Voice of Asia News

حیات آباد میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل

پشاور(وائس آف ایشیا) پشاور کے علاقہ حیات آباد میںپولیس نے گذشتہ رات ایک مکان میں چھپے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جو 16 گھنٹوں تک جاری رہا۔ حیات آباد میں سیکورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن مکمل ہو گیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف 16 گھنٹے تک آپریشن جاری رہا۔وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز گھر کو کلئیر کروا رہی ہیں۔اس آپریشن میں 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا جب کہ ایک سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے۔شوکت یوسف زئی کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن تو مکمل ہو گیا ہے تاہم گھر میں ابھی بھی دھماکہ خیز مواد موجود ہے،بم ڈسپوزل اسکواڈ اس کو تلاش کر رہا ہے۔جلد ہی گھر کو کلئیر قرار دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ موٹر سائیکل میں نصب مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا جب کہ اس بارودی مواد پھٹنے سے عمارت گر گئی،آئی ایس پی آر کے مطابق پشاور حیات آباد میں فوج اور پولیس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔آپریشن دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر کیا گیا۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ حیات آباد فیز سیون میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا، اس دوران گھر کے اندر سے دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں اے ٹی ایس کا ایک جوان قمر عالم شہید ہوگیجب کہ ایک افسر اور سپاہی بھی زخمی ہوئے، دہشت گھردوں کی پناہ گاہ کے کمپاؤنڈ کو کلئیر کیا جا رہا ہے۔دہشت گردوں کی لاشیں تحویل میں لے کر شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔واضح رہے دہشت گردوں نے تین منزلہ عمارت میں پناہ لی ہوئی تھی جہاں سے وہ مورچہ بند کر سکیورٹی اہلکارں پر فائرنگ کر رہے تھے۔ذرائع سے بتایا کہ آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے نئی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت مکان میں چھپے دہشت گردوں کی صحیح معلومات اور ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے ڈرون کیمرے کی مدد حاصل کی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے آغاز میں ہی بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے دہشت گردوں کو مکان میں محدود کرتے ہوئے جلد ہی عمارت کی بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور کلیئر کروا لیے تھے۔

image_pdfimage_print