹھانا پڑتی ہیں۔ اس کا جغرافیہ ہی اس کے حسن وجمال کا رقیب بن گیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے سازشی اس سر زمین کے حسن کو ماند کرنے کے در پے ہیں۔ پنجاب سے بلوچستان کی طرف جاتے ہوے اس کی سرحدیں سندھ کے شہر جیکب آباد سے شروع ہو جاتی ہیں اور جیکب آباد ہی سے قانون نافز کرنے والے ادارے ہر ریل گاڑی اور دوسری ٹرانسپورٹ کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیتے ہیں۔اسی طرح پورے بلوچستان میں ہر سو کڑہ پہرا موجود ہے۔پاکستان جیسے کم وسائل رکھنے والے اربوں ڈالر کے مقروض ملک کے عوام مہنگائی کے کوڑوں کو اپنی کمر پر برداشت کرتے ہوے اس ملک کی محبت کا پورا پورا قرض ادا کرتے ہیں کہ یہ دھرتی سدا سلامت رہے۔لیکن ان کے یہ تمام خواب اس وقت چکنا چور ہو جاتے ہیں جب پتہ چلتا ہے کہ دست قاتل نے اپنی مکروہ چال چلتے ہوے نہتے بے گناہ اور مفلوک الحال لوگوں کو لہو میں نہلادیاہے۔وہ منظر دیکھے نہیں جاتے جب لواحقین کو اپنے پیاروں کے لاشے اٹھانا پڑتے ہیں اوریہ عمل تواتر سے جاری ہے۔اس ماہ کی گیارہ تاریخ کو کوئٹہ کی سبزی منڈی میں ایسا ہی ہوا اور بیس افراد اپنی جان سے گزر گے۔ ان میں قانون نافز کرنے والے بھی اپنی جان اس وطن پر قرنان کرنے میں کسی سے پیچھے نہی رہے اور ان کا تعلق بھی پاکستان کے غریب گھرانوں ہی سے ہوتا ہے۔لیکن ان مرنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق کوہٹہ میں مقیم ہزارہ برادری سے تھا۔ محنت مزدوری کر کے غم زیست کا بوجھ اٹھانے والوں کو ایسے صدمات سے بار بار دو چار ہونا پڑا ہے،ہربار حکمرانوں کی اس یقین دھانی پر کہ اب آہندہ ہم ایسے سانحات کو نہیں ہونے دیں گے وہ اپنے پیاروں کی لاشیں دفنا دیتے ہیں۔مجھے اس مرتبہ ہزارہ برادری کے ان دل گرفتہ لوگوں کے احتجاجی کیمپ میں جانے کا اتفاق ہوا،کیا کربلا کا منظر تھااپنے پیاروں سے جدا ہونے کا غم اپنی آنکھوں میں لیے مائیں،بہنیں،بیٹیاں غم کی تصویر بنی بیٹھی تھیںیہ منظر دیکھا نہیں جاتا تھا۔بلوچستان کی خوبصورت سر زمین میں ان خونی حادثات نے اداسی کے رنگ نمایاں کر دیے ہیں۔ان اداسیوں کا اثر نہ تو سرداروں کی حاکمیت پر پڑتا ہے اور نہ اسلام آباد کے حکرانوں کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے لیکن بلوچستان کے محنت کشوں کی فاقہ کشی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔پاکستان میں محنت کشوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور یہ بات بہت وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ پاکستان کے سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں کہ وطن کی محبت میں نہ صرف ہر ستم برداشت کرتے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی دن رات محنت کرتے ہیں لیکن ان محنت کشوں کو غم والم اور استحصال سے نجات دلوانے کو کوئی تیار نہیں۔ویسے تو یہ طے شدہ امر ہے کہ ہر کسی کو اپنی صلیب خود ہی اٹھانا پڑتی ہے اور محنت کشوں کو بھی اپنے حالات تبدیل کرنے کے لیے میدان عمل میں خود ہی نعرہ مستانہ لگانہ پڑے گا۔پاکستان کے چاروں صوبوں کے محنت کشوں کو یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ ظلم و بربریت کی ہر دیوار کو گرا دیں گے اور پاکستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا کر ہی دم لیں،یہ وقت کی سب سے بڑی پکار ہے۔

image_pdfimage_print